Habibjalib

آج حبیب جالب کا یومِ وفات ہے

جالب کا انتقال 12 اور 13 مارچ 1993 کی درمیانی شب ساڑھے بارہ اور پونے ایک کے درمیان ہوا تھا۔ اخبارات تین بجے تک تیار ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے 13 کے اخباروں میں خبر چھپ گئی ۔ یوں غلط فہمی ہوئی کہ 12 کو انتقال ہوا۔
صحیح تاریخ وفات 13 مارچ ہی ہے، جو ان کی قبر کے کتبے پر بھی درج ہے۔

حبیب جالب 1928ء میں قصبہ دسویا ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ اینگلو عربک ہائی اسکول دہلی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔ آزادی کے بعد کراچی آ گئے ۔ گورنمنٹ ہائی اسکول جیکب لائن کراچی سے مزید تعلیم حاصل کی، روزنامہ جنگ میں ملازمت کی۔ کچھہ عرصہ معروف کسان رہنما حیدر بخش جتوئی کی سندھ ہاری تحریک میں کام کیا۔ معاشرتی ناانصافیوں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔ لائلپور ٹیکسٹائل مل میں بھی ملازم رہے۔ بالآخر 1956ء میں لاہور میں رہائش اختیار کی۔
یہ اعجاز ہے حسن آوارگی کا
جہاں بھی گئے داستاں چھوڑ آئے
پہلا مجموعہ کلام برگ آوارہ کے نام سے 1957ء میں شائع ہوا
ایوب خان اور یحییٰ خان کے ادوار آمریت میں متعدد بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ 1960ء کے عشرے ميں اسیری کے دوران کی گئی شاعری کا مجموعہ ”سرِمقتل” کے عنوان سے شائع ہوا جو حکومتِ نے ضبط کرلیا۔

ایوب خاں نے نام نہاد دستور پیش کیا تو جالب نے اپنی مشہور زمانہ نظم کہی
۔۔ایسے دستور کو میں نہیں مانتا۔۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد جنرل یحییٰ خان نے اقتدار اکژیتی پارٹی کو منتقل نہیں کیا بلکہ گولیاں برسایئں تو جالب کہ رہے تھے
محبت گولیوں سے بو رہے ہو
وطن کا چہرہ خوں سے دھو رہے ہو
گماں تم کو کہ رستہ کٹ رہا ہے
یقیں مجھ کو کہ منزل کھو رہے ہو

1974ء میں بھٹو دور میں نام نہاد حیدرآباد سازش کیس بنا توجالب کی یہ نظم بہت مشہور ہوئی:
قصر شاہی سے یہ حکم صادر ہوا
لاڑکانے چلو، ورنہ تھانے چلو

ضیاء الحق کے مارشل لا میں جب حیدرآباد سازش کیس ختم ہوا اور اس کے اسیروں کو رہائی ملی تو انہوں نے اوروں کی طرح بھٹو دشمنی میں نہ ہی ضیاءالحق سے ہاتھ نہیں ملایا بلکہ کہا :
ظلمت کو ضیا ء صر صر کو صبا بندے کو خدا کیا لکھنا
آمریت کے بعد جب پیپلز پارٹی کا پہلا دور حکومت آیا اور عوام کے حالات کچھ نہ بدلے تو جالب صاحب کو کہنا پڑا:
وہی حالات ہیں فقیروں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
ہر بلاول ہے دیس کا مقروض
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے

جالب کے مجموعے
برگِ آوارہ، سرِ مقتل، صراط مستقیم ،ذکر بہتے خوں کا ،گنبدِ بے در، اس شہرِ خرابی میں ، گوشے میں قفس کے ،حرفِ حق ، حرفِ سرِ دار ،عہد ستم ، کلیات حبیب جالب

جالب نے فلم کیلئے بھی کافی لکھا ۔ ہم ایک ہیں‘موت کا نشہ ‘ناگ منی‘دو راستے‘ زخمی‘ بھروسا قابلِ ذکر ہیں ۔ فلم زرقا میں ’رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے‘ کو بہت مقبولیت ملی ۔

حبیب جالب کے کچھ اشعار

تم سے پہلے وہ جو اک شخص یہاں تخت نشیں تھا
اس کو بھی اپنے خدا ہونے پہ اتنا ہی یقیں تھا

لاکھہ کہتے رہیں ظلمت کو نہ ظلمت لکھنا
ہم نے سیکھا نہیں پیارے بہ اجازت لکھنا

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھہ کہتے ہیں

یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر

آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

چھوڑ اس بات کو اے دوست کہ تجھہ سے پہلے
ہم نے کس کس کو خیالوں میں بسائے رکھا

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھہ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

دنیا تو چاہتی ہے یونہی فاصلے رہیں
دنیا کے مشوروں پہ نہ جا اس گلی میں چل

دشمنوں نے جو دشمنی کی ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں
دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھہ کہتے ہیں

اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیں
آ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کے

اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری
دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں
دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

کچھہ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

کچھہ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں

لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
جستجو آج بھی اسی کی ہے

تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔ
الگ تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے

ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔ
دیر تک ان کا انتظار رہا

اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئی
ختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

آنے والی برکھا دیکھیں کیا دکھلائے آنکھوں کو
یہ برکھا برساتے دن تو بن پریتم بیکار گئے

دل کی بات لبوں پر لا کر اب تک ہم دکھہ سہتے ہیں
ہم نے سنا تھا اس بستی میں دل والے بھی رہتے ہیں

اک تری یاد سے اک تیرے تصور سے ہمیں
آ گئے یاد کئی نام حسیناؤں کے

اک عمر سنائیں تو حکایت نہ ہو پوری
دو روز میں ہم پر جو یہاں بیت گئی ہے

جن کی خاطر شہر بھی چھوڑا جن کے لیے بدنام ہوئے
آج وہی ہم سے بیگانے بیگانے سے رہتے ہیں

جن کی یادوں سے روشن ہیں میری آنکھیں
دل کہتا ہے ان کو بھی میں یاد آتا ہوں

کچھہ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں
کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

کچھہ لوگ خیالوں سے چلے جائیں تو سوئیں
بیتے ہوئے دن رات نہ یاد آئیں تو سوئیں

لوگ ڈرتے ہیں دشمنی سے تری
ہم تری دوستی سے ڈرتے ہیں

نہ تیری یاد نہ دنیا کا غم نہ اپنا خیال
عجیب صورت حالات ہو گئی پیارے

پا سکیں گے نہ عمر بھر جس کو
جستجو آج بھی اسی کی ہے

تمہیں تو ناز بہت دوستوں پہ تھا جالبؔ
الگ تھلگ سے ہو کیا بات ہو گئی پیارے

ان کے آنے کے بعد بھی جالبؔ
دیر تک ان کا انتظار رہا

اس ستم گر کی حقیقت ہم پہ ظاہر ہو گئی
ختم خوش فہمی کی منزل کا سفر بھی ہو گیا

یہ اور بات تیری گلی میں نہ آئیں ہم
لیکن یہ کیا کہ شہر ترا چھوڑ جائیں ہم

(اسلم ملک کی وال سے)

اپنا تبصرہ بھیجیں