ارشد اسدی الحسینی

غیر خدائی رنگ دھو ڈالو

سورۃ البقرۃ ۔138/141
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صِبْغَةَ اللہِ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللہِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَهُ عَابِدُونَ ۞ قُلْ أَتُحَاجُّونَنَا فِي اللہِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمْ وَلَنَا أَعْمَالُنَا وَلَكُمْ أَعْمَالُكُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ ۞ أَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطَ كَانُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى قُلْ أَأَنتُمْ أَعْلَمُ أَمِ اللہُ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَتَمَ شَهَادَةً عِندَهُ مِنَ اللہِ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۞ تِلْكَ أُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَلَكُم مَّا كَسَبْتُمْ وَلَا تُسْأَلُونَ عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُونَ ۞

▫️ترجمہ▫️
ہم نے اللہ کا رنگ اختیار کیا ہے اور اللہ کے رنگ (دین اسلام) سے بہتر کس کا رنگ ہے اور ہم اسی کے عبادت گزار ہیں۔ ۔ (اے رسول(ص)) کہہ دیجئے کہ کیا تم ہم سے اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہو؟ حالانکہ وہی ہمارا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے اور ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے اور ہم تو اخلاص کے ساتھ اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ ۔ کیا تم یہ کہتے ہو کہ ابراہیم (ع)، اسماعیل (ع)، اسحاق (ع)، یعقوب (ع) اور اسباط (ع) یہودی تھے؟ آپ کہیئے کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟ اور اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس کے پاس اللہ کی کوئی گواہی ہو جسے وہ چھپائے اور اللہ تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ ۔ یہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی اس کے لئے وہ ہے جو اس نے کمایا اور تمہارے لئے وہ ہے جو تم کماؤگے اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی۔ ۔

🔸تفسیر آیات 🔸
گذشتہ آیات میں مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو تمام انبیاء کے پروگراموں کے سلسلے میں جو دعوت دی گئی تھی اس ضمن میں فرماتا ہے : صرف خدائی رنگ قبول کرو (جو ایمان اور توحید کا خالص رنگ ہے) (صبغة اللہ)(۱)۔ ۱س کے بعد مزید کہتا ہے : کو نسا رنگ خدائی رنگ سے بہتر ہے اور ہم تو فقط اس کی پرستش و عبادت کرتے ہیں ( اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں) (و من احسن من اللہ صبغة و نحن لہ عبدون )۔ اس طرح قرآن حکم دیتا ہے کہ نسلی ، قبائلی اور ایسے دیگر رنگ جو تفرقہ بازی کا سبب ہیں ختم کر دیں اور سب کے سب صرف خدائی رنگ میں رنگ جائیں مفسرین نے لکھا ہے کہ عیسائیوں کا معمول تھا کہ وہ اپنی اولاد کو غسل تعمید دیتے تھے اور کہتے تھے اس خاص رنگ سے غسل دینے سے نو مولود کے وہ ذاتی گناہ دھل جاتے ہیں جو اسے حضرت آدمؑ سے ورثے میں ملے ہیں۔
قرآن اس بے بنیاد منطق پر خط بطلان کھینچتا ہے اور کہتا ہے کہ خرافات ، بیہودگی اور تفرقہ اندازی کے ظاہری رنگوں کے بجائے رنگِ حقیقت اور رنگ الہٰی قبول کرو تا کہ تمہاری روح اور نفس ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہو۔ واقعاً یہ کیسی خوبصورت اور لطیف تعبیر ہے۔ اگر لوگ خدائی رنگ قبول کر لیں یعنی وحدت، عظمت، پاکیزگی اور پرہیزگاری کا رنگ ، عدالت مساوات برادری اور برابری کا رنگ اور توحید و اخلاص کا رنگ اختیار کر لیں اور اس سے تمام جھگڑے، کشمکش (جو کئی رنگوں میں اسیر ہونے کا سبب ہیں) ختم کر سکتے ہیں اور شرک ، نفاق اور تفرقہ بازیوں کو دور کر سکتے ہیں۔
امام صادقؑ سے مروی متعدد احادیث میں انہی طرح طرح کے رنگوں کو دور کرنے کے بارے میں فرمایا گیا ہے۔ یہ روایات اس آیات کی تفسیر میں منقول ہیں۔ آپؑ نے فرمایا: صبغة اللہ سے مراد اسلام کا پاکیزہ آئین ہے۔ (۲) یہودی و غیرہ بعض اوقات مسلمانوں سے حجت بازی کرتے اور کہتے کہ پیغمبر ہماری قوم میں مبعوث ہوتے تھے۔ ہمارا دین قدیم ترین ہے اور ہماری کتاب آسمانی کتابوں میں سے زیادہ پرانی ہے اگر محمد بھی پیغمبر ہوتے تو ہم میں سے مبعوث ہوتے اور کبھی کہتے کہ عربوں کی نسبت ہماری نسل ایمان و وحی قبول کرنے کے لئے زیادہ آمادہ ہے کیونکہ عرب تو بت پرست تھے ۔ جب کہ ہم نہ تھے کبھی وہ خود کو خدا کی اولاد کہتے کہ بہشت تو فقط ہمارے لئے ہے۔ قرآن نے مندرجہ بالا آیات میں ان سب خیالات پر خط بطلان کھینچ دیا ہے۔ قرآن پہلے پیغمبرؐ سے یوں خطاب کرتا ہے: ان سے کہیے کہ خدا کے بارے میں تم ہم سے گفتگو کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا اور ہمارا پروردگار ہے (قل اتحاجوننا فی اللہ دھو ربنا و ربکم)۔ پروردگار کسی نسل یا قبیلے کے لئے ہی نہیں وہ تو تمام جہانوں اور تمام عالم ہستی کا پروردگار ہے۔ یہ بھی جان لوکہ ہم اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اور اعمال کے علاوہ کسی شخص کے لئے کوئی وجہ امتیاز نہیں ( و لنا اعمالنا و لکم اعمالکم)۔فرق یہ ہے کہ ہم خلوص سے اس کی پرستش کرتے ہیں اور خالص موحد ہیں لیکن تم میں سے بہت سوں نے توحید کو شرک آلود کر رکھا ہے ( و نحن لہ مخلصون )۔
اس کے بعد کی آیت میں ان بے بنیاد دعووں میں سے کچھ کا جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے: کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیمؑ، اسماعیلؑ، اسحاقؑ، یعقوبؑ اور اسباط سب یہودی یا عیسائی تھے (اٴَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطَ کَانُوا ہُودًا اٴَوْ نَصَارَی)۔ کہیے تم بہتر جانتے ہو یا خدا (قل اعلم ام اللہ) خدا بہتر جانتا ہے کہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی۔ تم بھی کم و بیش جانتے ہو کہ حضرت موسیؑ اور حضرت عیسیؑ سے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے اور اگر نہیں جانتے تو پھر بغیر اطلاع کے ان کی طرف ایسی نسبت دینا تہمت، گناہ اور حقیقت سے پردہ پوشی ہے اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اپنے پاس موجود خدائی شہادت چھپائے (و من اظلم ممن کتم شھادة عندہ من اللہ)۔ مگر یہ جان لو کہ خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے (وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ )۔
تعجب ہے کہ جب انسان ہٹ دھرمی اور تعصب کا شکار ہو جاتا ہے تو پھر مسلمات تاریخ تک کا انکار کر دیتا ہے۔ مثلاً یہودی اور عیسائی حضرت ابراہیمؑ، حضرت اسحق ؑاور حضرت یعقوبؑ جیسے پیغمبروں تک کو حضرت موسیؑ اور حضرت عیسیؑ کا پیروکار شمار کرتے ہیں جب کہ وہ ان سے پہلے دنیا میں آئے اور یہاں سے چل بسے۔ وہ بھی واضح حقیقت و واقعیت کو چھپاتے ہیں جس کا تعلق لوگوں کی قسمت اور دین و آئین سے ہے۔ اس لئے قرآن انہیں ظالم ترین افراد قرار دیتا ہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر حقائق کو چھپاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ زیر بحث آیت میں ایسے لوگوں کے نظریات کا ایک اور جواب دیا گیا ہے۔ فرمایا: فرض کرو یہ سب دعوے سچے ہیں تو بھی وہ ایسے لوگ تھے جو گزر گئے ہیں ان کا دفتر اعمال بند ہو چکا ہے، ا ن کا زمانہ بیت چکا ہے اور ان کے اعمال انہی سے تعلق رکھتے ہیں (قلت اللہ قد خلت نھٓما کسبت) اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اور ان کے اعمال کی باز پرس تم سے نہ ہوگی ( و لکم ما کسبتم و لا تسئلون عما کانوا یعملون)۔ مختصر یہ کہ ایک زندہ قوم کو چاہئیے کہ اپنے اعمال کا سہارا لے اور ان پر بھروسہ کرے نہ کہ اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کی تاریخ کا سہارا لے۔ ایک انسان کو صرف اپنی فضیلت و منقبت پر بھروسہ کرنا چاہیے کیونکہ باپ کی فضیلت سے اسے کیا حاصل چاہے وہ کتنا ہی صاحب فضل کیوں نہ ہو۔
۱۔ عرب جس مقام پر (صبغہ اللہ) کہتے ہیں اس سلسلے میں مفسرین نے کئی احتمالات بیان کئے ہیں جن میں سے تین واضح ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے (طبغو صبغة اللہ) دوسرا یہ کہ ملت ابراہیم کی جگہ آیا ہو جو گذشتہ آیات میں گزر چکا ہے۔ تیسرا یہ کہ فعل محذوف کا مفعول یہ ہو (اتبعوا صبغة اللہ)۔
۲۔ نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۲۔
————————-
التماس دعا
ارشد اسدی الحسینی

اپنا تبصرہ بھیجیں