Tuaseef Qasim Iqbal

آبی حیات کی موت

پانی میں کچرا پھینکنے کی وجہ سے آبی حیات کو بہت نقصان ہوتا ہے لوگ ندی نالوں میں پلاسٹک کے بیگوں میں کچرا بھر کر پھینکتے ہیں وہی کچرا ندی نالوں سے ہوتا ہوا دریا میں ملتا ہے اور پھر سفر کرتا کرتا دریا سے یہ کچرا اور پلاسٹک کے بیگ اور دیگر اشیاء مثلاً بوتلیں، جار، ڈسپوزایبل گلاس اور دیگر پلاسٹک کی مصنوعات سیدھے سمندر میں جاتے ہیں، اس کے علاوہ ساحل سمندر پر سیر و تفریح کے لیئے آئے ہوئے لوگ بھی کچرا وہیں سمندر کے کنارے ہی پھنک دیتے ہیں جو ہوا سے اڑ کر پانی میں چلا جاتا ہے اور یہ پلاسٹک کی مصنوعات اور پلاسٹک بیگ بہت سی آبی حیات کو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ۔
آبی حیات کے لیئے پلاسٹک انتہائی نقصان دہ ہے لیکن اس پلاسٹک کی وجہ سے مرنے والی آبی حیات میں سر فہرست سمندری کچھوے ہیں، سمندری کچھوؤں کی تمام اقسام کی پلاسٹک کے کچرے سے موت واقع ہو جاتی ہے کیونکہ کچھوؤں کا ایک مخصوص فوڈ فلٹرنگ سسٹم ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ آسانی سے پلاسٹک کا کچرا باہر نہیں نکال سکتے اور آخر کار موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں ۔
اور دکھ کی بات یہ ہے کہ ان جانداروں کے مرنے کے بعد اور ان کا جسم گلنے کے بعد بھی پلاسٹک ویسے کا ویسا ہی رہتا ہے مطلب اس پلاسٹک کو دوبارہ کوئی جاندار کھائے گا اور اسکی بھی موت واقع ہو جائے گی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا ۔
ان معصوم جانداروں کی موت کا سبب انسانوں کی لاپروائی ہے ۔
اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے حکومت کی جانب سے پلاسٹک کی مصنوعات پر پابندی لگائی جائے اور عوام کو بھی چاہیے کہ از خود پلاسٹک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرے اور ڈسپوزایبل اشیاء تو خریدیں ہی نہ کیونکہ یہ فوری کچرے کا سبب بنتی ہیں ۔
آئیں ہم سب مل کر عہد کریں کہ آبی حیات کے تحفظ میں ہم سب اہم کردار ادا کریں گے اور ایسا کوئی بھی کام نہیں کریں گے جس سے ان معصوم اور خوبصورت جانداروں کی موت واقع ہو ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں