zahid saeed

قدرِ مشترک

مرے شہر میں
آج کل سرفروشی کی ایسی ہوا چل رہی ہے
کہ شوقِ شہادت سے سرشار ہو کر
سبھی شہر والے صَف آرا ہوئے ہیں
کوئی اِس طرَف تو کوئی اُس طرَف ہے
ہر اِک کا مگر اپنا اپنا ہدَف ہے
ہے کوئی سرائے سیاست کا ساکِن
کوئی سالِکِ راہِ عشق و محبّت
تو محراب و منبَر کی تقدیس پر جاں لُٹانے کی خاطِر
کوئی سَر بہ کَف ہے
ہیں اُن میں وہ حلقہ بہ گوشانِ قومیّت و رنگ و نسل و زباں بھی
شہادت کا جذبہ
مگر سب میں ہی مُشترَک ہے

زاہد سعیدؔ

اپنا تبصرہ بھیجیں