ارشد اسدی الحسینی

الله نے شیطان کو کیوں پیدا کیا؟

شیطان جیسے گمراه کرنے والے اور راستے سے بھٹکانے والے وجود کی خلقت کا کیا فلسفه هے؟ الله نے اسے کیوں پیدا کیا هے؟
پہلی بات تو یه هے که الله نے شیطان کو شیطان پیدا نہیں کیا هے۔ کیونکه وه سالوں (6هزار سال) [1] تک فرشتوں اور عبادت گزاروں کا ہمنشین تھا لیکن بعد میں اس نے اپنے اختیار سے سرکشی اور انحراف کی راه اپنالی اور الله کی رحمت سے دور ہوگیا۔
دوسرے یه که شیطان کا وجود ایمانداروں اور راه حق پر چلنے والوں کے لئے نقصان ده نہیں ہے بلکه ترقی اور کمال کا وسیله ہے؛ کیونکه ترقی و کمال ہمیشه تضاد اور مقابله کے ماحول میں حاصل ہوتے ہیں۔[2]
اس دنیا میں شیطان کا کردار اکسانے اور بہکانے کی حد تک ہے؛ یعنی شیطان انسان کو گمراہی اور انحراف کی طرف صرف دعوت دیتا ہے الله نے اس کو نفوس میں تصرف کی قدرت اور ان پر تسلط نہیں دیا۔ ’’ان لیس له سلطان علی الذین آمنوا و علی ربهم یتوکلون۔‘‘[3] ترجمہ:اور بے شک اس کو ان لوگوں پر تسلط نہیں ہے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسه کرتے ہیں۔ شیطان ان لوگوں سے بحث کرتا ہے اور کہتا ہے که ’’و ما کان لی علیکم من سلطان الّا ان دعوتکم۔‘‘ [4] ترجمہ:اور مجھے تمهارے اوپر کوئی اختیار نہیں تھا سوائے اس کے که میں نے تمهیں بلایا۔
قرآنی تعلیمات اس بات کی حکایت کرتی ہیں که انسان کی گمراہی میں شیطان کا رول صرف اکسانے اور بلانے کی حد تک ہے اور وه انسان کو جبرا گمراہی کی طرف نہیں کھینچتا؛ کیونکه انسان دو طرح کی دعوتوں کا مخاطب ہے ایک الله کی طرف سے اور دوسری شیطان کی طرف سے۔ اور انسان اپنے اختیار کے تحت ان دونوں میں سے کسی ایک کو اپناتا ہے۔ ہاں جو لوگ اپنے اختیار اور ارادے سے شیطان کی دعوت کو قبول کر لیتے ہیں اور اسی کو اپنے لئے نمونه سمجھتے ہیں اور اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں شیطان ان کے اوپر قابو اور تسلط حاصل کرلیتا ہے اور ان کو نابود کر کے رکھ دیتا ہے۔
’’انما سلطانه علی الذین یتولونه۔‘‘[5]ترجمہ:اس کا بس اور اختیار صرف ان لوگوں پر چلتا هے جو اسے دوست بناتے ہیں۔
حوالہ جات:[1] نهج البلاغه، خطبه قاصعۃ، ش234، نحل/100[2] بیستونی، محمد، شیطان شناسی از دیدگاه قرآن، ص17[3] نحل/99[4] ابراهیم/22[5] نحل/100

اپنا تبصرہ بھیجیں