ارشد اسدی الحسینی

دُنیا پرست اور منحرف عالم بلعم باعورا

سورۃ الاعراف 175-178

وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ ۞ وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ذَّلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ ۞ سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَأَنفُسَهُمْ كَانُوا يَظْلِمُونَ ۞ مَن يَهْدِ اللہُ فَهُوَ الْمُهْتَدِي وَمَن يُضْلِلْ فَأُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ ۞

(اے رسول(ص)) ان لوگوں کے سامنے اس شخص کا واقعہ بیان کرو جس کو ہم نے اپنی بعض نشانیاں عطا کی تھیں مگر وہ ان سے عاری ہوگیا (وہ جامہ اتار دیا) پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا۔ اور آخرکار وہ گمراہوں میں سے ہوگیا۔ ۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان نشانیوں کی وجہ سے اس کا مرتبہ بلند کرتے۔ مگر وہ تو زمین (پستی) کی طرف جھک گیا۔ اور اپنی خواہشِ نفس کا پیرو ہوگیا۔ تو اب اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی کہ اگر تم اس پر حملہ کرو تب بھی ہانپتا ہے اور یونہی چھوڑ دو تب بھی ایسا کرتا ہے۔ (زبان لٹکائے ہانپتا ہے) یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا (اے رسول) تم یہ قصص و حکایات سناتے رہو شاید وہ غور و فکر کریں۔ ۔ کیا بری مثال ہے ان لوگوں کی جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ اور جو خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔ ۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ گمراہی میں چھوڑ دے وہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔ ۔

🔸تفسیر آیات🔸

جیسا کہ آپ نے دیکھا اوپر والی آیات میں کسی کا نام نہیں لیا گیا بلکہ ایک عالم کے متعلق گفتگو ہوئی ہے جو پہلے حق کے راستے پر گامزن تھا اور گوئی اس کے بارے میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ کسی دِن یہ حق سے منحرف ہوجائے گا لیکن آخرکار دُنیاپرستی اور خواہشات نفسانی نے اُس پر ایسا غلبہ پایا اور اُسے پستیوں میں دھکیل دیا کہ وہ گمراہوں اور شیطان کے پیروکار کی صف میں جاکھڑا ہوا ۔ بہت سی روایات اور مفسرین کے کلمات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد بلعم باعور نامی ایک شخص تھا جو حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے زمانہ میں رہتا تھا اور بنی اسرائیل کے نامی گرامی علماء میں اس کا شمار ہوتا تھا یہاں تک کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) اُس سے ایک بڑے مبلغ کی حیثیت کام لیتے تھے اور وہ اس درجے پر فائز تھا کہ اس کی دُعا بارگاہ خداوندی میں شرف قبولیت پاتی تھی، لیکن وہ فرعون کی ظاہری شان وشوکت اور اُس کے وعدوں سے اتنا متاثر ہُوا کہ راہ حق سے بھٹک گیا لہٰذا اس کی تمام قدر و منزلت جاتی رہی ، حتّیٰ کہ وہ حضرت موسیٰ (علیه السلام) کے مخالفین کی صف میں شامل ہوا ۔ (2)
باقی رہا یہ احتمال کہ یہ شخص امیہ ابن ابی الصلت ہے جو زمانہٴ جاہلیت کا مشہور شاعر ہے جو پہلے گذشتہ کتبِ آسمانی آگاہی رکھنے کی وجہ سے آخری پیغمبر کے ظہور کے انتظار میں تھا، لیکن پھر وہ یہ سوچنے لگا کہ ہوسکتا ہے کہیں وہ خود ہی پیغمبر ہے ۔ اس لئے اس نے بعثتِ پیغمبر کے بعد رسول اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے حسد کو مخالفت کی بنیاد بنایا ۔ یہ بھی احتمال پیش کیا گیا ہے کہ اس سے مشہور راہب ابوعامر مراد ہے، جو زمانہٴ جاہلیت میں لوگوں کو پیغمبر اسلام کے ظہور کی خوشخبری دیتا تھا لیکن پیغمبر کے ظہور کے بعد اس نے مخالفت کی راہ اپنائی، تو یہ دونوں احتمال حقیقت سے دُور نظر آتے ہیں ۔ کیونکہ ”واتل“ ”نباء“ اور ”فاقصص القصص“ کے الفاظ نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ واقعہ پیغمبر اسلام کے ہمعصر افراد سے متعلق نہیں تھا بلکہ یہ گذشتہ اقوام کی سرگزشت ہے، علاوہ ازیں سورہٴ اعراف ان سورتوں میں سے ہے جو مکّہ میں نازل ہوئی ہیں اور ابوعامر راہب اور امیہ بن ابوصلت کا تعلق مدینہ سے ہے ۔
تفسیر المنار میں پیغمبر اسلام سے روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں بلعم باعور کی مثال اس امّت میں امیّہ بن ابی الصلت ایسی ہے ۔ (3)
اسی طرح امام باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے، آپ (علیه السلام) نے فرمایا: ”الاصل فی ذٰلک بلعم، ثمّ ضربہ اللہ مثلا لکل موٴثر ھواہ علی ھدی اللہ من اھل القبلة“
اصل آیت بلعم کے بارے میں ہے اس کے بعد خدا نے اسے ایک مثال کے طور پر ایسے اشخاص کے لئے کیا ہے جنھوں نے اس امّت میں ہوس پرستی کو خدا پرستی اور خدا کی ہدایت پر مقدم گردانا ہے (۱)
اصولی طور پر انسانی معاشروں میں اتنا خطرہ کسی چیز سے نہیں جتنا ان علماء سے ہوتا ہے جو اپنے علم وافکار کو اپنے زمانے کے فرعونوں اور جابروں کے اختیار میں دے دیتے ہیں اور ہوس پرستی اور مادی دنیا کی شان وشوکت (وخلاد الی الارض) سے مرعوب ہوکر اپنا تمام سرمایہٴ فکر ونظر طاغوتوں کے قبضے میں دے دیتے ہیں اور وہ بھی عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے اس قسم کے افراد سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، یہ امر صرف حضرت موسیٰ (علیه السلام) یا باقی انبیاء کے زمانہ کے ساتھ مخصوص نہیں ہے کہ زمانہٴ پیغمبر سے لے کر اب تک یہ سلسلہ جاری ہے، کہ بلعم باعور، ابوعامر اور امیہ بن ابوالصلت جیسے عالم اپنے علم ودانش اور اجتماعی اثر ورسوخ کو درہم و دینار یا مقام ومنزلت کے عوض بیچ دیتے یا پھر کینہ وحسد کی بناء پر منافقین، دشمنانِ حق، فرعونوں، بنی اُمیّہ اور بنی عباس جیسے طاغوتوں کے اختیار میں دیئے ہیں ۔
مذکورہ بالا آیات میں علماء کے اس گروہ کی کچھ نشانیاں بیان ہوئی ہیں جن کے ذریعے انھیں پہچانا جاسکتا ہے، وہ ایسے مادہ پرست ہیں جنھوں نے دنیا کی محبّت میں خدا کو بھلا دیا ہے، وہ اتنے کم ظرف ہیں کہ بارگاہِ خداوندی اور خلقِ خدا کی نظر میں بلند مقام حاصل کرنے کی بجائے ذلّت کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں، اپنی اسی کم ظرفی کی وجہ سے سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں، وہ شیطان کے شدید وسوسوں میں گھرے ہوئے ہیں اور انھیں آسانی سے خریدا اور بیچا جا سکتا ہے، وہ بیمار اور باؤلے کتّوں کی مانند ہیں جو کبھی سیراب نہیں ہوتے، انہی وجوہ کی بناء پر انھوں نے حق کو چھوڑ دیا ہے اور بے راہ روی اختیار کر لی ہے وہ گمراہوں کے پیشوا ہیں، ایسے افراد کی پہچان لازمی ہے تاکہ سختی سے ان کے شر سے محفوظ رہا جاسکے ۔بعد والی دونوں ایات میں بلعم اور دنیا پرست علماء کی سرگزشت سے ایک کلی اور عمومی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے: کیا بُری مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات سے انکار کرتے ہیں اور کیسا بُرا انجام اور ذلّت اُن کے انتظار میں ہے (سَاءَ مَثَلًا الْقَوْمُ الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا) ۔ لیکن وہ ہم پر ظلم وستم نہیں کرتے تھے بلکہ خود اپنے اوپر ستم روا رکھتے تھے (وَاٴَنفُسَھُمْ کَانُوا یَظْلِمُونَ) ۔ اور اس سے زیادہ ظلم کیا ہوگا کہ معنوی علم ودانش کا سرمایہ جو خود ان کے معاشرے کی سربلندی کا باعث بن سکتا تھا، صاحبِ زر اور صاحبِ اقتدار کے اختیار میں دے دیتے ہیں اور سستے داموں اُسے فروخت کرکے بالآخر اپنے آپ کو اور معاشرے کو پستی میں دھکیل دیتے ہیں ۔
لیکن اس قسم کی لغزشوں اور شیطانی دام و فریب سے خبردارد رہو کیونکہ ان سے رہائی خدا کی توفیق اور ہدایت کے بغیر ممکن نہیں، جال اور پھندا بڑا ہی سخت ہے مگر یہ کہ رحمتِ الٰہی مددگار ہو۔
”جسے خدا ہدایت دے اور اپنی رحمت کو اس کا مدد گار بنا دے تو حقیقتاً وہی ہدایت پانے والا ہے “من یھد اللہ فھو المھتدی” اور جس شخص کو خدا اس کے (بُرے) اعمال کے نتیجہ میں اس کے حال پر چھوڑ دے یا کامیابی اور موافقت کے ذرائع شیطانی وسوسوں کے مقابلہ میں اُس سے چھین لے تو وہ واقعی زیاں کار اور خسارے میں ہے ۔ وَمَنْ یُضْلِلْ فَاٴُوْلٰئِکَ ھُمَ الْخَاسِرُونَ
بارہا ہم نے کہا ہے کہ ہدایتِ الٰہی اور گمراہی نہ جبری پہلو رکھتی ہے اور نہ ہی بغیر کسی وجہ اور حساب وکتاب کے ہے، ان دونوں سے مراد وسائل ہدایت فراہم کرنا یا اس قسم کے ذرائع کو روک لینا ہے، وہ بھی انسان کے گذشتہ اچھے بُرے یا اعمال کی وجہ سے جو اس نے انجام دیئے ہیں، بہرحال آخری پختہ ارادہ خود انسان کا اپنا ہوتا ہے، اس بناء پر زیر نظر آیت ان گذشتہ آیات سے مکمل مطابقت رکھتی ہے جو ارادہ کی آزادی کی تائید کرتی ہیں اور ان کے درمیان اختلاف نہیں ۔

۱۔ ”اتبعہ“ اور ”تبعہ“ ”لحقہ وادرکہ“ (اس سے ملحق ہوا اور اسے پالیا) کے معنی میں آیا ہے ۔
2۔موجودہ تورات میں بھی بلعم باعور کے ماجرا کی تفصیل آئی ہے لیکن اس فرق کے ساتھ کہ تورات اسے انحراف سے بری الذمہ قرار دیتی ہے، مزید تفصیل کے لئے سفر اعداد کے باب ۲۲ سے رجوع کریں ۔
3۔المنار، ج۹، ص۱۱۴.
التماس دعا

اپنا تبصرہ بھیجیں