تم سے پوچھا نہ گیا…..

پاکستانی حکمرانوں کا ہمیشہ ہی سے یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ کرپشن کرتے ہیں مگر تقریریں اس کے خلاف کرتے ہیں اور لوگوں کی جھولیوں کو دکھوں سے بھرتے جاتے ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد پرمٹوں، کمیشنوں اور رشوتوں کے ساتھ اقربا پروری کا کھیل شروع ہوا۔ لمبے چوڑے قرضے اور قرضوں کی معافیوں کا سلسلہ بہت طولانی ہے۔ موجودہ دور میں 70 فیصد پاکستانی غربت کی عالمی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے روٹی چھیننا اب شروع کی ہے، مسکراہٹ تو بہت پہلے چھین لی تھی۔ ایک واقعہ اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ یہ 1964ء کی بات ہے جب پاکستان میں ٹیلی ویژن کا آغاز ہو رہا تھا۔ اس زمانے میں طارق عزیز ریڈیو کے اناؤنسر اور نیوز ریڈر تھے۔ انہوں نے ایک پروڈیوسر کے کہنے پر پی ٹی وی میں نیوز کاسٹرکیلئے درخواست دی۔ طارق عزیز سادہ سے لباس میں گئے تو دیکھا کہ انٹرویو دینے کیلئے سوٹڈ بوٹڈ لوگ آئے ہوئے ہیں۔ دورانِ انٹرویو طارق عزیز نے سوالوں کے جواب دئیے تو انٹرویو کمیٹی کے ہیڈ اسلم اظہر نے کہا، ذرا ہنسیں۔ طارق عزیز نے جواب دیا’’سر! میرے پاس ہنسنے کو کچھ نہیں، ہنسی کا تعلق دلی خوشی سے ہوتا ہے اور میرا دل افسردہ ہے‘‘۔انٹرویو کا سلسلہ ختم ہوا تو اسلم اظہر نے صرف طارق عزیز کو روکا، کافی منگوائی، پوچھنے پر طارق عزیز بتانے لگے،’’میرا گھر ساہیوال میں ہے، میرے لئے وہاں روٹی تو ہے مگر میں دنیا سے اپنی قیمت وصول کرنے نکلا ہوں۔ دنیا اس وقت مجھے ڈیڑھ سو روپے ماہوار دیتی ہے ، اس ڈیڑھ سو کیلئے میں نیوز کاسٹر، اناؤنسر، کمپئیراور ڈرامہ آرٹسٹ ہوں، اردو پنجابی تبصرے، خطوں کے جوابات بھی میرے ذمے ہیں اور مجھے عزت پھر بھی نہیں دی جاتی‘‘۔ اسلم اظہر نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے پوچھا، ٹی وی پر خبروں اور اناؤنسمنٹ کا کیا لو گے؟ طارق عزیز بولے’’ریڈیو سے ایک سو پچاس لیتا ہوں، آپ سے ایک 151 لوں گا۔ میں ترقی پسند آدمی ہوں، مجھے یہ احساس رہے گا کہ میں نے ٹی وی پر آکر ایک روپیہ زیادہ وصول کیا اور ترقی کی‘‘۔ کچھ دنوں بعد طارق عزیز کو پانچ سو روپے ماہانہ تنخواہ پر بلا لیا گیا۔
ایک طارق عزیز تو ساہیوال سے لاہور آگیا اور ترقی کر گیا مگر کتنے طارق عزیز ساہیوال جیسے دوسرے شہروں میں رل گئے، کتنے ایسے تھے جنہیں صلاحیتیں دِکھانے کا موقع ہی نہ مل سکا، کتنے ایسے تھے جوا سکول کا دروازہ تک نہ دیکھ سکے اور کتنے ایسے تھے جن کے راستے میں بھوک کی ایک نہیں کئی دیواریں کھڑی تھیں۔ وہ اگر ایک دیوار پھلانگتے تو نظام انہیں اگلی دیوار تک نہ جانے دیتا، انہیں ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنا پڑتی۔
1972ء میں ڈالر پانچ روپے کا تھا ، 1988ء تک 16 سے 18 روپے کا تھا مگر پھر ہمارے سیاستدانوں نے جمہوریت کے نام پر ایسا کھلواڑ کیا کہ جو ہم سے پیچھے تھے وہ کہیں آگے نکل گئے۔ ہماری فیکٹریاں بند ہو گئیں، ہمارے راستے محدود ہو گئے تبھی تو آج ہمارے نوجوان کشتیوں سے ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں اور کشتیوں کو سمندرکی لہریں بے بس کر دیتی ہیں۔ ہم روتے رہتے ہیں، ظلم سہتے ہیں مگر خاموش رہتے ہیں حالانکہ ناانصافیوں اور ظلم پر خاموش رہنا کسی جرم سے کم نہیں۔ کربلا میں زندہ بچ جانے والے امام زین العابدین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’کوفہ ایک شہر کا نام نہیں، ایک خاموش قوم کا نام ہے۔ دنیا میں جہاں کہیں بھی ظلم ہو اور لوگ خاموش رہیں تو وہ سب کوفی ہیں‘‘۔
ہمارے سیاستدانوں کی کارستانیوں نے ہمیں کہاں تک پہنچا دیا ہے اس کا اندازہ حج پر جانے والوں کو بخوبی ہوا ہو گا، جہاں پاکستانی 80 روپوں کے بدلے ایک سعودی ریال ملتا رہا، بنگلہ دیش کے 23 ٹکے ایک ریال کے ہم پلہ تھے جبکہ انڈیا کے 22 روپے ایک سعودی ریال کا مقابلہ کر رہے تھے۔
ہمارے حکمرانوں کو شاید لوگوں کے دکھوں کا اندازہ نہیں اسی لئے وفاق میں 93 رکنی کابینہ ، ہزاروں سرکاری گاڑیاں، اربوں روپے کا مفت پیٹرول، بجلی، گیس، سیکورٹی اور پروٹوکول سمیت اربوں کھربوں کی کرپشن نظر نہیں آتی۔ لوٹ مار کے آئینے میں ایک صوبائی سیکرٹری کے گھر سے دس کروڑ ڈالر، بیس کروڑ پاکستانی روپے، پانچ سو تولے سونا اور بڑی مقدار میں منشیات برآمد ہوتی ہیں۔ پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر میں ایک ڈی ایس پی کے گھر سے سو تولے سونا اور 80 لاکھ روپے ڈاکو لے کر فرار ہو جاتے ہیں۔ عجیب کھیل ہے لوگوں کی جان و مال محفوظ نہیں اور اس عجیب کھیل کا عجیب ترین منظر یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ ملنے کے سبب ملک ڈیفالٹ سے بچ جاتا ہے مگر 70 فیصد عوام ڈیفالٹ کر جاتے ہیں۔ یہاں کئی سیاسی ارسطو یہ کہتے پائے گئے کہ کرپشن کے ساتھ ہی ترقی ہوتی ہے، کچھ تو اسکول کے بچوں کو کرپشن کی ترغیب دیتے رہے حالانکہ کرپشن کے ساتھ ترقی ممکن نہیں کیونکہ جھوٹ اور سچ ایک ساتھ نہیں چل سکتے، جس طرح اندھیرا اجالا ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ بقول وصی شاہ
تم سے پوچھا نہ گیا ہم سے بتایا نہ گیا
پھر بھی جو دل میں چھپا تھا وہ چھپایا نہ گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں