مجاہد الحسن

اچھے وقت کا انتظار

ہم سب ہمیشہ اچھے وقت کا انتظار کرتے رہتے ہیں مجھے سمجھ نہیں آتا کہ کیا جو وقت گُز رہا ہے وہ اچھا نہیں چائے وہ عام انسان ہو چاہے وہ پاکستان مطلب ہمارے مالک کے حکمران ہوں ہم ہمیشہ اپنی خوشی کے لیے دوسروں پر انگلی اُٹھاتے ہیں جسے جب بھی کوئی سیاسی جماعت حکومت سے باہر ہوتی ہے تو اداروں کو نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں کیا ہمارے ادارے ہی غلط ہے؟ کبھی کسی بے سوچا کے اِس میں ہمارا قردار کتنا ہے کیا ہم نے کوشش کی کے ہم صحیح ہو جائے باقی سب خود صحیح ہو جائیے گا نہیں ایسا بھلا ہم کیسے کر سکتے ہیں ؟ کیونکہ ہمیں تو عادت ہے اپنے آپ کو سچ کہنا اور دوسروں کو غلط کہنا یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک ترقی نہیں کر سکے جس کا دل کرتا ہے وہ اداروں کو بول دیتا ہے جس کا دل کرتا ہے وہ اپنے کالے کرتوتوں کا الزام دوسرے پر لگا کر خود الگ ہو جاتا ہے ہم بس گھر میں امی کی گود میں بیٹھ کر یہی کہے سکتے ہیں مہنگائی بہت ہو گئی بس فلاں حکومت ہوتی تو سب صحیح ہو جانا تھا اور یہی بات 1947 سے چلتی آئی ہے اور مجھے لگتا ہے کہ بس اِس بات پر ہی ہم نے رہ جانا ہے اِس سے آگے کچھ اِس ملک میں نہیں ہو سکتا وہ کہتے ہے نا جیسی عوام ویسے حکمران پر میں کہتا ہوں جیسے حکمران ویسی عوام کیونکہ ہم ٹرک کی بتی کے پیچھے لگ کر اپنے اداروں اور اپنی فوج کو غلط کہتے جن کی وجہ سے ہم سکون میں ہے آزاد جی رہے ہیں کاش کوئی فلسطین اور شام کی عورتوں سے پوچھتا کے جن کے ادارے کمزور ہو اُن کا کیا حال ہوتا ہے
ہر دوسرا شخص فتووں کے زَد میں ہے
پتا نہیں علم بڑ رہا ہے یا جہالت ؟

اپنا تبصرہ بھیجیں