Mohammad Saeed Javed

صحرائے چولستان کا طلسم

ہمارے پُرکھوں نے اپنی آبادکاری کے لئے ریاست بہاولپور کے قصبے فورٹ عباس کا وہ علاقہ منتخب کیا جو صحرائے چولستان کے سرے پر واقع تھا جہاں دن رات شدید آندھیاں چلتی تھیں جو ہر طرف ریت کے دریا بہا دیتی تھیں یہ اسی دور کا قصہ ہے۔ اب تو یہ سارا علاقہ انتہائی سر سبز ہے ۔

Cholistan desert

آندھیاں وہ چلیں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے اس علاقے میں ہر طرف ریت ہی ریت تھی، ذرا سی ہوا چلتی تو شُوکتی اور اڑتی ہوئی یہ ریت چاروں طرف دندناتی پھرتی تھی اور پھر نئے سرے سے ٹیلوں کی تشکیل پاتی۔ تیز ہوا میں سوکھی ہوئی صحرائی جھاڑیاں جنہیں وہاں بونیاں اور لانا کہتے ہیں، آوارہ لومڑیوں کی طرح اِدھر سے اُدھر پھدکتی پھرتی تھیں۔ چاندنی رات میں تو یہ منظر اور بھی پُراسرار روپ دھار لیتا اور بچوں کو تو یہ حرکت کرتی ہوئی چیزیں اکثر ڈراتی رہتی تھیں۔

رنگ برنگی آندھیاں اور آسمانوں کو چھوتے ہوئے بگولے منوں کے حساب سے ریت اٹھا اٹھا کر ہر چیز پر انڈھیل دیتے اور آندھیاں بھی ایسی تھیں جو کم ہونا تو دور کی بات ، کئی کئی دن تک ختم ہونے میں ہی نہیں آتی تھیں۔ بعض اوقات سیاہ، کبھی قرمزی، اور کبھی سرخ آندھی آہستہ آہستہ آسمان سے اترتی اور ہر چیز کو اپنے رنگ میں رنگ لیتی۔ دیہاتیوں نے ماحول کو مزید خوفناک بنانے کے لیے ہر آندھی کا کوئی نہ کوئی جواز تلاش کر رکھا تھا، جس دن سرخ آندھی آتی تھی تو ایک ان دیکھا خوف لوگوں کے چہروں پر نظر آنے لگتا۔ بزرگ کہتے تھے کہ آج کہیں پھر کسی بڑے بندے کا خون ہوا ہے، ایسی ہی ایک آندھی مجھے بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا جس کے ایک ہفتے بعد سینہ بہ سینہ ہوتی ہوئی ایک خبر پہنچی کہ ٹھیک انھی دنوں لاہور میں کوئی ڈاکٹر خان صاحب نامی بڑا بندہ ایک پٹواری کے ہاتھوں قتل ہو گیا تھا ۔جب ذرا بڑے ہوئے تو پتہ لگا کہ وہ پنجاب کے اس وقت کے وزیراعلیٰ تھے۔ بات میں دم تو تھا۔
کسی کی حسرتیں مر گئی ہیں
آج آندھیاں بے وجہ نہیں آتیں
Cholistan desert

مجھے ذاتی طور پر سرخ آندھی اس لیے بھی اچھی لگتی تھی کہ اس کے حملے کے دوران جلائی جانے والی آگ بہت خوبصورت اور سبز رنگ کی نظر آتی تھی جو بڑا لطف دیتی تھی۔ رات کو جب آندھی آتی تھی تو ہم اس سے بچنے کے لیے چادر یا کھیس منہ پر ڈال لیتے تھے، سانس رک جاتا تھا مگر مجبوری تھی۔ اسی دوران اوپر ریت گر گر کر جمع ہوتی رہتی اور جب اس کا وزن اتنا زیادہ ہو جاتا کہ سینے پر بوجھ محسوس ہوتا اور دم گھٹنے لگتا تو یا تو خود ہی اٹھ کر ریت کو جھٹک کر نیچے پھینک دیتے تھے یا پھر ہماری ماں تھوڑی تھوڑی دیر بعد اٹھ کر سب بچوں کی چادروں سے ریت جھاڑتی رہتی تھیں۔ اپنی نیند میں خلل ڈال کر بچوں کی تکلیف کا مداوا کرنا ماں کا ہی شیوہ ٹھہرا۔ صبح ہر ایک کی چارپائی کے ساتھ ساتھ نیچے پھینکی گئی ریت کی چھوٹی چھوٹی ڈھیریاں لگی ہوتی تھیں۔ جب بہت زیادہ آندھی آتی تھی تو شدید گرمی کے باوجود ہم کمرے میں گھس جاتے۔ جہاں دروازے بند کر کے دئیے کی ٹمٹماتی لو میں آندھی ختم ہونے کا انتظار کیا کرتے تھے۔باہر سے دروازے بجنے اور درختوں کی سائیں سائیں سنائی دیتی۔ ہم بچے تو سو جاتے مگر بڑے جاگ کر موسم صاف ہونے کا انتظار کرتے رہتے۔ جس کے بعد ہمیں دوبارہ باہر لا کر سلادیا جاتا تھا۔
آندھی ختم ہونے کے بعد اکثر گھروں کی بیرونی دیواروں کے ساتھ جمع ہونے والی ریت بعض اوقات اتنی بلند ہو جاتی تھی کہ چھتوں تک جا پہنچتی تھی ۔ اگلی صبح بچوں کو ایک نیا شغل مل جاتا اور وہ سارا دن ریت کی تشکیل دی گئی سیڑھیوں پر بھاگتے ہوئے چھت پر پہنچ جاتے تھے۔ اس وقت چھت کی منڈیر پر بکری یا گائے کے بچھڑے کو چہل قدمی کرتے دیکھنا کوئی ایسا حیران کن منظر نہیں ہوتا تھا، وہ بڑے مزے سے خراماں خراماں ریت کے نوزائیدہ ٹیلے پر چلتے ہوئے گھر کی چھت پر جا پہنچتے تھے اوراسی راہ سے واپسی اختیار کرتے تھے۔ اگلی شام تک بڑے لوگ ریت کو ہٹا دیتے اور یوں ہمارا کھیل بھی ختم ہو جاتا تھا۔

ریت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ بڑی تیزی سے گرم ہو جاتی ہے اور سورج طلوع ہونے کے کچھ دیر بعد ہی اس پر ننگے پاؤں چلنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ تب جو کوئی ایساکرتا بھی تھا تو وہ اگلے دن ببول کا کانٹا پکڑے اپنے چھالے پھوڑتا نظر آتا تھا۔پھر جیسے ہی سورج غروب ہوتا یہ اتنی ہی سر عت سے ٹھنڈی بھی ہو جاتی اور اس پر چلتے ہوئے خنکی اور سکون کا احساس ہوتا تھا۔

اچھی گزر گئی
بک ہوم پبلشرز

اپنا تبصرہ بھیجیں