اجنبی ہونے کا غم

اِس زمیں پر اجنبی ہونے کا غم
پھر وہی ہم، پھر وہی ہونے کا غم

پیش گوئی کرنے والے کو رہا
حادثے کے واقعی ہونے کا غم

وقت کٹ جاتا ھے، پر جاتا نہیں
اِک نظر کے سرسری ہونے کا غم

راستوں میں گِھر کے، رہ جانے کا خوف
رابطوں میں عارضی ہونے کا غم

رکھ رہے ہیں دوستاں، دِل میں حساب
تھوڑا ہَٹ کے آدمی ہونے کا غم

اپنا تبصرہ بھیجیں