افضال ریحان

احتجاجی تحریکوں میں تشدد کیوں ؟

(گزشتہ سے پیوستہ )
ضرورت سے زیادہ لاڈلے بالعموم بگڑے بچے بن جاتے ہیں اور ایسی لاڈیاں دکھاتے پائے جاتے ہیں، کوئی عام شخص جس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ہماری مذہبی تحریکوں یا طاقتوروں کی اشیرباد سے پروان چڑھنے و الی جماعتوں میں یہ طرزِ فکر و عمل اکثر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔9مئی کو ہماری عسکری تنصیبات پر جلائو گھیرائو کے جو افسوسناک بلوے ہوئے ہماری کوئی عام سیاسی پارٹی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی البتہ وہ شخص جس کی پوری سیاسی اٹھان یا لیڈری محض عسکری نرسری میں پروان چڑھی اس نے خود کو عام سیاست دان یا لیڈر نہیں سمجھا بلکہ خود کو ماورائی مخلوق یا ہستی خیال کرنے لگا تھا ۔اس کی رہائش کے باہر ’’مرشد چوک‘‘ میں اتنے نوجوان اس کے محافظ بنے کھڑے رہتے تھے کہ جیسے وہ اس کیلئے جان پر کھیل جائیں گے اور بالفعل ایسے ہوا بھی۔ موصوف کا مزاج بگاڑنے میں اعلیٰ عسکری عہدیداروں نے ہی نہیں ہماری سپریم جوڈیشری کی بعض ’’اعلیٰ ہستیوں ‘‘ نے بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ثاقب نثار کے صادق و امین جیسے جعلی القابات سے شروع ہو جائیں اور موجودہ بندیال کورٹ کے صدقے واری ہونے تک ملاحظہ فرمالیں ایک خودنمائی و خود ستائی کے مارے مغرور شخص کا دماغ کیوں خراب نہ ہوتا ؟یہ کیسا ملزم تھا جسے سپریم جوڈیشری کےریسٹ ہائوس میں ٹھہرایا جاتا ہے، مرسڈیز میں بٹھا کر کورٹ لایا جاتا ہے اور اعلیٰ ترین سرکاری پروٹوکول کے ساتھ گھر پہنچایا جاتا ہے! کیا یہ وہی خودسر نہیں تھا جس نے 2014ء کے دھرنے میں سرکاری ٹی وی پر حملہ کروایا تھا، جو آئین کی ماں پارلیمنٹ کا دروازہ توڑنے والے اپنے’’ ٹائیگرز‘‘ کو شاباش دیتا پایا گیا تھا۔
جس نے میڈیا ہائوسز پر حملے کروائے ،تھانوں سے اپنے ملزم چھڑوائے ،پولیس افسران کو جوتے پڑوائے !جو اپنی تقاریر میں نام لے لے کر کہتا تھا’’ اوئے فلانے میں تجھے چھوڑوں گا نہیں ‘‘ایسےآمرانہ ذہن کے متعلق کیا کوئی یہ تصور بھی کر سکتا ہے کہ اس کی پارٹی میں اس کی مرضی کے خلاف کوئی اتنا بڑا قدم اٹھا سکے؟اب تو اس کی طرف سے جار ی ہونے والی ہدایات کی ساری تفصیلات میڈیا میں آ چکی ہیں اصل سرغنہ کرتا دھرتا یا ماسٹر مائنڈ، نوجوان کا وہی بگڑا ہوا بابا تھا ۔
سچ کہتے ہیںکہ ’’ احمق دوستوں سے دانا دشمن بہتر ہوتا ہے ‘‘اس کے حواریوں نے اسے یہ باور کرایا کہ تم پاپولیریٹی کی بلندیوں پر ہو پچیس کروڑ میں سے ستر فیصد عوام تمہارے پیچھے کھڑے ہیں تمہاری کال پر عوام طاقتوروں کا حشرنشرکر دیں گے ذرا جہاد کی کال دے کر تو دیکھو۔ لہٰذا باضابطہ طور پر طے پا گیا کہ عظیم ہستی کی گرفتاری ریڈلائن ہوگی جس دن ایسی حرکت ہوئی پارٹی قیادت کی رہنمائی میں نوجوان ورکرز اور عوامی جتھے عسکریوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے جس کیلئے خودطاقتوروں کے اندر سے بھی پوری معاونت ملے گی یوں ناپسندیدہ جنرل کو اسی طرح بے دست وپا کر دیا جائے گا جس طرح جنرل ضیا ءالدین بٹ کو کیا گیا تھا اور ساتھ ہی ڈرٹی ہیری بھی دھر لیا جائے گا ۔
جہاں ساسو مائوں کی حسرت پوری کرنے کیلئے اپنے ہی خرمن کو پھینکتا دیکھ کر بھی چہرے متغیر و متحیر نہ ہوں وہاں پیچھے کہنے کو کیا رہ جاتا ہے ۔ویسے’’ آفرین‘‘ ہے ایسی ذہنیتوں پر۔ درویش نے ساری زندگی عسکری آمریتوں کے خلاف آواز اٹھائی مگر یہ سب دیکھتے ہوئے دل جل بھن گیا اور حافظ صاحب معصوم و محترم لگنے لگے ہیں ۔پلاننگ اور اتنی گری ہوئی سوچ اس ایک خودستائی کے مارے آدمی کیلئے؟ جو خود کو کبھی جناح سمجھتا ہے تو کبھی شیخ مجیب الرحمن، خدا کے بندے ذرا نیچے آ، تمہیں دھوکے بازوں نے جھوٹے خواب دکھائے تھے کہ ستر فیصد عوام آپ کی پشت پر کھڑے ہیں ذرا گنتی کرو پچیس کروڑ میں سے ستر فیصد کتنے بنتے ہیں اور پھر حساب لگائو ان میں سے کتنے اس روز آپ کیلئےنکلے ؟واقعی آپ کی تمنائوں کے عین مطابق اس روز آپ شیخ مجیب الرحمن ثابت ہو سکتے تھے اگر حافظ صاحب کے برخلاف اسٹیبلشمنٹ کا بڑا دھڑا آپ کی حمایت میں فوری کارروائی ڈال دیتا یا پھر بنگالی عوام کی طرح ،پختون یا پنجابی عوام آپ کیلئےنکل کھڑے ہوتے ،شیخ چلی صاحب دو چار سو کی ٹولیوں کے ساتھ تو انقلاب نہیں آتے بغاوت کامیاب ہو جائے تو طاقتور مارے جاتے ہیں اور اگر ناکام ہو جائے تو باغی و بلوائی۔اب آپ بھگتیں حافظ صاحب نے تو نہ صرف اپنے ادارے کا استحکام ثابت کر دیا ہے بلکہ بھگوڑوں کو بھی مستحکم کر دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں