عباس طفیل جاخواہ

سید الساتذہ سید جواد احمد شاہ کاظمی

سید الساتذہ سید جواد احمد شاہ کاظمی خاندان سادات کاظمیہ کے اہم ترین فرد تھے ۔ آپ مقامی سطح پر ایک نام ور اور مدبر ترین ماہر تعلیم جانے مانے اور پہچانے جاتے تھے۔ آپ اپنے عہد کے عظیم ترین مبلغ دین اسلام زہد الانبیائ حضور سخی سید شاہ غضنفر کاظمی المعروف سرکار بھوری والے غریب نواز کے بھتیجے اور سرتاج الفقرائ حضور سخی سید صفدر علی شاہ کاظمی کے فرزند ارجمند تھے۔ آپ 1935ئ کو بدوملہی شریف میں پیدا ہوئے ۔ سید جواد احمد شاہ کاظمی کی آمد بابرکات کی خوشی میں خاندان سادات کاظمیہ میں ایک روحانی خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔دیر تک آستانہ پاک پر مٹھائیاں تقیم کی جاتی رہیں ۔ غربائ و مساکین اور یتیموں میں فی سبیل اللہ لنگر کی تقسیم عام ہوتی رہی۔ سید جواد احمد شاہ کاظمی بچپن سے ہی نہایت علم دوست اور خدا ترس انسان تھے۔

سید الساتذہ سید جواد احمد شاہ کاظمی

آپ زیادہ تر تنہائی پسند تھے ۔ اس لیے تاریخ کی کتابوں کو مطالعہ آپ کی فطرت ثانیہ بن چکی تھی۔ آپ نے سرگودھا سے بی اے کا امتحان پاس کیا اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے انگلش اور اردو کے امتحانات پاس کیے۔ جس کے فقراً بعد آپ نے اپنی مرضی سے حصول تعلیم و ادب کی لگن کی وجہ سے محکمہ تعلیم میں روزگار حاصل کیا ۔ آپ نے اپنا ایک ذاتی سکول بھی کھول رکھا تھاجو آج بھی تعلیم و ادب کے فروغ میں پیش پیش ہے۔ سید جواد احمد شاہ کاظمی اپنی لازوال علمی ، ادبی اور مذہبی قابلیت کی بنائ پر خاندان بھر میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔

آپ کی شادی اس دور کے سجادہ نشین و فیض رساں درگاہ عالیہ بدوملہی شریف حضور سخی سید نیاز احمد شاہ کاظمی ؒ سرکار کی بھتیجی اور حضور سخی سید فقیر احمد شاہ کاظمی ؒ سرکار کی بیٹی سیدہ بی بی سے انجام پائی ۔ سید جواد احمد شاہ کاظمی سرکار کی زندگی میں شادی ایسی مبارک ثابت ہوئی کہ آپ مسلسل کامیابیوں سے ہمکنار ہوئے ۔ گورنمنٹ اسلامیہ ہائی سکول بدوملہی شریف میں صدر معلم کے طور پر تعینات ہوئے ۔ بحیثیت استاذ الاساتذہ بلکہ سید الساتذہ خدمات اصل میں آپ کے خاندان کا وطیرہ بھی تھیں ۔ آپ اپنے برادر اکبر قدر خضور سخی سید ریاض علی شاہ کاظمی سرکار کے وصا ل کے بعد ان گنت مریدین کی رشد و ہدایت کے بھی ذمہ دار تھے۔ بے شک آپ نے ایک ذمہ دار مرشد کی حیثیت میں اور ایک قابل ترین استاد کے منصب پر حقیقی طور پر فائز رہ کر گھر گھر علم کے دیے روش کیے۔ آپ نے اپنے طلاب علموں کو حصول علم کے لیے بہت آسانیاں بخشیں۔ سید جواد احمد شاہ کاظمی ناقابل فراموش ہستی ہیں ۔

جنہیں صرف اس لیے یاد رکھا جائے گا کہ وہ شعبہ تعلیم و ادب کے میدان میں اور دیگر خدمات انسانیت کے شعبوں میں رہ کر احسان کرنے کی عادت رکھتے تھے۔ آپ بحیثیت انسان اپنی طرح کے باقی انسانوں کے ساتھ محبت روا رکھتے تھے۔ معاملات زندگی میں خدا ترسی سے کام لیتے تھے۔ آج آپ کے وصال مبارک کے بعد آپ ہی کے تربیت یافتہ عملی سطحوں پر آپ کی نشانی ہیں ۔ آپ کے چار فرزندان ارجمند صاحبزادہ سخی سید حماد رضا کاظمی،صاحبزادہ سخی سید فوادرضا کاظمی،صاحبزادہ سخی سید عماد رضا کاظمیاورصاحبزادہ سخی سید فہد رضا کاظمی آپ کے نقش قدم پر چل کر حقوق العباد کی پیروی جیسے خاندانی وطیرہ پر فطری طور پر عمل پیرا ہیں۔ 06مئی 2010ئ کو آپ نے وصال فرمایا۔ ہر سال آپ کے ایصال ثواب و بلندی درجات کے لیے رضا برادران کے زیر اہتمام مرکزی بارگاہ قصر ازینب ؑ بدوملہی دربار شریف میں مجلس عزا منعقد ہوتی ہے۔

اس سال بھی 7مئی بروز اتوار کو قبلہ علامہ علی ناصر الحسینی آف تلہاڑہ نے اسی سلسلہ میں منعقدہ مجلس عزا سے خطاب کیا۔ اختتام مجلس پر سالانہ ختم شریف بھی پڑھا گیا اور ہر خاص و عام میں لنگر پاک کی تقسیم عام ہو ئی۔اس موقع پر سید فہد رضاکاظمی âسجادہ نشینá نے اپنے مریدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاروں بھائیوں کے مرشد و مربی اور والد گرامی سید جواد احمد شاہ کاظمی کی محبت بھری طریقت پر عمل پیرا ہو کر ہمیں زندگیاں گزارنی ہیں۔ تاکہ بلا تفریق مذہب و ملت تمام انسانوں کے درمیان محبتوں کا فروغ عام ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں