Suleman Athar Javaid

ہم سے ممکن نہ ہوا دشت کو دریا لکھیں

‏ہم سے ممکن نہ ہوا دشت کو دریا لکھیں
خار کو پھول کہیں دھوپ کو سایہ لکھیں

ان کا اصرار اندھیرے کو اجالا لکھو
ضد ہماری کہ اندھیرا ہے اندھیرا لکھیں

آؤ اس پیڑ کے سائے میں ذرا سستا لیں
اور پھر چاہے غزل چاہے قصیدہ لکھیں

کچھ پتا ان کو چلے ہم پہ گزرتی کیا ہے
اپنے اک آدھ سہی غم کا خلاصہ لکھیں

اس کے ہر حرف سے خوشبو سی تمہاری مہکے
یا رباعی یا کوئی شعر غزل کا لکھیں

کیا کریں پھول سے کاغذ پہ بکھر جاتے ہیں
جب بھی چاہا ہے کبھی ان کا سراپا لکھیں

چاندنی رات میں بیٹھیں لب دریا پہ کہیں
اور ہر موج پہ بس نام تمہارا لکھیں

اس کی ہستی کہ ہے آباد مہکتا سا جہاں
اور ہم خود کو سمندر میں جزیرہ لکھیں

ہم کو اس عہد کشاکش کو رقم کرنا ہے
کس کو فرصت کہ بھلا آپ کا قصہ لکھیں

کیا دیا تم نے زمانے کو بس اک شب کے سوا
ہم نے سوچا ہے کہ اس شب کا سویرا لکھیں

تم نے اک موڑ پہ لا کے جسے چھوڑا تھا کبھی
آؤ اب بیٹھ کے قصہ وہ ادھورا لکھیں

دل سے مجبور ہیں جاویدؔ مگر حیف کہاں
کیا یہ ممکن ہے کبھی آپ کو اپنا لکھیں

سلیمان اطہر جاوید

اپنا تبصرہ بھیجیں