manzer naqvi

محرم کا چاند

جو آسماں پہ محرم کا چاند نکلا ہے
تو کربلا میں دو عالم کا چاند نکلا ہے

ابھی حسین تو ہیں کربلا کے رستے میں
نبی کے روضے سے پھر غم کا چاند نکلا ہے

بس ایک رات نے تقدیر ہی بدل ڈالی
جنابِ حر پہ مکرّم کا چاند نکلا ہے

خدا کے دین کی نصرت میں سر کٹانے کو
رسولِ پاک کی البم کا چاند نکلا ہے

یزیدیت کے مقابل حسینت آئے
اسی اصولِ مقدم کا چاند نکلا ہے

غمِ حسین کی مجلس ہے عرش پر منظر
عزا کے فرش سے ماتم کا چاند نکلا ہے

منظر نقوی

اپنا تبصرہ بھیجیں