zahid saeed

وراثت

دل کی ویرانی سمــیٹی، شاعــری تخلـــیق کی
ہم نے وحشـت کے مقابل اِک ہنسی تخلیق کی

ورنہ جاں لے لیتی یہ حـد سے بڑھی حَسّاسیت
سـو جتن سے ہم نے آخــر بے حِسی تخلیق کی

باپ ورثے میں یہ عادت دے گیا مجھ کو سعیدؔ
وقفِ ظُلمت کر کے خود کو، روشـنی تخلیق کی

اپنا تبصرہ بھیجیں