Sajid Khan

میرے نا خدا وہی ہیں جو مجھے ڈبو رہے ہیں


زرد پتوں کا بن جومرا دیس ہے اک عجیب بے بسی کے المیے سے گزر رہا ہے ۔ ہم‎کبھی کبھی یہ سوچ کر بھی‎اپنے رنج کم کرتے ہیںکہ حساسیت کے اس عذاب میں ، اکیلے ہم نہیں‎بہت ہیں لوگ اور بھی‎بہت ہیں اپنے ہم سفر جو بے نیاز غم نہیں‎…جو کچھ ہوا اور جو کچھ ہونے جا رہا ہے وہ ناقابل یقین سا ہے۔ ملک میں جنتا نے جو کچھ بھی کیا وہ ایک منحوس خواب لگ رہا ہے۔ اس ساری صورت حال میں ملکی اداروں کا کردار بہت ہی مبہم رہا۔ پولیس کا کردار حسب سابق تھا۔ اس نے اپنی ہمیشہ من مانی کی اور عوام کے مفادات کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ اس وقت سیاسی جماعتوں کا اتحاد پاکستان کے اقتدار پر قابض ہے، ملکی مفادات کو خاطر میں نہیں لا رہا۔ ایک طرف ملک شدید مالی بحران سے دوچارہے ۔ دوسری طرف اس سرکار کے اخراجات کا کوئی انت نہیں۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب حالیہ وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ برطانیہ بے مصرف اور غیر ضروری سا لگا ہے‎۔ ‎برطانیہ کے بزرگ بادشاہ کی تاج پوشی کی تقریب’’ غلام ملکوں ‘‘کے ساتھ تجدید عہد کی تقریب تھی۔ کسی آزاد اور خود مختار ملک کا کوئی بھی صدر یا وزیر اعظم اس غیر ضروری تقریب میں شریک نظر نہ آیا۔ مگر ہمارے وزیر اعظم شہباز شریف اس دعوت خاص میں گئے اور ایک پنتھ کئی کاج والے محاورہ کےمصداق کئی دیگرمعاملات بھگتاتے رہے ۔ سب سے اہم کام ان کے نزدیک” بائو جی “سے ملاقات تھی۔ ان کو بائوجی المعروف نواز شریف کی ترش گفتگو بھی سننا پڑی۔ انہوں نے واضح کر دیا کہ تمہارے عسکری دوستوں اور مہربانوں نے اپنے وعدوں کی تکمیل نہیں کی اور نہ ہی تم خصوصی قانون سازی کروا سکے ہو،جو میرے لئے کار آمدثابت ہو سکیں۔ ‎یہ ملاقات خلوص اور الفت سے عاری رہی، میاں نواز شریف کو یقین دہانی کروادی گئی کہ آنے والے دنوں میں قانون کے ذریعے ان کے مطالبات کو پورا کیا جائے گا۔
پاکستان اس وقت شدید مالی اور معاشی مشکلات سے دوچار ہے اور ہمارے دوست ممالک بھی اس صورت حال سے لاتعلق سے نظر آ رہے ہیں۔ آئی ایم ایف اورہمارے خصوصی دوست اور مہربان ملک امریکہ کے تیور بھی بدلے بدلے نظر آ رہے ہیں۔ امریکی بھی اس وقت عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں۔ یہ ان کی مجبوری ہے۔ ان کو اندازہ ہے کہ پاکستان میں شفاف انتخابات میں ماضی کی سیاسی اشرافیہ کا جنازہ نکل سکتا ہے۔ اس بار امریکہ بہادر افواج پاکستان کو بھی نظر انداز کر رہا ہے۔ اگرچہ موجودہ سپاہ سالار امریکی حمایت کے بعد ہی چین کی یاترا پر گئے تھے اور چین بھی پاکستان میں سیاسی استحکام چاہتا ہے۔‎وزیر اعظم پاکستان کے دورہ برطانیہ میں ان کے ساتھ کابینہ کے اہم رکن خواجہ آصف جو وزیر دفاع بھی ہیں ، لندن کے مہنگے ترین ہوٹل میں قیام پذیر تھے اور ان کے اخراجات حکومتِ پاکستان ادا کرتی رہی جب کہ ملک شدید سیاسی اور معاشی بد حالی کا شکار ہو ایسے میں وزیر دفاع خواجہ آصف کا دورہ برطانیہ کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتا ۔ ہاں ایک بات ضرور ہے بزرگ بادشاہ کی تاج پوشی کے جشن میں پاکستان کی افواج کے لوگ بھی اپنے وزیر کی ہدایت پر شریک ہوئے تھے اور ان کے اخراجات ایسے میں کچھ مناسب معلوم نہیں ہوتے۔ برطانیہ نے ابھی تک پاکستان کو مکمل آزاد نہیں کیا۔ ہم اب تک کامن ویلتھ کے رکن ہیں مگر رکن ہونے کے ناطے ہمارے ساتھ برطانیہ کا سلوک کبھی اچھا نہیں رہا۔ وہ ہمارا اچھا دوست نہیں ہے وہ امریکہ کو بھی ہمارے بارے میں اپنی رائے سے مطلع کرتا رہتا ہے۔ امریکہ اور برطانیہ یورپی یونین کی سیاست میں اپنی علیحدہ حیثیت میں سیاست کرتے نظر آتے ہیں۔‎اس وقت پاکستان کی سیاست شدید خلفشار سے ‎دوچارہے۔ کوئی بھی کسی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں اور جو سرکار ہے وہ عوام کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے۔ دنیا میں پٹرول سستا ہے مگر ہمارے ہاں مہنگا ترین ہے پھر عام اشیاءپر پرائس کنٹرول نہیں ہے۔ ہماری سیاسی اشرافیہ اور نوکر شاہی کے گٹھ جوڑ نے عوام کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ سیاسی اشرافیہ کا قول کچھ ایساہے کہ ’’لہجے میں شمشیر نکالی، باتوں میں خنجر لے آئے‎‘‘اس وقت پاکستان میں اہم ادارے آپس میں بھی بدگمانی کا شکار ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ پر نامکمل قومی اسمبلی جس قسم کی تنقید کر رہی ہے اور ممبران جس طریقہ سے اعلیٰ عدلیہ پر رائے زنی کرتے نظر آتے ہیں اس سے اعلیٰ عدلیہ کا وقار بھی مجروح ہو رہا ہے اور آئین کے اصول بھی نظرانداز ہو رہے ہیںبلکہ قومی اسمبلی کے مطالبات نے آئین کو مشکوک کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نظرانداز کیا جارہا ہے اور حالیہ دنوں میں کابینہ نے جو کردار ادا کیا ‎ہےوہ بڑا معنی خیز ہے۔‎آخر یہ سب کچھ ہمارے گردو پیش ہو رہا ‎ہے۔ کیا جمہوریت سے اس کا علاج ہو سکے گا اور انتخابات کے جو نتائج ہماری اشرافیہ چاہتی ہے اور وہ اس کیلئے عسکری دوستوں کی معاون ہے اور نوکر شاہی بھی ان کے ساتھ ہے اگر ان کو مطلوبہ نتائج نہ مل سکے تو عوام پر ستم جاری رہے گا اور جمہوریت کا چہرہ بھی مزید مشکوک ہوگا ۔
ہماری نامکمل قومی اسمبلی کا کردار آئین کی روح کے منافی نظر آرہا ہے۔ ایسے میں متاثرین میں اہم حیثیت عوام کی ہے۔عوام کیلئےمشکلات ہی مشکلات ہیں۔ وہ ابھی تک اشرافیہ کے وعدوں پر جی رہے ہیں۔ مگر ملک کی خاصی بڑی آبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے۔ ہم ان کے مستقبل کیلئےکچھ نہیں کر رہے اور اس کی وجہ سے ملک میں شدید بے چینی ہے۔ ہماری سرکارکیوں پاکستان کو ایک ناکام ریاست بنانے پر تُلی دکھائی دیتی ہے کہ حالات ایسے ہیں کے کل کا کوئی اعتبار بھی نہیں کر سکتا۔‎
وعدوں کا ایک شہر تھا ‎جس میں گزر رہے تھے دن‎
آنکھیں کھلیں تو دور تک پھیلے ہوئے سراب تھے‎
ایک تھا موسمِ وفا جس کی ہمیں تلاش تھی‎
اپنے نصیب میں مگر، اور ہی کچھ عذاب تھے

اپنا تبصرہ بھیجیں