ارشد اسدی الحسینی

جشن مناؤ

کوفہ ایک بار پھر فتح ہوا. مصعب ابن زبیر تخت پر براجمان ہوا.اس کے سامنے مختار ثقفی کا سر کاٹ کر لایا گیا. اس نے فرمان جاری کیا کہ جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا. دربار میں بیٹھا ایک بوڑھا مسکرا دیا. مصعب نے دریافت کیا:کیوں ہنستا ہے بڈھے؟ بوڑھے نے کہا : ماضی یاد آگیا.حال سامنے ہے. مستقبل آدھا دکھائی دے رہا ہے.
مصعب نے حکم دیا کہ تفصیل سےبتاؤ۔
بوڑھے نے بولنا شروع کیا : یہی دربار تھا. عبیداللہ ابن زیاد تخت پر بیٹھا تھا. حسین ابن علی کا سر لایا گیا.ابن زیاد نے کہا جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا. ہم نے جشن منایا. ایک بار پھر یہی دربار تھا. جس مختار ثقفی کا سر تیرے تخت کے نیچے پڑا ہے یہ اسی تخت پہ بیٹھا تھا. ابن زیاد کا سر کاٹ کر لایا گیا.مختار ثقفی نے فرمان جاری کیا جشن مناؤ،دشمن اسلام مارا گیا.ہم نے جشن منایا. آج وہی دربار ہے. تو تخت نشین ہے. مختار ثقفی کا سر لایا گیا ہے,تیرا حکم ہے جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا. ہم آج بھی جشن منائیں گے. کل بھی یہی دربار ہوگا، یہ تو نہیں جانتا کہ تخت پر کون بیٹھا ہوگا. لیکن اتنا پتہ ہے کہ سر تیرا ہوگا اور فرمان جاری کیا جائے گا، جشن مناؤ، دشمن اسلام مارا گیا اور ہم جشن منائیں گے.
بوڑھے کی پیشگوئی کے عین مطابق کوفہ کے دربار میں عبدالملک بن مروان کے سامنے مصعب بن زبیر کا سر پیش کیا گیا اور اس نے جشن منانے کا حکم دیا۔ کسی نے بوڑھے کی بات کا عبدالملک بن مروان کے سامنے ذکر کیا تو عبدالملک بن مروان نے فوراً دربار کی عمارت کو گرانے اور دربار کو کوفہ کے کسی اور علاقے میں تعمیر کرنے کا حکم دیا۔
تاہم عبدالملک بن مروان نے بھی صرف اپنے سر کٹنے کے خوف سے صرف عمارت بدلی مگر نظام نہ بدلا نظام ظلم و جبر پر مشتمل رہا گردنیں کٹتی رہیں عوام بنیادی انسانی حقوق سے محروم رہے ۔ پھر جب عالم اسلام کے عظیم ہیرو عمر بن عبدالعزیز میدان میں آئے تو انہوں ظالم نظام کی عمارت کو گرا کر نیا نظام رائج کیا ظلم و جبر پر مشتمل پورا سسٹم بدل کے رکھ دیا عدل و انصاف کا ایک بار پھر بول بالا ہوا اور عوام خوشحال ہو گئے

مجھے سیاست کی سمجھ تو نہیں ہے.نہ مجھے اتنا پتہ ہے کہ سیاسی ایوانوں میں کیا ہوتا ہے؟
عدلیہ کے فیصلے کس طرح اور ہو تے ہیں؟ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے کیس کا فیصلہ 8سال میں کیوں نہ ہو سکا؟
اسٹیبلشمنٹ کیا کردار ادا کر تی ہے؟
مجھے کچھ نہیں پتہ.
لیکن اتنا مجھے ضرور پتہ ہے کہ
بھٹو گیا ضیا آیا۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
ضیا الحق کا جہاز تباہ ہوا۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
بے نظیر کی حکومت گری۔۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
نواز شریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
مشرف آیا. نواز شریف اور بے نظیر دونوں کو جلاوطن کر دیا۔۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
دونوں واپس آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
مشرف گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
گیلانی حکومت ختم ہوئی۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
نواز شریف حکومت ختم ہوئی۔۔۔۔۔ ہم نے جشن منایا
اب ایک بار پھر ہم جشن منا رہے ہیں۔اب اگلا جشن بھی ہوگا۔سب کو معلوم ہے اگلی بار سرکس کا ہو گا ۔لیکن یہ پتا نہیں کب ، کیوں اور کیسے۔ تو کیا ہم بحیثیت قوم چاہے کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں، مہرے بدلنے پر صرف جشن مناتے رہیں گے۔۔اس استحصالی نظام کو گرانے کے لئے کبھی نہیں سوچیں گے… تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ طاقتور اشرافیہ نے نظام کو اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ڈیزائن کیا ہے وہی مشق پاکستان میں ہوئی ہے اس نظام میں غریب اور عام آدمی کے لئے کچھ نہیں ہے
کیا ہم سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ؟ اگر رکھتے ہیں تو سوچتے کیوں نہیں ؟؟؟؟؟؟؟ اندھی تقلید کوئی ہم سے سیکھے۔۔۔۔۔۔۔ہمارا حال دیکھیں ہمیں چوری اور کرپشن پر کوئی اعتراض نہیں بس چور اور کرپٹ ہماری مرضی کا ہونا چاہئے۔ اس قوم کو عمر بن عبدالعزیز(انہوں بہت سے اچھے کام کئے ہیں) جیسے کسی ایسے حکمران کی تلاش ہے جو اس بوسیدہ نظام کی عمارت کو گرا کر نئے نظام کی عمارت کی تعمیر کا حکم دے ۔۔۔!!

اپنا تبصرہ بھیجیں