muhammad mansoor khan

امریکہ بھارت مشترکہ اعلامیہ

امریکی صدرجو بائیڈن اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا کہ بھارت کو نشانہ بنانیوالی تنظیموںکیخلاف پاکستان کارروائی کرے ، رپورٹس کے مطابق بھارت پاکستان پر الزام تراشی سے بازنہ آیا اور امریکہ کے دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نے پھر زہر اُگلنا شروع کر دیا ۔ امریکہ نے خطے میں 40سال میں دوناکام مداخلتیں کیں،پاکستان آج بھی امریکہ کی ورثے میں چھوڑی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہاہے خطے میں دہشت گردی کے بیج بونے میں امریکہ کابھی بڑا کردار ہے۔ بھارت میں وزیراعظم اوروزرادہشتگردی کو فروغ دے رہے ہیں۔ وائٹ ہائوس اعلامیہ خطے کی تاریخ میں امریکی کردارسے نابلد ہونے کا ثبوت ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی کا ورثہ امریکہ کی وجہ سے ملا امریکہ اور پاکستان ہنوزاس سے نبردآزما ہے ، اب بھی ہمارے فوجی جوان شہید ہو رہے ہیں ۔ امریکی صدر یا وائٹ ہائوس کو اعلامیہ جاری کرنے سے پہلے سوچنا چاہئے تھا ۔قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کو قتل اورخواتین کی عصمت دری کی گئی ،مودی کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہیں۔ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں ۔ امریکہ کو دہشت گردی کاپس منظر یاد رکھنا چاہئے۔
مقبوضہ کشمیر میں جو بھارتی دہشت گردی جاری ہےاسکی پاکستان کی جانب سے شدید مذمت کی گئی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زوردیا کہ وہ بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں وکشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داری ادا کرے ، بھارت کو مقبوضہ جموںو کشمیرکی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی مذموم منصوبہ بندی کے ساتھ ساتھ بیگناہ کشمیریوں پر بے لگام جبر کا ذمہ دار ٹھہرایا جاناچاہئے ، ترجمان نے کہا کہ ہمیں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش ہے گزشتہ سال صرف اکتوبر میں بھارتی افواج نے ریاستی دہشتگردی کی مسلسل کارروائیوں میں 14کشمیریوںکو جعلی مقابلوں اور غیر قانونی حراست میں شہید کیا۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے دہشتگردی کے تدارک کی نادر مثال پیش کی، پاکستان کے عوام اس جنگ میں اصل ہیرو ہیں اور عالمی برادری نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کو باربار تسلیم کیا ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مشترکہ بیان میں امریکہ نے مقبو ضہ کشمیر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا نوٹس تک نہیں لیا جو اسکی بین الاقوامی ذمہ داری سے دستبرداری کے مترادف ہے ۔
ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کو مشترکہ تعاون پر مبنی اقدامات کے ذریعے شکست دی جاسکتی ہے۔ یہ امر واقع ہے کہ اس خطے اور پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں خود بھارت ملوث ہے جس نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے اس خطے ہی نہیں،عالمی امن کو تباہ کرنے کی بھی ٹھانی ہوئی ہے جو امریکی افغان جنگ کے دوران اپنے دہشت گردوں کو افغانستان میں تربیت دلواکردہشتگردی کیلئے پاکستان بھجواتارہا ۔ اس نے دہشتگردی کے ذریعے پاکستان کی سلامتی تاراج کرنے کے معاملہ میں افغانستان کی کٹھ پتلی حکومتوں کی بھی سر پرستی کی جس کے ٹھوس ثبوت اور شواہد بھارتی جاسوس دہشتگرد کلبھوشن کی گرفتاری کے بعد پاکستان میں پھیلائے اسکے دہشتگردی کے نیٹ ورک کی صورت میں حاصل ہوئے اور پاکستان نے ان ثبوتوں پر مشتمل دو ڈوزیئر تیار کرکے اقوام متحدہ ، امریکی دفتر خارجہ ،یورپی پارلیمنٹ اور دنیا کے دوسرے ممالک کے سفارت خانوں کو بھی بھجوائے۔
مودی کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیے میں مودی سرکار کے مظالم کو نظر انداز کرتے اور پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی کا الزام دھرتے ہوئے امریکی کانگریس کے 78ارکان کے دستخطوں کے ساتھ جاری اس مشترکہ بیان کو بھی درخوراعتنانہ سمجھا گیا جس میں بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ غیر مساوی سلوک پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ۔ بھارت اورامریکہ کا مشترکہ اعلامیہ پاکستان پر دبائو ڈالنے کی کوشش ہے پاکستا ن کو اپنا ذکر پراکسی جھگڑوں ، دہشتگردی اور دیگر منفی حوالوں سے کرنے پر اس اعلامیہ کی سخت مذمت کرنی چاہئے ۔ لیکن ہمارے حکمرانوں کوتواپنے سیاسی مخالفین کو مائنس کرنے سے ہی فرصت نہیں ،حکمران اتحاد ایک طرف اپنے مخالفین کو دیوار سے لگانے میں مگن ہے تو دوسری جانب عدلیہ سے محاذ آرائی شروع کر رکھی ہے ملک میں جاری سیاسی ومعاشی عدم استحکام کے باعث بیرونی قوتوں کو بھی پاکستان پر دبائو ڈالنے کا موقع مل رہاہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں