Akmal Soomro

بھٹو خاندان: نوآبادیاتی راج سے زلفی کی پھانسی تک

ذوالفقار علی بھٹو، تاریخ پاکستان کی ایسی سیاسی شخصیت ہیں جن کے اثرات عہد رفتہ میں بھی وطن کو درپیش ہیں، بھٹو کی الم ناک موت، ان کی سیاسی طاقت اور حریف کی کمزوری کے گرد گھومتی ہے۔ بھٹو کا سیاسی انجام تلخ تھا تاہم بھٹو کے سیاسی تصورات و اقدامات نے پاکستان کی سیاست پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں۔ چار اپریل کو ان کی پھانسی کو عظیم قربانی قرار دینے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بھٹو کی مغفرت کے لیے دعا کرائی، اگرچہ دعا کرانے والے مولانا اور دعا کی درخواست کرنے والے وزیر اعظم دونوں کے خاندان بھٹو پھانسی کے بینیفشری ہیں تاہم تاریخ کا یہ جبر قوم نے گزشتہ مہینے ٹیلی ویژن پر براہ راست مناظر کی صورت دیکھا۔

ہندو ڈانسر کے بطن سے جنم، 13 برس کی عمر میں شادی، امریکی یونیورسٹی میں تعلیم، پیشہ وارانہ وکالت سے وزارت عظمیٰ کے منصب تک پہنچنا، بھٹو کی انفرادی صلاحیتوں کا اظہار تھا۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھٹو کے سیاسی سفر کی ابتدا ہی اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے ہوئی، جب وہ 1958ء میں پاکستانی وفد کے ساتھ بطور رکن امریکا گئے اور اقوام متحدہ میں تقریر کی۔ بھٹو کی سیاسی تحریک، بھٹو ازم میں تبدیلی ہوئی اور یہی بھٹو ازم انھیں تختے پر لٹکانے کا باعث بن گیا۔ سندھ دھرتی پر، بھٹو خاندان نے سیاسی طاقت کیسے حاصل کی اور نوآبادیاتی عہد سے یہ کیسے منسلک ہے، یہ جاننا ضروری ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے آباؤ اجداد ہندو راجپوت تھے اور سترہویں صدی میں مغلوں نے جب راجپوت جنگجوؤں کو شکست دی تو سندھ میں بھی اسلام کی اشاعت ہوئی۔بھٹو خاندان کے جدّ امجد شیٹو (سہتو) نے اسلام قبول کیا۔اس وقت مغل سلطنت کی زیر نگرانی کلہوڑ خاندان کی حکومت قائم تھی اورنگزیب کے عہد میں ، جنگجو راجپتوں کے اسلام قبول کرنے کے بعد، انھیں ٹیکس میں چھوٹ دی گئی۔ عقیدہ اسلام قبول کرنے کے بعد شیٹو خان کو زرعی زمین ملی، یہ زمین سندھ کے علاقے رتو ڈیرو میں تھی، جو لاڑکانہ سے چند میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سے قصبہ تھا، شیٹو خان کو بھی معلوم نہیں تھا کہ چند سالوں بعد لاڑکانہ سے دس میل کے فاصلے پر دُنیا کا قدیم تہذیب شہر موہن جودڑو دریافت ہوگا۔

سندھ کا شہر ٹھٹھہ، مغل سلطنت کا مرکز تھا اور اس شہر کو بندرگاہ کی حیثیت حاصل تھی، ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسران کو ٹھٹھہ نے اپنی طرف متوجہ کیا ،اس بندر گاہ پر مختلف اشیاء کے تجارتی سامان سے لدے بحری جہاز نظر آتے، اورنگزیب عالمگیر کی وفات کے بعد، ٹھٹھہ شہر مکمل طور پر کلہوڑ خاندان کے کنٹرول میں تھا اور اسی عہد میں برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1758ء میں اپنا پہلا گودام بنایا۔ کلہوڑخاندان کی حکومت کا خاتمہ بلوچ حملہ آوروں نے کیا اور تالپور کے امیروں نے انھیں شکست دے کر سندھ پر اپنی حکومت قائم کر لی اور حیدر آباد کو اپنا دار الحکومت بنایا۔ بھٹو خاندان کے پیر بخش خان نے سندھ کے تالپور حکمرانوں کی وفاداری کا حلف لیا۔ 1821ء میں پیر بخش کے بیٹے اللہ بخش بھٹو کو میر علی مراد تالپور نے خیر پور دربار بھیج دیا اور جہاں انھیں پانچ سال تک باعزت یرغمال کے طور پر رکھا گیا تاکہ بھٹو خاندان تالپور کے خلاف بغاوت سے گریز رکھے۔

ٹھٹھہ میں، ایسٹ انڈیا کمپنی کا صدر مقام دو دہائیوں بعد ہی بند ہوگیا اور تالپور حکمران کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ نہیں ہوسکا، ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1830ء میں حیدر آباد کا رُخ کیا اور یہاں اپنا نیا مرکز قائم کیا۔ جب کمپنی حیدر آباد پہنچی تو سندھیوں نے پیشین گوئی کی تھی کہ ہماری سر زمین اب کھو چکی ہے، انگریز ہمارے دریا پر آچکے ہیں، پنجاب میں رنجیت سنگھ کی حکومت تھی، تالپور حکمران نے اپنی سلطنت بچانے کے لیے برطانوی کمپنی کے ساتھ اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا، چنانچہ اپریل 1838ء میں کرنل ہنری پوٹنگز نے امیر تالپور کے ساتھ معاہدہ کیا جس کے تحت برطانوی افسران اور فوجیوں کو حیدر آباد میں محفوظ رہائش کی اجازت ہوگی۔

دو مہینوں بعد جون 1838ء میں انگریزوں نے افغانستان کے سابق امیر شاہ شجاع کو تخت نشین کرانے کے لیے ایک سہ فریقی معاہدہ کیا، اس معاہدے میں رنجیت سنگھ کو بھی شامل کیا گیا۔ شاہ شجاع اس وقت ، لدھیانہ میں انگریزوں سے پنشن وصول کر رہے تھے، انگریز سرکار شاہ شجاع کو کابل میں کٹھ پتلی بادشاہ کے طور پر لانا چاہتی تھی۔ یہ معاہدہ اینگلو افغان جنگ کا باعث بنا جس میں سندھ کو لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا گیا۔

چارلس نیپئر نے ستمبر 1842ء میں سندھ پر حملہ کیا، مارچ1843ء میں تالپور حکمران کو برطانوی فوج نے شکست دی اور 10 ہزار سندھیوں کا قتل عام کیا گیا، اور تالپور خاندان کو کلکتہ بدر کر کے وہاں قید میں رکھا گیا۔ نیپئر نے کراچی میں اپنا مرکز قائم کیا اور سندھ کے پہلے گورنر تعینات ہوئے۔ نیپئر نے سندھ مہم کے دوران سندھیوں کی لوٹ مار سے ذاتی طور پر 70 ہزار پاؤنڈز حاصل کیے، سندھ معرکہ کی تفصیلات نیپئر کے ماتحت رچرڈ برٹن نے تحریر کیں اور 1851ء میں سندھ، ان ہیپی ویلی کے نام سے دو جلدوں پر محیط کتاب لکھی۔ بھٹو خاندان کو انگریزوں کی اُس وقت مزید قربت ملی جب نیپئر کے ماتحت افسر نے پیر بخش کے بیٹے دودو خان کو چانڈیو جاگیر کی حدود متعین کرنے کے لیے انھیں واحد ثالت کے طور پر کیا تھا۔

چارلس نیپئر ، سندھ کے نئے انگریز حکمران مقرر ہوئے۔ جب تالپور کو شکست ہوئی، ان کا تختہ الٹ دیا گیا، قید کیا گیا اور ان کی جگہ طاقتور انگریزوں نے لے لی، تو زیادہ تر جاگیردار خوفزدہ اور حوصلے پست کر کے اپنے نئے غیر ملکی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے بزدلوں اور پیشہ ور چاپلوسوں کی طرح برتاؤ کرنے لگے۔ ذوالفقار علی بھٹو کے والد، سر شاہنواز خان بھٹو، 8 مارچ 1888ء میں گڑھی خدا بخش میں پیدا ہوئے، یہ گاؤں ان کے دادا خدا بخش خان بھٹو نے قائم کیا تھا۔ خدا بخش کا بیٹا غلام مرتضیٰ خان بھٹو خوبصورت نوجوان تھے، انگریز ڈپٹی کمشنر کرنل Mayhew کی اہلیہ کو زلفی بھٹو کے دادا، غلام مرتضیٰ بھٹو (99-1869ء) کے ساتھ عشق ہوگیا، انگریز افسر نے اپنی اہلیہ کو غلام مرتضیٰ کے بنگلے پر اسے نازیبا حالت میں دیکھا، جس کے بعد دُشمنی کے ایک نئے عہد کا آغاز ہوا۔

یہ 1892ء کا واقعہ ہے جب زلفی بھٹو کے والد کی عمر صرف 4 برس تھی۔انگریز افسر مہیو نے زلفی کے دادا ، میر غلام مرتضیٰ بھٹو کیخلاف پولیس افسر پر قاتلانہ حملے کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا جس کے لیے بمبئی کے وکیل Anwerty کو یومیہ فیس ہزار روپے جبکہ لاہور کے وکیل Rottigin کو پندرہ سو روپے یومیہ فیس کے عوض غلام مرتضیٰ بھٹو کے دفاع کے لیے مقرر کیا گیا تاہم مقدمہ طویل ہونے کے باعث مرتضیٰ بھٹو کے والد خدا بخش خان نے انھیں ریاست بھاولپور بھجوا دیا، وہاں موجودگی کی مخبری ہونے پر، مرتضیٰ بھٹو کو کابل بھیج دیا گیا۔

دوسری جانب لاڑکانہ میں مہیو نے خدا بخش کی زندگی کٹھن کر دی، خدا بخش پر حملہ کرایا گیا، زخمی حالت میں انھیں ہاریوں نے امین آباد، ضلع جیکب آباد پہنچایا اور 1896ء میں ان کا انتقال ہوگیا۔ کابل منتقل ہونے والے میر مرتضیٰ بھٹو، خدا بخش کی اکلوتی اولاد تھے، یوں وہ اپنے والد کی منقولہ و غیر منقولہ جائیداد کے وارث ہوئے۔ انگریز ڈپٹی کمشنر مہیو نے میر غلام مرتضیٰ خان کو ایک مفرور قرار دیتے ہوئے، جائیداد پر قبضہ کر لیا، گھر میں رکھے سارے سامان کو آگ لگوا دی گئی۔ اس وقت میں میر مرتضیٰ بھٹو کا 8 سالہ بیٹا شاہنواز بھٹو ، اس کی دادی، والدہ اور بھائی گھر پر تھے، پورے خاندان کو گھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، انھوں نے اپنے غریب ہاریوں کے پاس پناہ لی۔

اپنے والد کی افسوسناک موت، ان کی جائیدادوں کی ضبطی، قیمتی اشیاء کی لوٹ مار، گھروں اور مہنگے فرنیچر کے جلائے جانے اور اپنے نابالغ بیٹوں اور گھر کے قیدیوں پر آنے والی آفات کی خبر سن کر میر غلام مرتضیٰ افغانستان کے امیر عبد الرحمن خان سے مدد اپیل کی، امیر افغانستان نے مرتضیٰ بھٹو کو اپنے عدالتی دفاع اورسندھ واپسی کیلئے رقم فراہم کی۔ میر مرتضیٰ بھٹو نے پشاور سے کراچی بذریعہ کشتی سفر اختیار کی تاہم پنجند کےمقام پر طوفان کے باعث ان کی کشتی اُلٹ گئی ، انھوں نے مشکل سے جان بچائی تاہم امیر افغانستان کی دی ہوئی رقم پانی میں ڈوب گئی۔ اس کے بعد وہ ریاست بہاولپور پہنچے جہاں خاندانی تعلقات کی بناء پر وہ پیسوں کا بندوبست کرنے میں کامیاب ہوئے، پھر یہاں سے دوبارہ کراچی کی جانب سفر کیا۔

مرتضیٰ، اپنے ایک دوست کی مدد سے کراچی پہنچ گئے۔ کراچی میں ان کی ملاقات رئیس غلام محمد شیدی سے ہوئی اور سندھ کے کمشنر سر ایون جیمز سے ملنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ کمشنر کو براہ راست ملنا مشکل تھا ۔ محمد شیدی، کمشنر کی رہائش گاہ کے میر منشی کا دوست تھا، یوں میر منشی کی بدولت مرتضیٰ بھٹو مزدور کا بھیس بدل کر کمشنر جیمز کی رہائش گاہ پہنچا اور یہاں کے تعمیراتی کام میں بہ طور مزدور کام کرنے لگا۔

یہاں پر تعینات چوکیدار سندھی کھوکھر تھا جس کے ذریعے سے یہ معلوم ہوا کہ کمشنر جیمز ہفتے میں دو روز تعمیراتی کام کا جائزہ لینے آتا ہے اور ہفتے کا دن مزدوروں کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے بھی وقف ہوتا ہے۔ جوں ہی ہفتے کو کمشنرتعمیراتی سائٹ پر پہنچے تو مرتضیٰ بھٹو نے آگے بڑھ کر اپنی اصل شناخت ظاہر کر دی اور سندھ کے طاقت ور انگریز بیوروکریٹ مہیو کے مظالم سے آگاہ کیا۔ کمشنر جیمز کی کراچی میں قائم عدالت میں ابتدائی تحقیقات کرائی گئیں اور سندھ کے ڈپٹی کمشنر مہیو کو جبری ریٹائرڈ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ۔ مرتضیٰ بھٹو کے خلاف دائر مقدمہ کی ٹرائل دستاویزات سکھر عدالت سے کمشنر کی عدالت میں منتقل کی گئیں، ایڈووکیٹ موتی رام ایڈوانی نے مرتضیٰ بھٹو کا مقدمہ لڑا اور انھیں بیل پر رہائی ملی۔

یہ 1899ء کا زمانہ تھا، جب کالا طاعون چین سے، بمبئی کے ذریعے کراچی پہنچا۔ لاڑکانہ کی طرف واپسی پر مرتضیٰ بھٹو اپنے دوست علی احمد (پسرخان بہادر حسن علی آفندی) کے پاس ٹھہرا جو انگریز سرکار کی طرف سے دادو میں سول جج کے عہدے پر تعینات تھا، جہاں انھیں کرنل مہیو کی ریٹائرمنٹ کی خبر سنائی گئی۔ مقدمہ سے رہائی اور جائیداد واپسی کی خوشی میں ، مرتضیٰ بھٹو لعل شہباز قلندر کے دربار پر حاضری کے لیے سہیون شریف پہنچا جو لاڑکانہ سے 30 میل کی مسافت پر تھا۔

مرتضیٰ بھٹو، لاڑکانہ پہنچے، جہاں ہاریوں نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، تاہم ان کی زندگی مختصر تھی، سندھ کے حریف جاگیرداروں نے مرتضیٰ بھٹو کو کھانے میں زہر دیا، یوں 1899ء میں مرتضیٰ بھٹو کی موت ہوگئی۔ زلفی بھٹو کے والد، شاہنواز بھٹو کی عمرصرف گیارہ برس تھی۔ نئے برطانوی کلکٹر مسٹر Mules نے کورٹ آف وارڈز سسٹم کے تحت شاہنواز بھٹو کی نگہداشت کی ذمہ داری لی جبکہ ان کے چچا الہی بخش خان بھٹو (ممتاز خان بھٹو کے دادا) نے زرعی زمین کے انتظامات کی نگرانی کی۔

مسٹر Mules اور اسسٹنٹ کلکٹر مسٹر Tarapat نے انھیں لاڑکانہ کے مڈل سکول میں داخل کرایا، یہ سکول ایچی سن کالج کے نمونہ پر انگریزوں نے لاڑکانہ میں بنایا تھا ۔ لاڑکانہ کے اس مڈل سکول میں انگریزی نصاب رائج تھا، مقامی جاگیرداروں کے بچے جو آکسفرڈ، کیمبرج، بمبئی، یا لاہور اعلیٰ تعلیم کیلئے نہیں جاتے تھے انھیں مقامی سطح پر ہی ویسا ماحول مہیا کردیا گیا۔ شاہ نواز بھٹو نے مدرسہ ہائی سکول لاڑکانہ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، مڈل پاس کرنے کے بعد سندھ مدرستہ الاسلام کراچی میں داخل ہوئے، جہاں انھوں نے انگریز پرنسپل Vines کی زیر نگرانی تربیت پائی۔

بمبئی پریذیڈنسی میں سندھ شامل تھا، یہاں کی برطانوی سرکار نے بیسویں صدی کے اوائل میں ہی فیصلہ کیا کہ جاگیرداروں اور وڈیروں کی نوجوان نسل کو انڈین سول سروس اور پولیس کیڈرز میں بھرتی کر کے انھیں سرکار کا وفادار بنایا جائے، اس سے پہلے نوآبادیاتی پالیسی کے تحت ہندستانی شہزادوں سے تعاون اور وفاداری کیلئے ان سروسز میں شامل کیا جا چکا تھا۔

شاہ نواز کا ایک دوست پولیس میں سب انسکپٹر بھرتی ہوا، اس کے بعد شاہنواز بھٹو نے بھی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے کے لیے درخواست جمع کرا دی اور 1908ء میں ناسک پولیس ٹریننگ سکول کے لیے منتخب ہوگئے، اس عہدے پر تقرری کی یقین دہانی کے بعد، شاہنواز بھٹو نے میڑک کا امتحان دیے بغیر ہی سکول چھوڑ دیا اور واپس گڑھی خدا بخش آگئے۔

یہاں انھوں نے اپنے چچا الہی بخش خان کی نگہداشت میں پرورش پائی تاہم چچا 28 سال کی کم عمری میں ہی انتقال کر گئے۔ اب بھٹو خاندان کو سارا بوجھ، ذمہ داریاں20 سالہ شاہنواز بھٹو پر آن پڑی۔ لاڑکانہ میں سی ایم بیکر نے کلکٹر مقرر ہوئے، بیکر نے ریٹائرڈ بنگالی کلکٹر Kimat Roy کو بھٹو خاندان کی جائیداد کا نگران مقرر کر دیا۔ مارچ 1909ء میں اکیس سال کی عمر ہونے پر شاہنواز بھٹو کو تمام جائیداد واپس مل گئی ۔

مختلف اضلاع میں پھیلے ہوئے وسیع و عریض رقبے، خاندانی مخالفین اور مخالف انتظامیہ کا سامنا کرتے ہوئے اتنے بڑے خاندان کی دیکھ بھال کرنا، کسی چیلنج سے کم نہ تھا۔ شاہ نواز خان اپنے وقت کی ناگزیر حالات کا سامنا کرنے کے لیے اپنی زندگی کو جدید انداز میں ڈھالا، کسی کو ناراض کرنے سے گریز کیا اور سرکاری طبقے سے دوستی کی۔ اس نے اپنے قیمتی وقت کو بچانے اور اپنی دولت کو ضائع نہ کرنے کے لیے شکاروں، ناچ گانے کی تقریبات اور کچہریوں کے انعقاد کی پرانی روایت کو ترک کر دیا ، سماجی روابط بڑھائے، سندھ کے دیگر جاگیرداروں سے دوستیاں کیں۔

1906 میں برطانیہ میں ہونے والے انتخابات میں لبرل پارٹی کی جیت نے جان مارلے (1836-1923) کو ہندوستان کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے طور پر انڈیا آفس کی قیادت سونپ دی تھی۔ لبرل فلسفی ہونے کی بناء پر مارلے نے ہندستان میں آئینی آزادیوں کی راہ ہموار کی اور نسل پرست برطانوی ہند کی سرکار کی پالیسیوں میں تبدیلیوں کے لیے پارلیمانی طرز حکومت کی طرف بڑھنے کا سوچا۔

کلکتہ کے برطانوی بیوروکریٹس کے نوآبادیاتی روّیوں پر ، مارلے کو سخت تشویش تھی ، مارلے اپنے فلسفی دوست جان اسٹورٹ مل سے متاثر تھا، یہ وہی جے ایس مل تھا جس نے گوپال گوکھلے، رومیش سی دت اور محمد علی جناح کو لبرل فلسفے سے متاثر کیا تھا۔ برطانوی افسران ہندستانیوں کو انسانیت کے نچلے درجے، وحشی، تاریک ذہن کے طور پر تصور کرتے تھے، 1909ء کے کونسلز ایکٹ نے برطانوی ہند میں نئے کونسل چیمبرز کھولے اور ہندستانیوں کو نمائندگی دینے کی ابتداء ہوئی۔ یہی ایکٹ مسلمانوں کو جداگانہ انتخاب کی حیثیت دینےکا باعث بنا۔ یوں ہندستان میں سیاست کے ایک نیا باب کھلا جس کی بنیاد Divide and Ruleپر رکھی گئی۔

شاہنواز بھٹو کو، سیاسی اُفق پر ابھی پیش رفت کرنے کا بڑا موقع ہاتھ نہیں آیا تھا۔ 1892ء کے انڈین کونسلز ایکٹ نے سندھ کو بمبئی کی قانون ساز کونسل میں ایک نشست دی تھی لیکن نشست گورنر کے نامزد کردہ خیر پور کے وزیر شیخ صادق علی کے پاس تھی، جو سکھر، لاڑکانہ اور نواب شاہ کے وڈیروں میں اعلیٰ اختیارات کے حامل تھے۔ 1904ء تک یہ نشست ان کے پاس رہی، خیر پور ریاست میں وزیر اعلیٰ کے طور پر واپسی کے بعد، ان کی جگہ با اثر سندھی بیرسٹر جی ایم Bhurgari نے لے لی۔ 1909ء کی منٹو مارلے اصلاحات کے بعد، سندھ کو بمبئی کونسل میں مزید تین نشستیں ملی گئیں اور 1935ء تک سندھ بمبئی کا حصہ رہا ہے۔

بھرگڑی سندھ کے پہلے برطانوی بیرسٹر تھے۔ وہ لبرل سیاسی نظریات کے ساتھ سندھ واپس آئے تھے، اور خود کو پوری طرح سیاست کے لیے وقف کرنے کے لیے کافی دولت مند تھے، پہلے انڈین نیشنل کانگریس اور بعد میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ بھرگڑی کی نشست سندھ کے زمینداروں کی نمائندگی کرنے والی تھی، جن میں سے زیادہ تر مسلمان وڈیرے تھے، لیکن شاہ نواز نے محسوس کیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ہندو منتظمین کے زیر اثر آتے ہیں اور بمبئی کونسل میں مسلمانوں کی نمائندگی نہیں تھی۔

برطانوی قانون کے تحت ہندو، سندھ میں تیزی سے زمینوں کی خریداری کر رہے تھے چنانچہ اکتوبر 1913ء میں سندھ کے وڈیروں نے خریداری سے لاحق نئے خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے حیدرآباد میں ایک سیاسی اجلاس منعقد کیا جس میں شاہنواز بھٹو نے بھی شرکت کی۔ اپنے سیاسی کیرئیر کو شروع کرنے کے سات سال سے بھی کم عرصے کے بعد، شاہ نواز نے بیرسٹر بھرگڑی کو سیاسی شکست دی اور 1920ء میں دہلی امپیریل لیجسلیٹو پر سندھ سے رکن منتخب ہوگئے۔ دہلی کی امپیریل کونسل میں داخل ہونے کے فوراً بعد شاہ نواز نے اپنی نئی پوزیشن کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس کے لیے مقامی اثر و رسوخ کے اختیارات کھل گئے۔ انہیں برطانوی راج نے لاڑکانہ کے ڈسٹرکٹ بورڈ کی صدارت کے لیے مقرر کیا تھا، جس نے انہیں 1920 سے 1934 تک اپنے آبائی ضلع پر مجازی انتظامی اور عدالتی کنٹرول دیا تھا۔ انہوں نے لاڑکانہ کے سینٹرل کوآپریٹو بینک کی بھی صدارت کی، اور 1930 میں انہیں نائٹ کا خطاب دیا گیا۔

تمام برطانوی ہندوستان سے منتخب ہونے والے صرف سولہ مسلمان مندوبین میں سے ایک کے طور پر، سر شاہ نواز 1930 ء میں امپریل گول میز کانفرنس لندن میں شر کت کی۔ برطانوی بادشاہ جارج پنجم نے کانفرنس کا افتتاح کیا جس میں 58 اینگلو انڈین حکام، شہزادے، سیاستدان ہندستان کے آئینی مستقبل کے اگلے قدم پر متفق ہونے کے لیے جمع ہوئے تھے۔

سندھ کی علیحدگی کا اہم سوال کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل تھا، سر شاہنواز خان نے سندھ کی علیحدگی کے حق میں تقریر کی اور برطانوی سرکار کو یہ باور کرایا کہ سندھ الگ صوبائی حیثیت کا مستحق ہے، یوں سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کی بنیاد ڈالی گئی اور قانون ہند 1935ء کے بعد کراچی کو بمبئی، کلکتہ اور مدراس کی طرح صوبائی دار الحکومت کے طور پر عروج پر لیکر جانے کا آغاز ہوا۔

پہلی عالمی جنگ کے شروع ہونے کے فوراً بعد، شاہنواز کا پہلا بیٹا سکندر نمونیا کا شکار ہو کر 7 برس کی عمر میں انتقال کر گیا، اس کا دوسرا بیٹا امدادعلی دو مہینے قبل ہی پیدا ہوا تھا۔ امداد علی 1953ء میں 39 سال کی عمر میں جگر کے کینسر کی وجہ سے فوت ہوگیا۔شاہنواز نے دوسری شاہ ہندو ڈانسر لڑکی Lakhi Bai سے کی تھی، لکھی بائی کو شاہنواز نے 1924ء میں پہلی بار اپنے بہنوئی پولیس سپریٹنڈنٹ میر مقبول کے گھر پر 1924ء میں دیکھا تھا، وہ مہاراشٹر کے دارالحکومت پونا سے سکھر آئی تھیں۔

شاہنواز بھٹو نے ہندو ڈانسر لکھی بائی سے شادی 1925ء میں کی تھی جس سال انھیں برٹش سرکار نے انڈین ایمپائر کے خطاب سے نوازا گیا۔ لکھی بائی نے اسلام قبول کر کے اپنا نام خورشید رکھ لیا تھا۔ شاہنواز بھٹو کی دوسری شادی سندھ میں نہیں ہوئی بلکہ کوئٹہ میں ان کے دوست خان آف قلات کے گھر پر ہوئی تھی، اس وقت شاہنواز بھٹو کی عمر 37 برس تھی جبکہ لکھی بائی کی عمر 18 برس تھی، لکھی بائی کے تین بچے تھے، محترمہ منور بھٹو، بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو۔ شاہنواز بھٹو کی پہلی اہلیہ سے امداد علی بھٹو، اسکندر علی بھٹو اور ممتاز محل بھٹو کی پیدائش ہوئی تھی۔

شاہنواز اور لکھی بائی سہیون شریف، لعل شہباز قلندر کے دربار پر منتوں مرادوں کے لیے اکثر حاضریاں دیتے تھے۔ زلفی کی والدہ اپنے قیمتی بیٹے کی پیدائش کے عین مطابق منٹ اور گھنٹے کو نوٹ کرنے میں محتاط تھیں، کیوں کہ اگرچہ اس نے شادی سے پہلے اسلام قبول کر لیا تھا، لیکن لکھی بائی نے علم نجوم میں اپنا ہندو اعتماد کبھی نہیں کھویا۔

5 جنوری 1928 کو زلفی کی پیدائش کے بعد بیگم بھٹو نے اپنے بیٹے زلفی بھٹو کا زائچہ بمبئی کے ایک پرانے برہمن نجومی کے ذریعے ڈالا تھا۔ نجومی نے اس زائچہ میں ہر چیز کی پیشین گوئی کر دی تھی، اس بچے کی 50 سال تک کی عمر کی کامیابیاں اور طاقت تک کا بتا دیا تھا اور پچاس سال کی عمر کے بعد مزید کچھ بتانے سے انکار کر دیا۔ زلفی کی ماں نے اسرار کیا تو برہمن نجومی نے کہا میں نہیں جانتا 50 سال کی عمر کے بعد کیا ہوگا۔

نوآبادیاتی راج میں منٹو مارلے اصلاحات کے بعد، شاہنواز بھٹو تیزی سے سیاست میں آگے بڑھنے لگے، 1910ء میں ممبر ڈسٹرکٹ لوکل بورڈ لاڑکانہ کے بعد امپریل کونسل آف انڈیا، ممبر بمبئی لیجیسلیٹو کونسل کے عہدے تک پہنچ گئے۔ شاہنواز بھٹو کسی بھی آل انڈیا سیاسی جماعت میں شمولیت کے بغیر ہی سیاسی سفر طے کر رہے تھے۔

1925ء میں سندھ محمڈن ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہوئے، 1928ء میں ان کی جناح صاحب سے پہلی ملاقات لاڑکانہ میں ہوئی جب سندھ کے مسلمان وڈیروں کے درمیان تنازعات کے حل کے لیے انھیں مدعو کیا گیا۔ جناح صاحب، شاہنواز بھٹو کے گھر پر قیام پذیر رہے۔ سر شاہنواز بھٹو نے 1934ء میں سندھ پیپلز پارٹی قائم کی، 1936ء میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر منتخب ہوئے جبکہ سر عبد اللہ ہارون نائب صدر منتخب ہوئے، برطانوی سرکار نے شاہنواز بھٹو کو 1936ء میں گورنر سندھ کا چیف ایڈوائزر مقرر کر دیا۔

سن 37ء کے جنرل الیکشن میں ان کی پارٹی نے 34 میں سے 24 مسلمانوں کی نشست پر فتح حاصل کی، لیکن شاہنواز بھٹو کراچی کی نشست سے الیکشن ہار گئے، پارٹی سربراہ ہونے کے باوجود شاہنواز بھٹو اپنی نشست ہار ے جو ان کے لیے بڑا دھچکا ثابت ہوئی۔ اس شکست کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ الیکشن کے دنوں میں شاہنواز بمبئی میں قیام پذیر رہے اور وہ لاڑکانہ نہیں آئے۔

بمبئی کے گورنر Lord Brabourne نے سر شاہ نواز بھٹو کو بمبئی بلا یا تھا، بھٹو خاندان کراچی سے بمبئی سے منتقل ہوگیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی عمر اس وقت 6 برس تھی اور وہ کراچی کے بشپس ہائی سکول میں زیر تعلیم تھے۔ گورنر بمبئی نے بھٹو خاندان کو مالابار ہل پر سرکاری رہائش گاہ مہیا کی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 1937ء میں 9 سال کی عمر میں بمبئی کیتھڈرل ہائی سکول میں داخل کرایا گیا۔

الیکشن میں شکست کے بعد، گورنر بمبئی نے شاہنواز بھٹو کو پبلک سروس کمیشن بمبئی اینڈ سندھ کا ممبر تعینات کر دیا ، کمیشن میں وہ 1946ء تک کام کرتے رہے۔ اس کے بعد وہ بمبئی سے، جونا گڑھ ریاست کے دیوان (وزیر اعظم) مقرر ہوئے۔سر شاہنواز بھٹو اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ جوناگڑھ منتقل ہوگئے، اب 18 سالہ ذوالفقار علی بھٹو بمبئی میں اکیلے تھے۔ دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ اور برصغیر میں تقسیم سے پہلے فرقہ وارانہ فسادات کی تباہی کے بعد، ذوالفقار علی بھٹونے امریکا جانے کا فیصلہ کیا، چنانچہ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں داخلہ لیا۔ ۔۔ جاری ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں