zahid saeed

رمَضان

ہونے لگی ہے نُور کی برسات دفعتًا
چَھٹنے لگی وہ دیکھ سِیَہ رات دفعتاً
رحمت کی بٹتی دیکھ وہ خیرات دفعتاً
کھائی غنیمِ جَور نے بھی مات دفعتاً

رُت دیکھتے ہی دیکھتے کُچھ اور ہو گئی
عالَم میں دیکھو روشنی کس طور ہوگئی

دُنیائے دُون مہبطِ جبریل ہوگئی
پیغامِ حق کی خَلق کو ترسیل ہوگئی
یکدم فضائے کُفر بھی تبدیل ہوگئی
انسانیت کی پھر نئی تشکیل ہوگئی

بحرِ عطائے ایزدی آیا تھا جوش میں
بے گانۂ خِرَد تھے جو، آئے وہ ہوش میں

سقفِ سما سے آتی ہے ہر دم یہی صَدا
ہاتِف پکارتا ہے، اے آدم سُنو ذرا
جُویائے خیر! راہِ عمل میں قدَم بڑھا
اے زِشت خُو! تُو سوچ، سنبھل، اب تو باز آ

انمول ساعتیں ہیں، کہیں رائیگاں نہ جائیں
یہ با ثَمَر رُتیں ہیں، کہیں رائیگاں نہ جائیں

بند اس میں بابِ یاس ہے، وا روزَنِ امید
اِک ایک پَل عطا ہے، اور اِک ایک دم نوید
ہر رات قدر والی ہے، ہر روز روزِ عید
اُمّید وارِ رحمتِ ربّی ہوں میں سعید

گیارہ مہینے تارے ہیں، اور ‘ماہ’ ہے یہی
منزل تلک جو جاتی ہے، وہ راہ ہے یہی

اپنا تبصرہ بھیجیں