غزل۔۔۔طارق نعیم

قدم قدم پہ لگائی گئی تھی گھات یہاں
میں کھل کے کہہ نہ سکا اپنے دل کی بات یہاں

تمہارے شہر میں کوئی سرائے ہو تو بتاو
گزارنی ہے مجھے صرف ایک رات یہاں

ذرا چلیں گے تو چلنا بھی آ ہی جائے گا
کہ ابتدا میں تو ہوتی ہیں مشکلات یہاں

زمین چاہیے تجھ کو تو یہ پڑی ہے زمیں
مجھے تو خود بھی بہت ہیں تحفظات یہاں

وہاں تو خیر اسے کوئی پوچھتا ہی نہیں
ہمیں ہی رنگ دکھاتی ہے کائنات یہاں

عجیب شہر _ طلسمات ہے سخن آباد
مکان اور کہیں ہیں تجاوزات یہاں

اپنا تبصرہ بھیجیں