آغا وقار ھاشمی

مسلم بن عقیل (ع)کی پیاس

امام حسین (ع) نے جنابِ مسلم۔بن عقیل (ع) کو نیمہء رمضان 60 ہجری کو قیس بن مسہر صیداوی، عمارہ بن عبداللہ سلولی، اور عبدالرحمٰن ازدی کے ہمراہ بطور سفیر کوفہ کی طرف روانہ کیا،
اس سے پہلے اھلِ کوفہ کے خطوط کے جواب میں جو خط امام حسین (ع) نے لکھا اس میں جنابِ مسلم کا تذکرہ کچھ یوں کیا :
” اني باعث اليكم اخي و ابن عمي و ثقتي من اهل بيتي ”
امام حسین (ع) کے ان الفاظ سے بھی جنابِ مسلم کی قدر و منزلت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،
جنابِ مسلم مذکورہ بالا افراد کے ہمراہ مدینہ پہنچے، روضہء رسول (ص) پر سلام کیا، نماز کی چند رکعتیں پڑھیں، اپنے اعزاواقارب سے الوداع کیا،
اور قبیلہ قیس کے دو راستہ شناس آدمی اجرت پر ساتھ لئے کہ وہ راستے کی راہنمائی کرتے رہیں،
اتفاقاً ایسا ہوا کہ یہ لوگ عرب کے ریگستان میں گم ہو گئے اور اُسی ریگستان میں بھٹکنے لگے،
پانی کا نہ ہونا، ریگستان کی شدید گرمی، اور پیاس کی شدت نے سب کو نڈھال کیا ہوا تھا، اور راستہ مل نہیں پا رہا تھا،
بالاخر ریگستان سے نکلنے کے جو نشان ملے تو اُس وقت تک وہ دونوں راستہ دکھانے والے جو اجرت فرمایا،
لئے گئے تھے، انہوں نے جنابِ مسلم کو ہاتھوں کے اشارے سے راستے کی نشاندہی کی اور شدتِ پیاس سے نڈھال ہو کر گر پڑے اور جاں بحق ہو گئے،
جنابِ مسلم اور انکے ساتھیوں نے ہمت نہ ہاری اور بمشکل خود کو وادیِ خبیت کے ایک مضیق نامی آباد چشمے پر پہنچا پائے،
وہاں پہنچ کر پانی کی نعمت سے سیر ہوئے اور زندگی کی رمق جو معدوم ہو چلی تھی، بحال ہوئی،
وہاں قیام فرمایا، اور قیس بن مسہر صیداوی کے ہاتھ امام حسین (ع) کی خدمت میں ایک مکتوب ارسال کیا، جس میں اپنے سفر کے مصائب اور شدتِ پیاس کا تذکرہ کیا،
امام حسین (ع) نے سفرِ کوفہ جاری رکھنے کا پیغام بھجوایا،
جنابِ مسلم 5 شوال کو کوفہ میں داخل ہوئے،
سلیمان بن صرد خزاعی کوفہ میں موجود نہ تھے، ورنہ انہی کہ ہاں قیام فرماتے،
مشہور یہہ ہے کہجنابِ مسلم نے جناب مختارِ ثقفی کے ہاں قیام فرمایا،
ایک جگہ مروج الذہب میں نقل ہوا ہے کہ مسلم بن عوسجہ کہ ہاں قیام فرمایا،
ابنِ زیاد کی کوفہ آمد کے بعد جنابِ مسلم خفیہ طور پر ہانی بن عروہ کے ہاں منتقل ہو گئے،

حوالہ :
سعادت الدارین فی مقتل الحسین، صفحہ 228-234
…………………………………….
نوٹ : مندرجہ بالا جنابِ مسلم کی پیاس کے واقعے سے آپکو اندازہ ہوا ہو گا کہ امام حسین (ع) اور انکے انصارین کے ساتھ ساتھ سفیرِ امامِ حسین (ع) کو بھی شدید پیاس کی آزمائش سے گزرنا پڑا،
شدتِ پیاس کا اندازہ آپ اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ وہ دو افراد جو کہ راستہ دکھانے کے لئے اجرت پر ساتھ آئے تھے، وہ پیشہ وارانہ مسافر تھے، انکو تو سفر کی صعوبتوں کی عادت اور تجربہ ہو گا، وہ بھی اُس پیاس کی تاب نہ لا سکے اور شدتِ پیاس سے ہی جاں بحق ہو گئے،
کیونکہ عام طور پر جنابِ مسلم کے کوفہ میں پیش آنے والے واقعات ہی پڑھے اور سنے جاتے ہیں، اس لئے سوچا ان واقعات کا ذکر بھی کروں جو بہت سے لوگ نہیں جانتے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں