reward of breaking fast

🌴 افطاری کرانے کا ثواب 🌴

مومن كو روزہ كھلوانے كا بہت ثواب وارد ہوا ہے۔ مؤمن كا روزہ كھلوانے ميں متعدد چيزوں كا ثواب اور بركات ملتى ہيں:

۱) زيارتِ مومن كا ثواب
۲) دعوتِ مومن كا ثواب
۳) مومن کو كھلانے پلانے كا ثواب
۴) بھوكے كى بھوک دور كرنے كا ثواب
۵) روزہ كھلوانے كا ثواب
۶) عزت و احترامِ مومن كا ثواب
۷) مومن سے اظہارِ محبت و عقيدت كا ثواب

■ روزہ كھلوانے پر چند احاديث
✍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ:
مَنْ فَطَّرَ صَائِماً فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ.(1)

ترجمہ:
امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:
جس نے ايک روزے دار كو افطارى كروائى اس كو اس روزے دار جتنا ثواب ملے گا۔

✍ٍ عَنْ أَبِي الْحَسَنِ مُوسَى ع قَالَ:
فِطْرُكَ أَخَاكَ الصَّائِمَ أَفْضَلُ مِنْ صِيَامِكَ.(2)

ترجمہ:
امام موسى كاظم عليہ السلام فرماتے ہيں:
تمہارا اپنے بھائى كو افطارى كروانا تمہارا روزہ ركھنے سے افضل ہے۔

✍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ ع قَالَ:
دَخَلَ سَدِيرٌ عَلَى أَبِي ع فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَقَالَ يَا سَدِيرُ هَلْ تَدْرِي أَيُّ اللَّيَالِي هَذِهِ فَقَالَ نَعَمْ فِدَاكَ أَبِي هَذِهِ لَيَالِي شَهْرِ رَمَضَانَ فَمَا ذَاكَ فَقَالَ لَهُ أَ تَقْدِرُ عَلَى أَنْ تُعْتِقَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ هَذِهِ اللَّيَالِي عَشْرَ رَقَبَاتٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ فَقَالَ لَهُ سَدِيرٌ بِأَبِي أَنْتَ وَ أُمِّي لَا يَبْلُغُ مَالِي ذَاكَ فَمَا زَالَ يَنْقُصُ حَتَّى بَلَغَ بِهِ رَقَبَةً وَاحِدَةً فِي كُلِّ ذَلِكَ يَقُولُ لَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهُ فَمَا تَقْدِرُ أَنْ تُفَطِّرَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ رَجُلًا مُسْلِماً فَقَالَ لَهُ بَلَى وَ عَشَرَةً فَقَالَ لَهُ أَبِي ع فَذَاكَ الَّذِي أَرَدْتُ يَا سَدِيرُ إِنَّ إِفْطَارَكَ أَخَاكَ الْمُسْلِمَ يَعْدِلُ رَقَبَةً مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ ع.(3)

ترجمہ:
امام جعفر صادق عليہ السلام اپنے والد سے نقل كرتے ہيں كہ امام باقر عليہ السلام فرماتے ہيں:
(معروف صحابى) سَدَيْر ماہِ رمضان ميں ميرے والد (امام سجاد عليہ السلام) كى خدمت ميں حاضر ہوئے، امام سجاد عليہ السلام نے فرمايا: اے سَدِيْر! كيا جانتے ہو يہ كونسى راتيں ہيں؟

سَدِير نے كہا: جى، ميرے والدين آپ كى قربانى قرار پائيں، يہ راتيں ماہِ رمضان كى راتيں ہيں، ان كو كيا ہوا؟

امام (ع) نے اس سے فرمايا: كيا تم يہ استطاعت و طاقت ركھتے ہو كہ ان راتوں ميں ہر رات حضرت اسماعيل عليہ السلام كى اولاد سے دس غلام آزاد كرو۔

سَديْر كہنے لگے: ميں اور ميرے والدين آپ كى قربانى قرار پائيں، ميرا مال تو اس قدر زيادہ نہيں!!

اسى طرح ايک ايک غلام کم كرتے رہے اور پوچھتے رہے كہ اتنے غلام آزاد كر سكتے ہو، يہانتک کہ ايک غلام رہ گيا اور فرمايا كيا ہر روز ايک غلام آزاد كر سكتے ہو؟

سدير كہنے لگے: اتنى مالى قدرت نہيں ركھتا۔

امام (ع) نے اس سے فرمايا: كيا تم يہ طاقت ركھتے ہو كہ ہر رات ايک مسلمان شخص كو افطارى كرواؤ؟

سَدِير نے امام (ع) سے كہا: ايک نہيں بلكہ دس افراد كو روز افطارى كروا سكتا ہوں۔

امام سجاد عليہ السلام نے فرمايا: اے سَدِيْر! ميں يہى چاہتا تھا، تمہارے اپنے ايک مسلم بھائى كو افطارى كروانا حضرت ااسماعيل عليہ السلام كى اولاد ميں سے ايک غلام كو آزاد كرانے كے برابر ہے۔

📚 حوالہ جات
(1) الكافى، ج۴، ص۶۸، كتاب الصيام۔
(2) الكافى، ج۴، ص۶۸، كتاب الصيام، باب من فطّر صائما، حديث۲۔
(3) الكافى، ج۴، ص۶۹، كتاب الصيام، باب من فطَّر صائما، حديث۳۔

اپنا تبصرہ بھیجیں