احمد رضا کھرل

پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل خطر ے میں ؟

پچھلے ہفتے تک کوئی یہ سوال کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔چیئرمین پی ٹی آئی اور تحریک انصاف کے کارکنوں کے جذبے اس قدر بلند تھے کہ لگتا تھا کہ یہی وہ سیاسی جماعت ہے جو پاکستان کی طاقتور مقتدرہ کو چیلنج کرے گی اور عمران خان پاکستان کے بااثر ترین حکمران بن جائیں گے۔
آج ایک ہفتے بعد صورتحال کچھ اور حالات کچھ اور کہانی بتارہے ہیں۔ فقط 9 مئی کے واقعات کو ہی عمومی طور فیصلہ کن کہا جارہا ہے ۔ لیکن صرف 9 مئی ہی نہیں اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن کے بارے میں کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان نے خود اپنے پاوں پر کلہاڑی ماری ہے۔ عمران خان کو خود اپنے بیانات پر غور کرنا چاہیے تھا ۔

مسلسل مخالفین کو چور چور کہنے سے ایک بات تو طے تھی کہ یہ شخص جتنی الزام تراشی دوسروں پر کررہاہے ضرور اس میں کوئی جھول ہے۔ دوسرا محاذ عمران خان نے اپنے محسنوں یعنی مقتدرہ کو نشانے پر لے لیا ۔ آپ جھوٹے ہوں یا سچے ہوں لیکن زیادہ محاز کھولنا کسی بھی طرح مددگار نہیں رہا ۔
یہ بات تو ہے کہ جو بناتا ہے وہ بگاڑنا بھی جانتا ہے ۔ جب آپ اپنے محسن کو آنکھیں دکھائیں گے تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں ۔
اب عمران خان اور ان کے حامیوں کا نقطہ نظر مختلف ہوسکتا ہے ، وہ احتجاج کو اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ احتجاج کرنا حق ہے لیکن اس میں املا ک کو نقصان پہچانا کسی بھی طرح حق نہیں ۔ عمران خان پر لگے الزامات ، کوئی نئے نہیں ماضی میں سیاستدان اس طرح یا اس سے بھی زیادہ الزامات لگتے آرہے ہیں لیکن ان کے احتجاج اس قدر متشدد نہیں رہے ۔ ماضی میں نواز شریف ایک سے زیادہ مرتبہ گرفتار ہوئے ، بے نظیر بھٹو گرفتار ہوئیں، آصف زرداری جیل میں رہے ۔ انہوں نے عدالتوں میں اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کیا لیکن اس طرح سے متشدد نہیں ہوئے۔
جو کچھ 9 مئی کو ہوا ، اس طرح کے رویے کی شروعات جب سے عمران خان زمان پارک میں مقیم ہوئے، ہوچکی تھی۔ جتھا بنا کر کینال روڈ پر ایک طرح سے قبضہ ہوچکا تھا ۔ حتیٰ کہ زمان پارک میں رہائیشیوں کا امن غارت ہوچکا تھا ۔ میں نے جب بھی اس شکایت کا تذکرہ کیا تو کہا گیا کہ ایسا تو ہوتا رہتا ہے بڑے مقصد کے لیے لوگوں کو بھی قربانیاں دینی پڑتی ہیں ۔
مقصد یہ بتایاتھا کہ عمران خان حقیقی جمہوریت کی طرف لے کر جائیں گے۔ لیکن خٓان صاحب اپنے آپکو لیڈر شپ کے اس پلیٹ فارم پر بٹھا لیا جہاں اپنے فالوورز کی نظر میں وہ مرشد کہلائے جانے لگے۔ ان سے سوال کرنا اب مشکل سے مشکل ہوگیا تھا اور جو کوئی بھی ان سے سوال کرتا وہ اسے بٹھا دیتے۔ اس طرح عمران خان مرشد اب باقی پارٹی ورکروں سے بہت آگے تھے ۔ جب کوئی اپنے آپ کو اس قدر بالا تر بنالے توخرابیاں پیدا ہونا قدرتی بات ہے ۔ خاص طور پر اس وقت جب ورکر اپنے لیڈر کے اشاروں پر جتھوں کی شکل اختیار کرلیں۔
ان جتھوں کے رویے اس وقت سامنے آئے جب نیب یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کا عملہ کوئی نوٹس سرو کرنے آتا توعملے کو ڈرایا دھمکایا جاتا ۔ جس قدر یہ واقعات بڑھے جتھوں کو اور بھی حوصلہ افزائی ملی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان اپنے کارکنوں کو سمجھاتے اور انہیں اس طرح کی سرگرمیوں سے باز رہنے کی تلقین کرتے وہ بھی یہ ہی کہتے سنے گئے کہ اگر میرے ساتھ ایسا سلوک ہوگا تو ورکر ایسا ہی کریں گے ۔
حتیٰ کہ 9مئی کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد رونما ہونے والے انتہائی ناخوشگوار واقعات پر بھی عمران خان نے یہ کہنے پر اکتفا کیا کہ میرے ساتھ ایسا ہوا تو پھر لوگ رد عمل دیں گے ۔
خان صاحب یہ بھول گئے تھے کہ ہرردعمل بھی ایک ردعمل رکھتا ہے ۔ سلسلہ رکتا نہیں ۔۔۔ویسے خان صاحب خود عقل کل ہیں اس لیے انہیں سمجھانا آسان نہیں ۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں