Dr Ijaz Ahmad

بے لگام

ویسے تو ہمارے دیس میں سب بے لگام ہے۔ کوئی بھی کل سیدھی نہیں۔ تنقید کرنا دوسروں پر الزام تراشی کرنا ہم سب کا محبوب مشغلہ ہے۔ اور یہ سب سے آسان کام بھی۔ ہم حکومت اور اس کے زعماء کو ہر کام میں موردالزام ٹھیراتے ہیں۔اور خود کو بری الزمہ قرار دے لیتے ہیں۔لیکن اگر ہم اپنے ملک اور قوم خاص کر خود کے ساتھ مخلص ہیں تو آبادی کا بے لگام بڑھناایک ایسا ایشو ہےجو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے ۔ جب تک ہر فرد اس کو اپنی ذمہ داری نہیں سمجھے گا۔ اس کی حساسیت اس کے نتائج سے پوری طرح آگاہ نہیں ہو گا۔ اس مسئلے کا حل نہیں نکل سکے گا۔ ہمارے ملک کے بہت سے مسائل ہیں جن پر سیر حاصل بات ہو سکتی ہے۔ جس مسئلے کی طرف میں نشان دہی کرنے جا رہا ہوں۔ بہت سوں کی نظر میں یہ مسئلہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ جن لوگوں نے عوام الناس کو اس ایشو کی سنگینی کا احساس دلانا ہے۔ وہ خود اس میدان کے کھلاڑی ہیں۔ وہ کیسے دوسرے کو مطمئن کر سکتے ہیں۔ یا سمجھا سکتے ہیں۔
مہنگائی، بیروزگاری،صحت کے مسائل، تعلیم کے مسائل، روٹی، کپڑا، مکان غرض ہر کوئی کسی نہ کسی طرح ان مسائل میں گھرا ہوا ہے۔
اور ہم ہر حکومت سے یہ امید لگا لیتے ہیں کہ وہ ہمارے مسائل حل کرے گی۔ ایک دیوانے کے خواب سے زیادہ کچھ نہیں کیونکہ ان کی نظر میں بھی اس بے لگام آبادی کو کنٹرول کرنے کی کوئی بھی مثبت دیرپا کامیاب پالیس ان کے پاس نہیں ہے۔ یہ لوگ خود تین تین شادیاں کر کے کس طرح عوام کو آبادی نہ بڑھانے کا مشورہ دے سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ ان کی ترجیحات میں سرے سے شامل نہیں ہے۔اور نہ ہی اس کو ہمارے مذہبی معاشرے میں صیح سے اجا گر کیا جا سکا ہے۔
اگر اس مسئلے کو ام المسائل کہا جائے تو غلط نہ ہو گا۔اس مسئلے کو ایک مخصوص عینک سے دیکھا اور دیکھایا جاتا ہے۔اس پر بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی بھڑ کے چھتے کو چھیڑ لینا۔
“بیشک ہر ذی نفس کےرزق کا ذمہ قادرمطلق کے پاس ہے۔یہ ہمارا جزو ایمان ہے۔ توکل کرنا بھی اچھی بات ہے۔ پر اونٹ کو باندھ کر توکل کرنا سکھایا گیا ہے۔ غوروفکر کرنا۔ تدبیر کرنا بھی بتلایا گیا ہے۔ انسان کو عقل اور شعور بھی دیا گیا ہے۔ جانور اور انسان میں فرق یہی عقل اور شعور کرتا ہے۔”
ہمارے وسائل روز بہ روز کم ہو رہے ہیں۔ آبادی کا جن بوتل سے نکل چکا ہے۔ الہ دین کا چراغ بھی مل جائے تو یہ مسئلہ چٹکی بجا کے حل ہو جائےممکن نہیں ہے۔
ہم اپنی تعمیرات کو بڑھائیں جا رہے ہیں۔ شہر اپنی استعداد سے زیادہ بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں۔زرعی زمینیں اندھا دھند ختم کئے جا رہے ہیں۔ بچوں کی تعداد بڑھائی جا رہے ہیں یہ سوچے سمجھے بغیر کہ ان کو اچھا مفید شہری کیسے بنانا ہے۔
اب تک تو جو محکمہ اس آبادی کو کنٹرول کرنے کے لئے بنایا گیا تھا وہ پوری طرح ناکام دکھائی دے رہا ہے۔
جب تک ہم اپنے مسجد کے منبر کو اس مسئلے کی سنگینی کا احساس نہیں کروائیں گے کامیابی ممکن نہیں۔ مذہبی اسکالرز کا رول اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
لیڈی ہیلتھ ورکر کی بنیادی ضروری ڈیوٹی یہ ہونی چاہئے کہ وہ اپنے اپنے علاقے میں پوری شدومد سے اس مسئلے کی سنگینی سے لوگوں کو روشناس کروائیں انہیں ان کی ذمہ داری بتائیں۔ کہ ہم سب مل کر کیسے اپنے وسائل کے اندر رہ کر ملک کی ترقی میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ کیسے ہم روزمرہ کی ضرویات سے بطریق احسن نبرد آزما ہو سکتے ہیں۔ کیسے اپنے گھر کو خوشحال کر سکتے ہیں۔ جتنے بھی لوگ اس محکمے میں موجود ان سب کی سکروٹنی ہونی چاہئے بس وہی لوگ اس ڈیوٹی کو سر انجام دیں جو خود سختی سے دو بچے خوشحال گھرانے پر پورے اترتے ہوں۔
ہمیں پرائمری تعلیم سے بچوں کو وسائل اور مسائل سے روشناس کروایا جائے ان کے دماغ میں راسخ کیا جائے کہ ہم نے آبادی کے تناسب کو بے لگام نہیں ہونے دینا ہے۔
ہمیں ان ممالک کی پالیسی کا باریک بینی سے جائزہ لینا چاہئے جنہوں نے اپنی آبادی پر موثر کنٹرول پایا
ہمیں اس پر سخت قانون سازی کرنا ہو گی۔
گائنی سے منسلک لوگوں کو پابند کیا جائے کہ وہ والدین کی کونسلنگ لازمی کریں۔
دو بچوں کی پیدائش کے بعد ہر بچے کی پیدائش پر اتنا ٹیکس لگایا جائے جتنا گورنمنٹ بچے کی ایجوکیشن صحت پر خرچ کرتی ہے۔ چاہے وہ اقساط کی شکل میں ہو۔جب تک حکومتی سطح پر بے لگام آبادی کے بڑھتے ہوئے بم کو روکنے کے لئے سخت اقدامات نہیں لے گی یہ بم کبھی بھی پھٹ سکتا ہے۔اور ہم سب اس کی زد میں ہیں اور ہوں گے۔ بحثیت پاکستانی ہمیں سب کو بھی انفرادی سطح پر اپنا اپنا رول ادا کرنا ہو گا۔ جب تک ہماری سوچ عمل میں ہم آہنگی نہیں آئے گی آگے بڑھنے کا عمل سست روی کا شکار رہے گا۔ معاشرے میں بد امنی ، مہنگائی تعلیم صحت بیروزگاری جیسے مسائل اژدھے کی طرح پھن پھیلائے ہمارے سامنے موجود رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں