ارشد اسدی الحسینی

مباہلہ کیا ہے؟

سورۃ آل عمران ۔ 61
فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللہِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ۞
🍁ترجمہ🍁
(اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) اس معاملہ میں تمہارے پاس صحیح علم آجانے کے بعد جو آپ سے حجت بازی کرے تو آپ ان سے کہیں کہ آؤ ہم اپنے اپنے بیٹوں، اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر مباہلہ کریں (بارگاہِ خدا میں دعا و التجا کریں) اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔ (یعنی ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں تم اپنی عورتوں کو اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں تم اپنے نفسوں کو پھر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت کریں)۔ ۔
🍁تفسیر🍁
”مباہلہ “ در اصل ”بَہل“ کے مادہ سے ہے ۔ اس کا معنی ہے ”رہا کرنا “ اور کسی کی قید و بند کو ختم کر دینا ۔ اِسی بناء پر جب کسی جانور کو اُس کے حال پر چھوڑ دیں اور اس کے پستان کسی تھیلی میں نہ باندھیں تا کہ اس کا نوزائیدہ بچہ آزادی سے اس کا دودھ پی سکے تو اسے ” باھل “ کہتے ہیں ۔ دعا میں ”ابتھال“ تضرع و زاری اور کام خدا کے سُپرد کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔
کبھی کبھار یہ لفظ ہلاکت ، لعنت اور خدا سے دوری کے معنی میں اس لئے استعمال ہوتا ہے کہ بندے کو اُس کے حال پر چھوڑ دینا منفی نتائج کا حامل ہوتا ہے ۔ یہ تو تھا ” مباہلہ “ کا مفہوم اصل لغت کے لحاظ سے لیکن اس مروج مفہوم کے لحاظ سے جو اوپر والی آیت میں مراد لیا گیا ہے یہ دو اشخاص کے درمیان ایک دوسرے پر نفرین کرنے کو کہتے ہیں اور وہ بھی اس طرح کہ دو گروہ جو کسی اہم مذہبی مسئلے میں اختلافِ رائے رکھتے ہوں ، ایک جگہ جمع ہو جائیں ، بار گاہ الہٰی میں تضرع کریں اور اُس سے دعا کریں کہ وہ جھوٹے کو رسوا و ذلیل کرے اور اسے سزا و عذاب دے ۔
📚تفسیر نمونہ

اپنا تبصرہ بھیجیں