کاشف اشفاق

موسمیاتی تبدیلی کاچیلنج،کیا ہم تیار ہیں؟

پاکستان میں گزشتہ سال مون سون کی غیر معمولی اور طویل بارشوں کے باعث آنے والے سیلاب کی وجہ سے چاروں صوبوں میں کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ۔ 110 اضلاع میں گیارہ سو سے زائد افراد کی اموات ہوئیں جبکہ ساڑھے تین کروڑ سے زائد لوگوں کی زندگیاں متاثر ہوئیں۔ ساڑھے نو لاکھ گھر مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوئے جبکہ آٹھ لاکھ سے زیادہ مویشی مارے گئے۔ اس سیلاب کے باعث صوبہ سندھ سب سے زیادہ متاثر ہوا جہاں 16اضلاع کی 50لاکھ سے زیادہ آبادی سیلاب کے باعث بے گھر یا متاثر ہوئی ہے۔ صوبہ بلوچستان کے 34اضلاع کے چار لاکھ سے زائد افراد متاثرین میں شامل تھے جبکہ صوبہ پنجاب کے آٹھ اضلاع میں ساڑھے چار لاکھ سے زائد افراد بارشوں اور سیلاب کے باعث بے گھر ہوئے ۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے 33اضلاع میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد تقریبا 50ہزار تھی۔
یہ اس تباہی کی ایک جھلک ہے جو قدرت ہمیں گزشتہ سال دکھا چکی ہے اور اس سال پھر مون سون میں شدید بارشوں کی وجہ سے سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے میں موسمیاتی تبدیلی نے بہت سے ممالک کی بقاء کو خطرے میں ڈال دیا ہے کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کا عمل تیز تر ہوتا جا رہا ہے اور پاکستان پر اس کے سنگین نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔ اب ہمارے لئے یہ ممکن نہیں اس حوالے سے درپیش چیلنجز کو نظر انداز کر سکیں کیونکہ کچھ عرصہ قبل تک ہم گلیشیئرز کے تیزی سےپگھلنے، شہری اور دیہی علاقوں میں بارشوں کے باعث آنے والے سیلابوں کے سبب انسانی زندگی کے متاثر ہونے کی باتیں صرف کتابوں میں پڑھا کرتے تھے یا اس طرح کی منظر کشی ہالی وڈ فلموں میںدیکھنے کو ملتی تھی۔ تاہم اب یہ صورتحال عملی طور پر ہمیں درپیش ہے اور پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے شکار ممالک کی فہرست میں پہلے نمبروں پر ہے۔ اس لئے ہمیں ہر ممکن طریقے سے موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کیلئے متحرک ہونے اور آگاہی پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے لے کر مقامی حکومتوں تک کی سطح پر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، وہیں ہمیں اسے اسکولوں کی سطح پر نصاب کا بھی حصہ بنانا چاہئے تاکہ ہماری نئی نسل موسمیاتی تبدیلی کو سمجھنے اور اس کا مقابلہ کرنے کیلئے بہتر طور پر تیار ہو سکے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے 2010ء میں بھی پاکستان کو بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب کی وجہ سے ایسی ہی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس سیلاب میں 1700 سے زائد افراد جاں بحق جبکہ 20لاکھ سے زائد لوگ براہ راست متاثر ہوئے تھے۔ اس سیلاب کی وجہ سے ملک کے مجموعی قابل کاشت رقبے میں سے 20 فیصد پر موجود فصلیں تباہ ہوئیں اور 11لاکھ سے زائد مکانوں کو نقصان پہنچا تھا اور مجموعی طور پر سترہ سو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہوا تھا جبکہ تعمیر نو کی سرگرمیوں پر 1156ارب روپے کے اخراجات آئے تھے۔ پاکستان ارضیاتی طور پر ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کافی شدت سے محسوس کئے جا رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد کی آمدنی، رہائش، خوراک اور سلامتی کو خطرے میں ڈال چکی ہے۔ اس سنگین صورتحال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کو عالمی اوسط کی نسبت زیادہ اوسط درجہ حرارت کا سامنا ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ آفات کے خطرے کی سطح کو ماپنے کے نظام انفارم رسک انڈیکس کی طرف سے 2020 میں جاری کی گئی رینکنگ کے مطابق پاکستان 191 ممالک میں سے 18ویں نمبر پر ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ 2010ء کے شدید سیلاب کے فوری بعد یورپین ممالک کی طرف سے پاکستان کو موسم کی سائنسی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی پیشگوئیوں میں بتا دیا گیا تھا کہ آنے والے چند سال میں پاکستان کو ماضی کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن سیلابی صورتحال کاسامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ہاں اس سے نمٹنے کیلئے کوئی خاطر خواہ تیاری نہ کی گئی۔ اگر قومی سلامتی کو درپیش خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوج کی افرادی قوت کو ڈیموں کی تعمیر، آبی گزرگاہوں اور آبی ذخائر کی صفائی اور دیگر تمام متعلقہ کوششوں کیلئے بروئے کار لایا جاتا تو شاید ہم اس تباہی سے بڑی حد تک بچ سکتے تھے جس کا ہمیں گزشتہ سال سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح دفتر خارجہ کو اپنی توجہ اس طرف مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان کو درپیش خطرات کو بین الاقوامی سطح پر سفارتکاری کا اہم نکتہ بنایا جائے تاکہ عالمی برادری کو موسمیاتی تباہ کاریوں کے ازالے کیلئے پاکستان کو زر تلافی کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مضر صحت گیسوں کے عالمی اخراج میں کمی پر آمادہ کیا جا سکے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ 2010ء سے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے درمیانی عرصے میں پاکستان کی سفارت کاری سکیورٹی امور، آئی ایم ایف قرضوں، افغانستان کی صورتحال یا امریکہ اور انڈیا کے ساتھ تعلقات جیسے اُمور پر مرکوز رہی اور دفتر خارجہ نے ایک بار بھی موسمیاتی تبدیلی سے پاکستان کو درپیش خطرات کو سفارتی کوششوں کا مرکز اور محور نہ بنایا۔ اس لئے ارباب اقتدار کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ پاکستان اس حوالے سے اب مزید کسی تاخیر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں