Muhammad Sajid khan

اب اس قدر بھی نا چاہو کہ دم نکل جائے

ہماری  ہماری سیاسی اشرافیہ کو یک دم خیال آیا کہ اس ملک میں رائج آئین کو پچاس سال ہونے کو ہیں ۔ نامکمل قومی اسمبلی نے فیصلہ کیا کہ ان محفوظ پچاس برسوں کے بارے میں عوام کو مطلع کیا جائے۔ ”ان کو آئین کا تحفظ حاصل ہے“۔یہ آئین متحدہ پاکستان کے بٹوارے کے بعد بہت ہی مشقت سے بنایا گیا تھا۔ ملک توڑنے کی سازش میں تین نام بہت ہی نمایا ںہیں۔ بنگلہ بندؤ شیخ مجیب الرحمن ٰمغربی پاکستان سے ذوالفقار علی بھٹو اور اس زمانہ کے جنرل یحییٰ خان۔جب فیلڈ مارشل ایوب خان کی سرکار کا دھڑن تختہ کیا گیا تو آئین پاکستان کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کو صدر بنانا آئینی تقاضا تھا۔ مگر مغربی پاکستان کی سیاسی اشرافیہ نے حسب سابق سازش کی اور فوج کو مصروف رکھنے کے لئے اسے صدارت کا عہدہ سونپ دیا۔ پہلے تو آج کل کی طرح انتخابات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی۔ پھر آئین کو عزت دینے کے لئے انتخابات کروا دیئے گئے۔ مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمن کی جماعت نے مکمل کامیابی حاصل کی اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت نے خاصی بڑی حیثیت میں فتح پائی مگر متحدہ پاکستان کی اسمبلی کا اجلاس نہ ہوسکا۔ بھارت کی مداخلت سے ملک ٹوٹ گیا۔تقریباً ایک سال پہلے کی بات ہے۔ جب سابق وزیر اعظم عمران خان کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہ منتخب وزیر اعظم تھے اور ان کے خلاف عدم اعتماد ہوا جو جمہوریت کے ماتھے کا جھومر ہے۔ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد میںچونکہ زیادہ نمایاں کردار سابق سپہ سالارجنرل باجوہ کا دکھائی دیا چنانچہ ہماری افواج کو عوام میں تنقید کا سامنا ہے۔ سابق کپتان اور وزیر اعظم عمران خان نے بڑے حوصلے سے عدم اعتماد کو قبول کیا اور تاریخی جملہ کہا کہ ان کے مخالفوں میں کوئی رہ تو نہیں گیا۔ ان کی جماعت نے قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیا اور ملک بھر میں انتخابات کا نعرہ مستانہ لگایا۔ پھر بھان متی کا کنبہ جو عرف عام میں پی ڈی ایم کہلاتا ہے ،اس کی سرکار نے نامکمل قومی اسمبلی سے اپنی پسند اور اپنے مفاد کے مطابق قوانین میں ترمیم کی اور ملک میں جاری احتساب کو ختم کر دیا، ملک کی معیشت کو دائو پر لگا دیا ۔ ہمارا مہربان ملک امریکہ اس کارِ خیر میں حصہ دار بھی بنا۔ جنرل )(ر)باجوہ اس مخلوط سرکار کے ہم نوالہ اور ہم پیالہ رہے۔ تاہم سیاسی اشرافیہ ان کو مزید برداشت کرنے پر تیار نہ ہوئی اور وہ ملک کی سیاست اور معیشت کو دائو پر لگا کر رخصت ہوگئے۔جنرل (ر)باجوہ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہوں نے عمران خان کو وزیر اعظم بنوایا۔ سابق سپہ سالار پر الزام ہے کہ انہوں نے محکمہ انصاف اور قانون میں بھی مداخلت کی اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا دلوائی اور ان کے اصل جرائم کو نظر اندازکیا۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کسی بھی سپہ سالار سے بن نہ سکی اور نہ ہی وہ اعلیٰ عدلیہ پر اعتماد کر سکے، ان کی جماعت نے اعلیٰ عدلیہ پر حملہ بھی کیا اور ان کی مخالفت سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے بھی رہی۔
جب جنرل مشرف میاں نواز شریف کو ہٹا کر صدر بنے تو ان کو امریکہ کی اشیر باد حاصل نہ تھی۔ امریکہ نواز شریف کاحامی تھا اور اس نے سعودی عرب کی مداخلت سے میاں نواز شریف کو جلا وطن کروایا ۔ امریکہ پاکستان میں جمہوریت کو اپنے لئے خطرہ محسوس کرتا تھا اور کرتا ہے۔ پاکستان میں عوام اور جمہویت کے خلاف سب سے بڑا کردار امریکہ کا ہے۔ اب امریکی اپنے ملک میں اپنی افواج سے آزادی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔2018ءکے انتخابات کے بعد دنیا بھر میں کوویڈ کی وبا نے بہت ہی اودھم مچایا۔ چین جہاں پر سب سے پہلے اس وبا نے حملہ کیا۔ اس کی معیشت کو برباد کرنے کی کوشش کا الزام امریکہ پر لگایا جاتا ہے۔ پاکستان میں عمران خان نے بڑی حکمت عملی سے اس وبا کا مقابلہ کیا اور ملکی معیشت تباہ نہ ہونے دی۔ اس زمانہ میں سی پیک منصوبہ عروج پر تھا۔ وبا کی وجہ سے سی پیک منصوبہ بھی متاثر ہوا اور امریکہ بھی یہ چاہتا تھا۔ عمران خان نے چین پر واضح کر دیا کہ وہ امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا۔ جنرل (ر)باجوہ نے وبا کے دنوں میں ایک متبادل سرکار کے طور پر اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا اور سابق وزیر اعظم کو باور کروایا کہ وہ ان کی مدد کر رہے ہیں،عمران خان ،ان کے جھانسے میں آگیا اور پھر چند دنوں کے بعد ہی ان کا نشانہ بھی بن گیا۔ جنرل (ر)باجوہ کے اقدامات کی وجہ سے عسکری اداروں کی کارکردگی بھی متاثر ہوئی۔ دوسری طرف ہماری خود ساختہ حزب مخالف ملک سے فرار رہی اور اسمبلی کو یکسوئی سے کام کرنے کا موقع بھی نہ دیا ۔ اس میں بڑا کردار سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کا رہا اور آج بھی یہ لوگ ہی انتخابات سے گھبرا رہے ہیں۔
آئین پاکستان کے پچاس سال مکمل ہونے پر سیاست کی بلی جمہوریت کے تھیلے سے باہر آچکی ہے۔ پی ڈی ایم کی مخلوط سرکار انتخابات سے فرار چاہتی ہے کہ ان کو اپنی شکست صاف نظر آ رہی ہے۔ پہلے پہل تو انہوں نے الیکشن کمیشن کو استعمال کیا، دکھاوے کے چند انتخابات بھی کروائے۔ مگر عوام ان سے متنفر ہو چکے ہیں۔ پھر میدان میں بلاول بھٹو اور مریم نواز کو اتارا گیا وہ بھی بس نمائشی سیاست کرتے رہے۔ پاکستان کی بقا صرف اور صرف اس وقت انتخابات میں ہے۔اس وقت قومی اسمبلی میں جو ناٹک کھیلا جا رہا ہے ۔ وہ عوام دوست نہیںہے۔ اس کیلئے عرض ہے:ناکامیوں کو فتح و ظفر کہہ دیا گیا،نادانیوں کو علم و ہنر کہہ دیا گیا،دربایوں سے جھوٹ کا بازار سج گیااور دن کو رات، شب کو سحر کہہ دیا،ہماری معیشت کی بحالی کی تان آئی ایم ایف پر ٹوٹتی ہے۔ ہم اس کے بغیر بھی زندہ ہیں اگر ہماری قسمت نہ خراب ہو تو علیحدہ بات ہے ورنہ ملک بدلتا جا رہا ہے۔ بس اہم قومی اداروں سے درخواست ہے:

عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے
اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے

اپنا تبصرہ بھیجیں