مظہر برلاس

یہ عظیم لوگ ہیں

حالیہ واقعات نے بہت کچھ بے نقاب کر دیا ہے۔ سیاست کے جھوٹے کردار اور ابن الوقت لوگ بے نقاب ہوگئے ہیں۔ پرفریب وفاؤں کا کھوج لگ گیا ہے۔ دھوکے اور دغے کی وضاحت ہو گئی ہے۔کھرے کھوٹے کی تمیز کے ساتھ سازشی اور ظالم بے نقاب ہو گئے ہیں ۔ جبر کے سامنےکون کھڑا ہو سکتا ہے۔ کون کتنا بہادرہے۔پاکستانی سیاست کی حالیہ بساط دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دو فرمودات یاد آ رہے ہیں جن سے انسانوں کے کردار کی وضاحت ہوتی ہے۔ امام علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں’’مومن جب دیکھتا ہے تو عبرت حاصل کرتا ہے اور جب خاموش رہتا ہے تو غور کرتا ہے۔ جب بولتا ہے تو ذکر خدا کرتا ہے اور جب اسے کچھ دیا جائے تو خدا کا شکر ادا کرتا ہے اور جب بلاؤں میں گھر جاتا ہے تو صبر کرتا ہے‘‘۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے’’خواہشیں بادشاہوں کو غلام بنا دیتی ہیں اور صبر غلاموں کو بادشاہ بنا دیتا ہے۔‘‘
صاحبو!! یہ عظیم فرمودات مجھے اس لئے یاد آرہے ہیں کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد پاکستانی سیاست میں عجیب و غریب ڈرامے ہوئے۔ کچھ سیاسی رہنماؤں کے بقول پی ڈی ایم کی سوچی سمجھی سازش سے یہ واقعات رونما ہوئے۔ جو لوگ بھی اس کا ایندھن بنے وہ یقیناً قابل مذمت ہیں مگر حکمرانوں نے اپنی غفلت کو چھپانے کیلئے سارا ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنا شروع کیا تو بد قسمتی سے ہمارے ادارے بھی اس کے شراکت دار بن گئے ، بغیر کسی تحقیق اور تفتیش کے پی ٹی آئی پر کریک ڈاؤن کر دیا گیا۔ واقعہ لاہور میں ہوا ، سزا ملتان کے لوگوں کو دی جانے لگی بلکہ یوں سمجھئے کہ پورے ملک میں جہاں جہاں پی ٹی آئی کے لوگ تھے ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ اس مشکل ترین دور میں کچھ لوگ تو بالکل کاغذی ثابت ہوئے اور پریس کانفرنسیں کرتے نظر آئے مگر کچھ لوگ عظمت کے مینار نظر آئے ۔ حیرت ہے کہ جب ہماری سیاست مفادات کا کھیل بن چکی ہے تو ایسے میں بھی کچھ عظیم لوگ موجود ہیں۔ مفادات جنہیں توڑنے میں کامیاب نہیں ہوتے، سزائیں جنہیں خوفزدہ نہیں کر سکتیں، مظالم کی انتہا ان کے حوصلے پست نہیںکر سکتی، ایسے لوگوں میں وہ سینکڑوں کارکن شامل ہیں جو جیلوں سے رہائی پانے کے بعد سیدھا زمان پارک آئے، یہ وہ کارکن ہیں جن کے بڑے بڑے نام تو نہیں لیکن ان کے کردار بڑے ہیں۔ کچھ ایسے رہنما بھی ہیں جن کی ہمت کو داد دئیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔ ایسے حوصلہ مندوں میں اعظم سواتی اور علی امین گنڈا پور کا نام شامل ہے۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کا حوصلہ نہیں ٹوٹا، وہ حوصلے اور صبر کے ساتھ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ گجرات کے سلیم سرور جوڑا جو عارضہ قلب میں مبتلا ہیں مگر کیا جگرا ہے کہ دورانِ حراست بھی ببانگ دہل کہتا ہے کہ’’مجھے بے شک گولی مار دو میں عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا‘‘۔ خانیوال کے حسین جہانیاں گردیزی 22 روزہ قید کے بعد بھی بڑھاپے میں فتح کا نشان بناتے نظر آتے ہیں۔ یہی حال میاں محمود الرشید، ڈاکٹر یاسمین راشد اور عالیہ حمزہ کا ہے جو بہادری کے ساتھ جبر برداشت کر رہے ہیں۔ وفا کے پل پہ کھڑے اعجاز چوہدری قید و بند میں بھی لا الہ الااللہ کی پکار جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جبر و ستم کے تمام پہلوئوں کے سامنے زخموں سے چور ہمارے پیارے راوین عمر سرفراز چیمہ بہادری کا پہاڑ بن کر کھڑے ہیں۔ میرے گورنمنٹ کالج لاہور کے جونیئر شہریار آفریدی ایک لمحے کیلئے بھی نہیں ہارے بلکہ انہوں نے وفا کو زندگی کی علامت بنا دیا ہے۔ قومی اسمبلی میں آخری روز شعلہ بیانی کرنے والے خطیب عصر علی محمد خان چٹان کی طرح عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
میں یہاں کچھ ایسے لوگوں کا تذکرہ کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں جن پر زمین تنگ کر دی گئی ، ان کے اہل خانہ اور رشتے داروں کو بہت تنگ کیا جارہا ہے مگر وہ کسی صورت پارٹی چھوڑنے پر تیار نہیں ، ان میں عثمان ڈار، میاں اسلم اقبال، حماد اظہر، پیر نور الحق قادری، عمر ایوب خان، قاسم سوری، مراد سعید، صداقت عباسی، ڈاکٹر افتخار درانی، احتشام خان اور فرخ حبیب سمیت کچھ اور لوگ شامل ہیں۔ میرے کالج کے جونیئر علی نواز اعوان اور بہت پیارے عامر ڈوگر، ان دونوں پر باقی سختیوں کے علاوہ ان کے کاروبار بھی تباہ کر دئیے گئے۔ سندھ کے کچھ ممبران اسمبلی پر بھی زمین تنگ کی جا چکی ہے۔ یہاں میں پی ٹی آئی کی بہادر خواتین کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتا ہوں جو بڑی بہادری سے ظلم و ستم کا مقابلہ کر رہی ہیں اور اپنی سیاست چھوڑنے پر تیار نہیں ۔ عمران خان کے اتحادی ایم ڈبلیو ایم کے سربراہ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور شیخ رشید احمد بھی داد کے مستحق ہیں کہ وہ آزمائش کے دنوں میں عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں، یہ سیاست کے عظیم لوگ ہیں ۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ جبر و ستم کے سامنے کچھ لوگ آج بھی مفادات کو ٹھوکر مارتے ہیں اوراپنی سیاسی وفاؤں کو دفن نہیں ہونے دیتے۔ بقول سرور ارمان
فضاؤں میں مہک جلنے کی بو پھیلی ہوئی ہے
کسی نے پھول آتشدان پر رکھے ہوئے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں