عزیز خان

صیہونیوں کا جنگی ڈاکٹرائن

پاکستان ہمارے راستے کی آخری رُکاوٹ ہے۔ فوج پاکستان کی سب سے بڑی محافظ ہے۔ پاکستان کی جوہری صلاحیت، میزائل اور ٹیکٹیکل ہتھیار اس کو ناقابلِ تسخیر بناتے ہیں۔ بیرونی دُشمن کے خلاف پاکستان کی منتشر قوم بھی مُتحد ہوجاتی ہے اور مُلک کے دفاع میں فوج کے شانہ بشانہ لڑتی ہے۔ پاکستان کو حربی طور پر شکست نہیں دی جاسکتی۔

پاکستان کو تباہی و بربادی سے ہمکنار کرنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کو اقتصادی اور سماجی طور پر مفلوج کردیا جائے، ریاست اور فوج کے خلاف عوامی سطح پر نفرت اُبھاری جائے، عوام کو ریاست اور فوج کے خلاف بھڑکایا جائے اور پاکستان میں خانہ جنگی برپا کردی جائے۔ خانہ جنگی کو بُنیاد بناکر پاکستان میں موجود ہمارے ایجنٹ عالمی قوتوں کو پاکستان میں مداخلت کی دعوت دیں گے۔

ہم عین خانہ جنگی کے دوران پاکستان پر چار طرفہ زمینی اور فضائی حملہ کریں گے۔ ہم افغانستان، ایران، ہندوستان اور سمندر کی جانب سے پاکستان پر حملہ آور ہوں گے۔ ہم افغانستان، ایران، ہندوستان اور سمندری راستے سے داخل ہونیوالے مُسلح جنگجوؤں اور مقامی علیحدگی پسند عناصر کی مدد سے پاکستان کو جہنم کدہ بنادیں گے اور فوج کو چاروں طرف سے گھیر کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں گے۔

فوج ے خاتمے کے بعد ہم پاکستان کے جوہری، میزائل بردار اور ٹیکٹیکل ہتھیاروں پر قبضہ کریں گے۔ تمام فوجی تنصیبات اور اہمیت کی حامل صنعتوں کو تباہ کردیا جائے گا۔ پاکستان کو تخت و تاراج کرنے کے بعد ہم اپنی فتح کا اعلان کریں گے اور پاکستان کو پانچ چھوٹی چھوٹی آزاد ریاستوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ یہ ریاسیں بظاہر آزاد ہوں گی لیکن ان کا مکمل کنٹرول ہمارے ہاتھ میں ہوگا۔ یہاں سے دُنیا بھر کو زرعی اجناس، صنعتوں کیلئے سستی اور کارآمد لیبر نیز قحبہ گری اور طوائف گری کی عالمی صنعت کیلئے خوبصورت نوجوان عورتیں وافر مقدار میں سپلائی کی جائیں گی۔

پاکستان کے خاتمے کے بعد دی گریٹر اسرائیل اور مہا بھارت کے قیام کی راہ ہموار ہوگی، اور مشرق سے مغرب تک پورا عالم اسلام ہمارے رحم و کرم پر ہوگا۔

عزیز خان،
بانی و چیئرمین،
دی گریٹر پاکستان موؤمنٹ،
اسلام آباد، پاکستان،
مئی 18، 2023ء

اپنا تبصرہ بھیجیں