نعیم مسعود

ہیرو نہیں لیڈر چاہئے!

میری تین خواتین سے اکثر بحث ہوتی، لیکن وہ بحث کبھی سیاسی مکالمہ نہ بن پائی، حالانکہ ان میں سے ایک امریکہ میں مقیم پڑھی لکھی خاتون، دوسری ایم بی بی ایس ڈاکٹر اور تیسری پروفیسر ہیں۔ مکالمہ ہوتا بھی کیسے؟ مکالمہ کیلئے تاریخ پاکستان کا فہم، دستور سے جان کاری اور ادب آداب کا ہونا ضروری تھا، آخر الذکر تھا جو بات چیت اب تک چل رہی ہے، تینوں نصف صدی کی بہاریں بھی دیکھ چکی ہیں، ہمیشہ بحث نے اسی جگہ پر دم توڑا کہ یہ نہیں معلوم عمران خان نے پونے چار سال کون سے اچھے کام کئے۔ یہ مانتے ہیں اس نے جو کہا وہ کیا نہیں، یو ٹرن بہت لئے مگر نواز شریف سسلین مافیا ہے اور آصف علی زرداری قبضہ گروپ پس یہ ثابت ہوا کہ عمران خان آخری امید ہے!
اتفاق، کہئے یا حُسنِ اتفاق 2012 تا 2018 تک ایک نجی ٹی وی پر باقاعدہ آنا جانا تھا، سو الیکشن 13 اور الیکشن 18 میں الیکشن ٹرانسمیشن کے سبب ووٹ کاسٹ کرنے گوجرانوالہ نہ جا سکا تاہم کنبے کے ووٹ لاہور میں تھے، انہیں گاڑی واپس بھجوائی کہ ووٹ ضرور کاسٹ کریں، بچوں کے 2 ووٹ ہیرو کے تھے اور بیگم کا لیڈر کا، میرے سوا سب نے ووٹ کاسٹ کرنا انجوائے کیا، دونوں طرف کے ووٹ میرے فکر کے برعکس تھے، یہ آزادی 1985سے2008 تک ہمیں میسر نہ تھی ہمیں ووٹ وہاں ہی دینا ہوتا جہاں سیاسی فہم والے بزرگوں کا فیصلہ ہوتا۔ آج وہ دونوں بچے یونیورسٹی لیکچررز ہیں، ان دونوں سلور جوبلی والوں کے پاس بھی گولڈن جوبلی خواتین ہی والا جواب ہے، گر عرض کریں، چلئے پہلی خوبی آپ کے بن کہے مان لی وہ ہیروہیں۔ تین اور سیاسی و حکومتی خوبیاں گنوا دیں تو جواب آئے گا فلاں چور فلاں ڈاکو،70سال حکومت، ہم نہیں کہتے جنرل ایوب سے جنرل ضیاء تک کی اولاد ہیرو کے ساتھ، 80 ٪ سے زائد وہ لوگ بھی ہیرو کے ساتھ جنکے خاندانوں نے ہمیشہ حکومت کی۔ پھر جواب ایک ہی “زرداری یہ، شریف وہ” اس سے آگے کوئی سبق ہی یاد نہیں کیا۔
کس کی تمنا نہیں پاکستان سے اسٹیٹس کو پیوندِ خاک ہو؟ کون نہیں چاہتا انصاف کے دریچے مساوی کھلیں؟ آئینی شقوں میں7 تا 28 حکم اذاں کس کی حسرت نہیں؟ نئی قیادت کا جلوہ کس کی تمنا نہیں؟ کون اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کا باب بند نہیں چاہتا؟ بیوروکریٹک اصلاحات،بنیادی جمہوریت سے مربوط بلدیاتی نظام، زرعی اصلاحات، روزگار، صحت اور تعلیم کا حصول کس کی آرزو نہیں؟ درست سہی یہ سب کھل جا سم سم والا معاملہ نہیں ارتقائی شاہراہ کی مسافت سے منزل کے نشانات ملتے ہیں۔ مغرب کی مثالی جمہوریت قربانیوں اور قول و فعل کے تضاد میں کمی سے ملی، گو شرق و غرب میں بھی سیاست کی بلَف گیم کی چمک ہے لیکن ہم اسلامی دنیا کے چمپئن ہونے کے زعم میں ہیں اس کا دسواں حصہ ہی اسلامی تعلیمات سے چُن لیتے تو پہلے چار پانچ عالمی نمبروں پر نہ بھی ہوتے مگر امریکہ و چائنہ پر انحصار والے بھی نہ ہوتے !
ایک اوپن سیکرٹ ہے، ہلیری کلنٹن فیورٹ تھی لیکن 8 نومبر 2016 کےالیکشن ڈونلڈ ٹرمپ جیت گئے، یہ امریکن انتخابی تاریخ کا بڑا اپ سیٹ تھا، دونوں نیویارک ریاست کے رہائشی، گو ٹرمپ کا الیکٹورل ووٹ 304 تھااورہلیری کا 227مگرہلیری کاپاپولرووٹ 65,853,514اوراوسط48.2فیصد۔کلنٹن پاپولر 62,984,828 اور اوسط 46.1فیصد ۔ کہتے ہیں اپنے شوہر صدر کلنٹن کو مواخذے سے بچانے کی پاداش میں بےشمار خواتین نے ووٹ نہ دئیے کہ ہلیری نے سچ کا ساتھ نہ دیتے ہوئے شوہر کی خاطر خواتین کے حقوق سے منہ موڑا تھا۔ بہرحال اس صداقت عامہ سے انکار نہیں کہ امریکی ووٹرز ری پبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے منشور اور امریکی تعمیر و ترقی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ہیروگیری کے نہیں، اور 2 دورانیہ کے بعد کوئی صدر نہیں بن سکتا بھلے ہی کتنا بڑا سیاسی دیوتا ہو۔
ترقی یافتہ دنیاکےنزدیک لیڈرشپ اور ووٹرز کیلئے سیاست ایک سائنس ہے روایتی آرٹ نہیں، نہ پرستش ہے کہ دل کا معاملہ ہو، دماغ کا معاملہ ہے، ہماری طرح وہ شہید ہو کر زندہ ہوں نہ ہوں مگر وطن کیلئے جان کی بازی پورے جوش سے لگاتے ہیں تاہم آنکھیں بند کر کے نہیں۔ تقریباً ساڑھے 5 ہزار امریکی یونیورسٹیاں پلیجرزم ، فاشزم یا توہم پرستی سے نہیں دیانت سے چلتی ہیں، جس سے امریکہ چلتا ہے! امریکی سوچ بیک وقت ماضی و حال و مستقبل کے سنگم پر ہے۔ پہلے صدر جارج واشنگٹن کے 30 اپریل 1789میں نیویارک، وال اسٹریٹ فیڈرل ہال کی بالکونی کے حلف سے آج کے صدر بائیڈن تک کی رینکنگ کرتے ہیں کہ کس صدر نے امریکہ کیلئے کیا کیا اور رینکنگ شائع ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ہم جذبات میں ہر چمکتی چیز کو قائدِ اعظم ثانی کہہ دیتے ہیں کیونکہ ہم نے حقیقی افتخار کیلئے خالص معیار بنایا ہی کب؟
خان پاکستانی سیاست میں ایک خوبصورت اضافہ ہے، جو ہوم ورک کی کمی، قبل از حکومت شیڈو کابینہ کے فقدان، الیکٹ ایبلز پر انحصار، حقیقی انصافی قیادت فراموشی اور 80 فیصد سے زائد پرانے سیاسی پنڈتوں پر تکیہ کے سبب خوب سیرت اضافہ نہ بن سکا۔ میرے دوستوں اور بچوں نے 2010 سے 2022 تک اسٹیبلشمنٹ کی خصوصی پیشکش کے طور پر عمران خان کو الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر بطور “ہیرو” ہی دیکھا۔ اس ہیروگیری کو خان نے ازخود 2028 تک کھینچ لیا، جمہوری نظام ترک کرکے صدارتی نظام کے خواب دیکھنے کیا شروع کر دئیے کہ ارفع اداروں کے سربراہان نے بھی عمرانی عینک میں خود کو مزید اعلیٰ درجہ سکندر سمجھ لیا، یوں گاڑی حقیقت کی پٹری سے اتر کر نرگسیت کی شاہراہ پر چل نکلی۔ گاڑی کو لیڈری درکار تھی مگر ہیروگیری ملی، ہیرو گیری نے اسپیڈ کو ہوا دی جبکہ اسپیڈ بھی ایک نشہ ہے۔ پھر ہوا یوں، میں، میرے دوست اور میرے بچے ایک اور سیاسی حادثہ کا شکار ہوئے پڑے ہیں!

اپنا تبصرہ بھیجیں