Afzal rehan

جوڈیشری کی تطہیر کیوں نہیں؟

بہت سے لوگوں کے نزدیک اس وقت پاکستان کے حالات بڑے خراب اور مایوس کُن ہیں جن میں بہتری کے آثار دور دور تک دکھائی نہیں دیتے ، ہماری معیشت ہی اس وقت تباہ حال نہیں ، معاشرت کی سماجی قدریں بھی دم توڑ رہی ہیں۔ ہمارے قریباً تمام قومی ادارے اس وقت توڑ پھوڑ کا شکار ہیں۔ جوڈیشری کے حوالے سے چرچل کا کہا یہاں بالالتزام پیش کیاجاتا ہے مگر فی الواقعہ ہماری قومی بربادی میں ہماری جوڈیشری کا رول بدتری میں شاید ہر ادارے پر بازی لے گیا ہے۔ آج اگر یہ گراوٹ عالمی سطح پر ایک سوپچاسویں درجے میں شمار کی جاتی ہے تو اگلے سروے یا جائزے میں یہ یقینا” آخری حدود کو پار کر جانے والی گردانی جائے گی، ہماری قومی بدنصیبی کی اخیر ہے کہ یہاں انصاف کے نام پر پارٹی بازی اتنی ڈھٹائی سے کی گئی ہے کہ سخت ترین الفاظ کا چناؤ بھی ہلکا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں مرے ہوئے ججز کی آمریت نوازی پر مبنی فیصلوں کا رونا رویا جاتا ہے جبکہ آج ہماری سپریم جوڈیشری میں براجمان کئی بظاہر زندہ منصفوں نے اس ملک و قوم کی چولیں ہلا کررکھ دی ہیں۔
کوئی بھی جمہوری الذہن لبرل انسان جو سویلین بالادستی پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے ملٹری کورٹس کی حمایت بلاشبہ ایک مشکل گھاٹی ہے مگر اس کڑواہٹ کو پی جانے پر مجبور کس نے کیا ہے؟ خود ہماری اسی سویلین سپریم جوڈیشری نے جہاں انصاف ہر روز چیختا چلاتا اور بکتا ہے۔ گیا گزرا شخص بھی جب کرسی انصاف پر متمکن ہوتا ہے تو اپنی منصفی کا کچھ نہ کچھ جھوٹا سچا بھرم رکھنے کی کوشش کرتا ہے جبکہ یہاں چوری سینہ زوری اور ڈھٹائی کی نئی تاریخ رقم کی جارہی ہے جس آئین کی یہ تخلیق ہے اس کی مقدس و محترم ماں یعنی پارلیمنٹ کی یہاں ہر روز تذلیل کی جاتی ہے چند پبلک سرونٹ پبلک کے نمائندوں کی تحقیر پر تلے بیٹھے ہیں۔ ان کے ذاتی مفادات عوامی امنگوں کے ترجمان ادارے پر بھاری ہیں۔ یہ پارلیمنٹ کے وضع کردہ قوانین کو کبھی معطل کرتے ہیں اور کبھی بائی پاس۔ ایسے میں اگر پارلیمنٹ اس نوع کی قرار داد منظور کرتی ہے کہ فوجی تنصیبات پر حملہ آور ہونے والوں یا اس کے ماسٹر مائنڈ کے کیسز فوجی عدالتوں میں چلنے چاہیں تو یہ فیصلہ قابلِ فہم ہونا چاہیے۔ حالانکہ ان سزاؤں کا ہونا کچھ بھی نہیں کیونکہ بالآخر اپیلوں میں انہوں نے آنا اپنی وفادار پارٹی باز سویلین عدالتوں میں ہے۔
آج ہم اپنی بے انصافی پر تلی سپریم جوڈیشری پر جتنی بھی تنقید کرلیں لیکن اس کوتاہی سے بری الذمہ ہماری منتخب قومی قیادت بھی نہیں ہے جب پی پی اور ن لیگ کی حکومتیں تھیں جب ٹوتھرڈ میجارٹی کے ساتھ وہ اٹھارویں یا انیسویں ترامیم منظور کررہے تھے۔ ان لوگوں نے اپنی سپریم جوڈیشری کی تشکیل میں ایسا میکنزم یا سسٹم کیوں نہ بنایا جس سے بے لگامی کی صورتحال پیدا نہ ہوتی یا اس کی باگیں عوام کے ہاتھوں میں رہتیں یا یہ نامزدادارہ منتخب پارلیمنٹ اور اس کی بالادستی کو آنکھیں دکھانے کے قابل نہ ہو پاتا۔ اس میں قصوروار خود تین مرتبہ منتخب ہونے والے میاں نوازشریف بھی ہیں، جو ثاقب نثار جیسے نااہل اور گئے گزرے لوگوں کو اوپر لاتے رہے۔ حد ہے اس موجودہ عبوری دور میں بھی دو جونیئر افراد کو یہاں لابٹھانے میں پوری معاونت کی گئی۔ آخر ا سکے خلاف سٹینڈ کیوں نہیں لیا گیا اور پھر ابھی تک بقیہ دو ججزمیرٹ پر یا اپنی ترجیح پر آپ یہاں کیوں نہیں لاسکے ہیں؟
آئینی ترامیم کرتے ہوئے ان لوگوں نے اس حوالے سے غوروفکر کیوں نہ کیا کہ کل کو اگر کوئی چیف جج اپنے مفادات کے زیرِاثر من مانی پر تل جائے وہ خود کو پارلیمان سے بھی اوپر خیال کرنے لگے، گویا وہ دوسری خلائی مخلوق ہے تو آئین میں اسے قابو کرنے یا اوقات میں لانے کا کیا اہتمام ہے؟ سپریم جوڈیشری کی تعیناتیاں پارلیمنٹ کے کنٹرول میں کیوں نہ دی گئیں؟ انتظامیہ عدلیہ کی علیحدگی یا آزادی کا تصور اپنی جگہ لیکن پارلیمانی ضوابط کی بندش کو چیلنج کردینے کی آزادی کے تو ہرگز کوئی معنی نہیں بنتے۔ اس طرح تو قومی یکجہتی کسی بھی لمحے پارہ پارہ ہوسکتی ہے، جو بالفعل اس وقت ہوئی ہے اور ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ کہ پارلیمنٹ کے بالمقابل کھڑے ہوجانے کی صورت میں بھی آخر کیوں پارلیمنٹ ان سب کی باگیں نہ کھینچ سکے یا اپنی بالادستی نہ منواسکے۔ ن لیگ پر اس وقت سب سے بڑھ کر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے الیکشن سے قبل ہی یہ اصول یا فیصلہ منوالے کر جیت کر آنے کے بعد اولین فوری اقدام یہ اُٹھایا جائے گا کہ پارلیمنٹ جوڈیشل ایکٹوازم کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت و طاقت دکھائے گی اور اس حوالے سے آئینی ترمیم سامنے لاتے ہوئے کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی جائے گی۔
آج خود سپریم جوڈیشری کے اندر سے اس نوع کی آوازیں اُٹھ رہی ہیں کہ چیف ججز کے زیرِ اثرا س انصافی ادارے میں بڑی بڑی بے انصافیاں اور زیادتیاں کیوں روا رکھی گئی ہیں؟ یہ پوچھا جارہا ہے کہ پاناماکیس میں تو کوئی ساڑھے تین سو نام سامنے آئے تھے کیا یہ کھلی بے انصافی نہیں ہے کہ محض نوازشریف کو طاقتوروں کی ساز باز سے نکالنے کے لیے صرف ایک شخص کے خلاف کاروائی کی گئی اور دیگر تمام کو چھوڑ دیا یا نظرانداز کردیا گیا حالانکہ ذاتی طور پر نوازشریف کا تو اس میں نام بھی نہیں آتا تھا اور پھر جب غیرقانونی جے آئی ٹی بنانے جیسی تمام تر جھوٹی و جعلی کارروائیوں کے باوجود پاناما سے نوازشریف کے خلاف کچھ نہ ملا تو اقاما میں دھر لیا گیا، جس کا قطعی کوئی جواز نہیں تھا۔ جنرل فیض نے جسٹس شوکت صدیقی کو جس طرح واضح لفظوں میں نوازشریف کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے کہا اور ان کے اس استدلال پر کہ میں میرٹ پر فیصلہ کروں گا۔ جنرل فیض کے یہ الفاظ ریکارڈ پر ہیں کہ ”اس طرح تو ہماری دو برسوں کی محنت ضائع ہوجائے گی“۔ یوں میرٹ پر انصاف کی بات کرنے والے جج کو نوکری سے ہی نکال باہر کیا گیا، یہاں اکثر جسٹس منیر کی جان کو رویا جاتا ہے حالانکہ ثاقب نثار اس سے بھی گھناؤنا کردار ہے اور یہی ذہنیت آج بھی یہاں دندنا رہی ہے۔ پاکستان کو اگر اس نوع کے خلفشار یا عدم استحکام سے نکالنا ہے تو اعلیٰ و سپریم جوڈیشری کی تطہیر لازم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں