افضال ریحان

تشدد بہرصورت نا قابل قبول ہے

جمہوریت محض الیکشن کروانے اور جیسی تیسی اسمبلیاں بنوانے کا نام نہیں ۔ یہ ایک فلسفہ یا طرز فکر ہے برداشت روا داری اور وسعت نظری کا ، اپنے علاوہ دوسروں کو عزت و وقار اور سپیس دینے کا، کسی بھی سماج میں اگر آزادی اظہار پر قدغنیں ہوں یا جبر کا دور دورہ ہو تو جمہوریت کاسوال ہی بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح اگر بھوک ننگ ہو یا شعور و تعلیم کی کمی ہو تو ایسے سماج میں عام شہری اپنی آزادانہ رائے قائم کیسے کرسکتا ہے، اس کا اظہار تو دور کی بات ہے ہمارے یہاں غلط طور پر یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ جمہوریت میں میجارٹی حاصل کرنے کے بعد کوئی جو چاہے کرے جبکہ مینارٹی کے اپنے حقوق ہوتے ہیں اور ہیومن رائٹس کی پاسداری کے بغیر جمہوریت کا نعرہ مذاق کے سوا کچھ نہیں۔اس ملک میں آج بہت سے لوگ حالات حاضرہ سے پریشان ہیں انہیں سمجھ نہیں آرہی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے؟ ایک سیاسی پریشر گروپ یا اس کی قیادت نے اگر کوئی غلطی کی بھی ہے تو اس کایوں تیاپانچا کیوں کیا جا رہا ہے؟ یہ نادیدہ قوتیں کون سی ہیں جو بالعموم پسِ پردہ رہ کر اور کبھی سامنے آ کر وہ رول ادا کرتی رہتی ہیں جو آئین میں کہیں بھی رقم نہیں ہے۔ درویش اپنے ان پریشان بھائی بہنوں کی خدمت میں عرض گزار ہے کہ آپ لوگ قطعی پریشان نہ ہوں مکمل اطمینان رکھیں کوئی جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے، جلاؤ گھراؤ توڑ پھوڑ یا تشدد کی اجازت کوئی بھی مہذب سماج نہیں دے سکتا چہ جائیکہ کسی جمہوریت میں اس کا تصور کیا جا سکے ۔یہ امر بھی پیش نظر رہے کہ آپ لوگوں کو کس نے اس غلط فہمی میں مبتلا کررکھا ہے کہ پاکستان انسانی حقوق اور آزادیوں سے مالا مال ایک جمہوری ملک ہے، تلخ سچائی تو یہ ہے کہ ناچیز نے پوری زندگی گزار دی ہے لیکن آج تک یہاں بیس یا پچیس فیصد سے زیادہ سچ بول یا لکھ نہیں سکا اور نہ کبھی لکھ سکے گا۔ مسئلہ محض طاقتوروں کا نہیں بلاشبہ جبر کا تربیلا ڈیم وہی ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی ان کی چھپی یا ظاہری اشیر باد سے بڑے بڑے نظریاتی و جنونی اس قوم میں پوری طاقت کے ساتھ براجمان ہیں ان سب کی موجودگی میں یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ یہاں کامل انسانی حقوق یا آزادیاں عوام کو میسر آ سکیں، عوامی جمہوریت تو کہیں اس سے آگے کی بات ہے۔ یہ سب تسلیم کرنے کے باوجود اصل بات وہی ہے کہ وائیلینس اور ڈیموکریسی دو متضاد اپروچز ہیں۔یہاں وقفوں کے ساتھ اگر عوامی نمائندوں کو اقتدار کی منتقلی ہوتی ہے تو وہ بعض حدود و شرائط کے تحت شراکت ہوتی ہے اور اگر وہ یہ محسوس کریں کہ شراکت والا اپنے آپ کو سچ مچ کا قائد عوام یا وزیر اعظم سمجھ بیٹھا ہے تو باگیں کھینچ لی جاتی ہیں۔ یہاں جتنے بھی عوامی لیڈر بنے ہیں بنیادی طور پر اسٹیبلشمنٹ کے تراشیدہ بت تھے وہ بڑی حد تک اپنی حدود کو پہچانتے تھے اس سلسلے میں محترمہ اور نواز شریف کی دو بہترین مثالیں ہیں، جنہوں نے طاقتوروں کی قدغنوں کو بھی پیش نظر رکھا مگر ساتھ ساتھ بڑی حکمت سے عوامی اتھارٹی کو منوانے کے لئے کاوشوں میں بھی کبھی کمی نہ آنے دی۔ شروع میں ان دونوں سے اچھی خاصی حماقتیں سرزد ہوئیں لیکن وقت کے ساتھ میچورٹی اتنی آتی چلی گئی کہ جس کی مثال ہماری حالیہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ جیسی دستاویز اسی سیاسی میچورٹی کا ثمر ہے جسے سیاسی حلقوں میں آئین جیسا تقدس ملنا چاہیے۔ اسی سیاسی بالغ نظری کے ساتھ ہماری جمہوریت بعض غلطیوں کے باوجود اچھی خاصی آگے بڑھ رہی تھی اچھی جمہوریتوں کی طرح یہاں ٹوپارٹی سسٹم مستحکم ہو رہا تھا کہ اچانک ایک طاقتور کے دماغ میں ذاتی یا شخصی مفاد کا کیڑا پیدا ہوگیا۔ یہ مفاداتی تخیل یا کیڑا کوئی پہلی مرتبہ تھوڑا نمو دار ہوا تھا، جاہ پسند ذہنیت کو جب بھی ماحول یا موسم بہتر محسوس ہو یہ نمودار ہو جاتا ہے۔ اس کا جرثومہ تو 2013ء اور 14ءسے ہی ٹامک ٹوئیاں مار رہا تھا اس کے لئے ایک کھلاڑی سامنے استادہ تھا۔ مسئلہ وہی نوکرپیشہ لوگوں کی قدیمی علت ایکسٹینشن، جبکہ نواز شریف نے اپنی پوری جدوجہد میں یہ سیکھ لیا تھا کہ ہر گز نہیں۔ جب میں عوامی ووٹ کی واضح طاقت سے آیا ہوں بگڑی ہوئی جوڈیشری تک سے یہ منوا چکا ہوں اور جوابدہ بھی عوام کی عدالت کو ہوں تو پھر کسی کی دھونس یا بلیک میلنگ میں کیوں آئوں؟ ہندیاترا، مشرف کے احتساب اور ڈان لیکس جیسے عوامی اتھارٹی کے فیصلے عوامی جمہوریت کی جانب پیش قدمی کی نشاندہی کر رہے تھے ردعمل میں عمرانی پراجیکٹ کو اٹھاتے ہوئے براستہ ’’مجھے کیوں نکالا‘‘ 2018 میں من پسند نتائج سے سرتابی کی سوائے مولانا کے کسی میں تاب نہ تھی، مرتا کیا نہ کرتا، جینوئن سیاسی لوگ تھے تمام صعوبتیں سہہ گئے بالکل نہیں ٹوٹے، حکمت سے بچائو کی راہیں نکالتے رہے تاوقتیکہ اگلی ایکسٹینشن کا کیڑا پھر انگڑائی لینے لگا۔ اب کے جو کٹھ پتلی تھا اس نے سوچا کہ میں تو اب جناح ثالث بن چکا ہوں کب تک میری مغرور ذہنیت بوٹوں تلے دبی رہے گی کیوں نہ میں ہی سب کچھ بن جائوں۔ بس اس خمار نےکھلاڑی کو کہیں کا نہ چھوڑا۔ جواب ملا کہ ہماری بلی اور ہمیں کو میائوں، اگر للکارناتھا تو روز اول کٹھ پتلی کیوں بنے تھے۔تین دفعہ کے منتخب وزیراعظم نے اچھے خاصے دھکے کھا کر اتنا تو سیکھ لیا تھا کہ نکے بھائی اور کمزور ساتھیوں کی طرح یہ نہیں کرنا کہ ’’یہ ناداں گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔‘‘ اب کے حاجی صاحب نہیں حافظ صاحب کو سامنے لانا ہے، بیماری چیڑی ہے تو حکیم بھی حاذق یا حافظ لانا ہوگا۔ سو مجرب نسخہ کامیاب و کارگر ثابت ہوا۔ دوسری طرف ظاہر ہے خودسر ی تو ہونا ہی تھی ،جو ستمبر اکتوبر سے شروع ہو کر 9 مئی پر منتج ہوئی۔ آج خواہ مخواہ کی بے وجہ بحث چھیڑی جاتی ہے کہ 9 مئی کے بدترین تشدد کا ذمہ دار یا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟تجاہل عارفانہ ہو تو الگ بات ہےورنہ دہشت و تشدد کے سہولت کار اندھیرے میں ہیں نہ ماسٹر مائنڈ کسی غار میں چھپا بیٹھا ہے۔ فیصلہ طاقتوروں نے کرنا ہے کہ اپنی اس قدر تذلیل کروا کر بھی لاڈیاں دیکھنی ہیں یا ملٹری کورٹس میں پیشی کا اہتمام کرنا ہے اور بڑی سویلین کورٹ کو کب اس کے عاشق سہولت کاروں سے مکتی دلانی ہے؟بہت سے جمہوریوں کو پریشانی کھائے جا رہی ہے کہ حاجی اور حافظ اکٹھے کیوں بیٹھے ہوئے تھے؟ شہداء کی عزت افزائی کے لئے یہاں حاجی کی جگہ بلند پرواز پالشتیے یا وزارت دفاع کے باتونی مالشیےکو ہی سپاسنامہ پیش کرنے کا موقع بخش دیا جاتا مگر کیا کریں کوئی جتنا بھی طاقتور ہو اس کی بھی کچھ نہ کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں اس نے بھی اپنی طاقت کا بھرم یا رعب داب قائم رکھنے کے لئے کچھ جتن کرنے ہوتے ہیں۔رہ گیا شخصی مفاد کےلئے آئین و قانون کا کھلواڑ طاقتوروںکیلئے یہ سب کتابی باتیں ہیں اس حوالےسے جو اودھم سپریم جوڈیشری میں براجمان اٹھائے ہوئے ہیں اگر وہ ہضم ہو سکتا ہے تو طاقتوروں کا معدہ ان سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ البتہ جو حاضر امام سے ٹکرائے گا وہ ضرور کچلا جائے گا۔ موقع کی مناسبت سے جناح ثالث کی خدمت میں مصور مملکت کے عطا کردہ نظریہ امامت کی ایک جھلک قابل ملاحظہ ہے۔’’تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے… حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے…ہے وہی تیرے زمانے کا امامِ برحق …جو تجھے حاضر و موجود سے بیزار کرے…موت کے آئینے میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست… زندگی تیرے لئے اور بھی دشوار کرے۔‘‘لہٰذا اس دشواری سے بچنے کا مجرب نسخہ یہی ہے کہ جیسے تیسے مل ملا کر یا بڑے شاہی مہربانوں کو بیچ میں ڈال کر اپنے بال بچوں کے پاس پہنچ جانے کی ڈیل فرمالیں اور بزرگی کی اگلی زندگی سکون سے گزاریں۔ قوم سے ایمانداری کے نام پر لیا گیا اچھا خاصا مال اسباب اور بیگمات سے وصول کردہ تحفے تحائف کم از کم بقیہ زندگی میں اختتام پذیر نہ ہوں گے۔ اس کے برعکس اگر لیڈری کا جرثومہکسی کروٹ چین نہیں لینے دیتا تو پھر عزیمت کی راہ اختیار کرتے ہوئے وہی حوصلہ دکھائیں جس کی توقع آپ اپنے سیاسی مخالفین سے کیا کرتے تھے۔ مت بھولیں کہ حکمرانی یا حصولِ اقتدار کی ہوس و حسرت اگر سینے میں تڑپنے لگے تو پھر لوگ ملٹری کورٹس کیا جیلوں کی اذیتیں برداشت کرتے ہوئے سولی پر چڑھ جاتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے قائدِ عوام یا شہیدِ ملت کہلاتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں