dr tahira kazmi

رحم میں اگر بچہ نہیں تو کیا ہے؟

“بتا یہ کیسے ہوا؟ کون ہے وہ؟”

اماں کا جوتا تڑ تڑ سر پہ برس رہا تھا ۔ بھائی پستول نکال کر کھڑا تھا اور اس لڑکی کو کچھ سمجھ نہیں آتا تھا کہ کیا کرے؟

“اماں قسم لے لو میں کچھ نہیں جانتی”

وہ روتے روتے یہی کہتی جاتی۔

“بے شرم، بے حیا ، پیٹ اتنا بڑا کیسے ہو گیا؟ بتا کس کا پاپ لیے گھوم رہی ہے؟”

اماں کا جوتے والا ہاتھ رکتا ہی نہیں تھا۔

“ اماں اماں، یقین کرو میرا، مجھے کسی نے چھوا تک نہیں”
وہ بلک رہی تھی۔

“کس کے ساتھ تو نے منہ کالا کیا؟ نہیں چھوڑوں گا اس کو بھی”

بھائی کے منہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔

“بھایا، میں نے کچھ نہیں کیا”

“ماں ماں، مجھے تو کپڑے آتے ہیں، ہر مہینے ڈھیروں خون پڑتا ہے”

“میری آنکھوں میں دھول نہ جھونک۔ تو پیٹ سے ہے، کپڑے کہاں سے آ گئے؟”

ماں چیخ کر بولی۔

“ماں مجھے کچھ نہیں پتہ، میں کچھ نہیں جانتی”

“ دائی نے مجھے خود بتایا ہے کہ لڑکی کو چھ سات ماہ کا پیٹ ہے”

“اماں، اماں ….”

“میں ابھی دائی کو بلواتی ہوں۔ تیرا انتظام کرے آ کر۔ اس حرام کے نطفے سے جان چھڑائے ہماری”

دائی معذوری کا اظہار کرتی ہے۔

“ پیٹ بڑا ہے ری، میرے بس سے باہر۔ سرکاری ہسپتال لے جاؤ”

“ہائے ہائے ، تمہارا دماغ تو نہیں چل گیا ماسی۔ اس کے شوہر کا پوچھا تو کیا کہوں گی؟”

“کہہ دینا، طلاق ہو گئی ہے” ماسی نے حل پیش کیا۔

“پر وہ بچہ کیوں ضائع کریں گے؟” ماں کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔

“اری ثریا، تو لے کے جا تو سہی۔ مشین تو لگوا پیٹ پہ ۔ کچھ اندازہ تو ہو” دائی جھنجھلا کر بولی۔

وہ حاملہ عورتوں کے معائنے کا دن تھا۔ چاروں طرف پھولے ہوئے پیٹ ہی پیٹ نظر آتے تھے۔ ان پیٹوں کے ساتھ پیلی رنگت والے مدقوق چہرے لٹکے ہوئے تھے، جن پہ بے بسی کی عبارت دور سے لکھی نظر آتی تھی۔ بے بسی، بے چارگی اور غربت ان کی سہیلی تھی۔

سترہ اٹھارہ برس کی دبلی پتلی لڑکی اپنی باری پہ کمرے کے اندر آئی۔ چہرے کی پیلی رنگت دور سے اعلان کرتی تھی کہ خون کی شدید کمی کا شکار ہے۔

“آخری ماہواری کب آئی تھی؟”

“ جی ایک ہفتہ پہلے”

لڑکی نے جواب دیا۔

“ ہائیں، ایک ہفتہ پہلے … اور یہ …” ہم سوچ میں پڑ گئے۔ پھر سوچا کچھ کہنے سے پہلے الٹرا ساؤنڈ کر لیا جائے۔

پیٹ پہ الٹرا ساؤنڈ کا پروب رکھتے ہی نظر آگیا۔ بچے دانی میں تین بڑی بڑی رسولیوں موجود تھیں۔

“بیٹا، یہ پیٹ کب بڑھنا شروع ہوا؟”
ہم نے پوچھا۔

“جی سات آٹھ ماہ پہلے بالکل ٹھیک تھی پھر ایسے لگا کہ پیٹ کا نچلا حصہ بھاری ہے اور پھر ایسے …”
وہ بھبھک بھبھک کر رو دی ۔

“روؤ نہیں بیٹا۔ سب ٹھیک ہو جائے گا”

“ حمل تو نہیں ہے نا”

لڑکی کی ماں نے بے تابی سے پوچھا ۔

“نہیں بی بی ۔ بچے دانی صرف حمل کی وجہ سے ہی نہیں بڑھتی۔ بچے دانی میں اگر رسولیاں بن جائیں تب بھی وہ بڑی ہو جاتی ہے۔

“ڈاکٹر صاحب میری بیٹی ٹھیک ہو جائے گی نا”

“ہاں بالکل، آپریشن ہو گا اور رسولیاں نکال دی جائیں گی”

“ڈاکٹر صاحب یہ رسولیاں خطرناک ہیں کیا؟ کوئی کینسر شینسر؟”

“نہیں یہ کینسر نہیں ہے”

لڑکی روتی چلی جا رہی تھی۔ نہ جانے کیوں؟

بچے دانی خاص قسم کے مسلز سے بنی ہوتی ہے۔ بعض دفعہ نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ مسلز آپ ہی آپ ضرورت سے زیادہ پھلنا پھولنا اور بڑھنا شروع کرتے ہیں اور پتھر جیسی سخت رسولیوں بنا دیتے ہیں ۔ بچے دانی میں بننے والی ان رسولیوں کو فائبرائڈ کہتے ہیں ۔

فائبرائڈ کی مختلف اقسام کو ان مقامات کے حوالے سے پکارا جاتا ہے جہاں وہ بچے دانی کے اندر پائی جائیں۔ مثال کے طور پہ انٹرا میورل، سب میوکس یا سب سیروسزل۔

فائبرائڈ ز کا حجم ایک بیر سے لے کر تربوز کے سائز تک کا ہو سکتا ہے۔ اندازہ لگائیے اگر کسی کی بچے دانی کے اندر تربوز جیسی دو تین رسولیوں موجود ہوں تو عورت کے پیٹ کا کیا حال ہو گا؟

فائبراؤڈ عورت کے خون پر پلتے ہیں اور ماہواری کے دوران بے تحاشا خون ضائع ہوتا ہے۔ اس وجہ سے عورت خون کی کمی کا شکار رہتی ہے۔ لیکن یہ تب ہی ہوتا ہے جب فائبرائڈ بڑے ہو جائیں ۔ دو تین سینٹی میٹر بڑے فائبراؤڈ ز کے ساتھ عموماً ماہواری زیادہ نہیں ہوتی سو ان کے لیے آپریشن نہیں کیا جاتا – لیکن پرائیویٹ ہسپتالوں کی روزی روٹی چونکہ انہی آپریشنز پر ہوتی ہے سو وہاں بیر جتنے فائبراؤڈ کے لیے مشورہ یہی دیا جاتا ہے کہ نکلوا دیں ۔

لوگ رسولی کا نام سنتے ہی اتنے خوفزدہ ہو جاتے ہیں کہ کچھ سوال جواب کیے بنا آپریشن پر رضا مند ہو جاتے ہیں ۔ جان لیجیے ، چھوٹے چھوٹے فائبراؤڈ اور جن کے ساتھ ماہواری نارمل ہو ، نکلوا نا دانش مندی نہیں ۔ ہاں ہر چھ مہینے بعد الٹرا ساؤنڈ سے سائز چیک کروا لینا چاہئے ۔

بڑے فائبروائڈ کو کچھ دوائیں دے کر چھوٹا کیا جا سکتا ہے لیکن مکمل طور پہ ختم نہیں ۔ اور دواؤں کے بعد احتمال ہوتا ہے کہ حجم پھر سے بڑھ جائے۔ اس لیے سب سے بہتر علاج آپریشن کے ذریعے نکلوانا ہی ہے۔

عام طور پہ یہ آپریشن کامیاب ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی آپریشن کے دوران خون بند نہیں ہو پاتا تو اس کا بھی حل موجود ہے کہ بچے دانی نکلا دیجیے۔ عورت کی زندگی سے بچے دانی اہم نہیں ہوتی ۔

چھپن فائبراؤڈ ایک ہی بچے دانی سے نکالنے کا تجربہ خوب یاد ہے ہمیں۔ بس ایسا تھا کہ پیاز کی تہیں اتارتے اتارتے ہر سائز کے فائبراؤڈ چھیل چھیل کر باہر نکالتے جاؤ۔

ڈاکٹری میں یقیننا بہت لطف ہے اگر مریض سے محبت کی جائے اور اس کی تکلیف کو اپنے دل پہ محسوس کرتے ہوئے ایسے علاج کیا جائے کہ یہ مریضہ نہیں، میری ماں بہن یا بیٹی ہے۔ اور اس کے ساتھ وہ کرنا ہے مجھے جو میں اپنے پیاروں کے ساتھ کرنا چاہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں