siraj ul haq

بھارت سے مذاکرات۔۔۔مسئلہ کشمیر کے حل کی شرط پر

امیر جماعت اسلامی پاکستان
شہباز شریف نے ایک بار پھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو بلاوجہ کی کشمکش اور مخاصمت سے نکلنے کا مشورہ دیا ہے،شہباز شریف نے کہا ہے اگر بھارت اپنا رویہ تبدیل کر کے مذاکرات کی میز پرآنے کیلئے تیار ہو تووہ ہمیں بھی تیار پائے گالیکن اس کے لئے بھارت کو کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنا ہوں گی اور کشمیر سمیت تمام تنازعات کے منصفانہ حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔شہباز شریف کا یہ کہنا بھی درست ہے کہ بھارت نے 2019 کے متنازع آرٹیکل سے کشمیر کی ا ±صولی حیثیت کو پامال کیا ہے۔ہمارے حکمران سال ہا سال سے بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں اور بھارت مستقل ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میں نہ مانوں کی رٹ لگائے ہوئے ہے ۔بھارتی قیادت کے رویہ نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس سے بات کرنا بھینس کے آگے بین بجانے سے بڑھ کر کچھ نہیں ۔ بدقسمتی سے ہمارے حکمران یہ کار لا حاصل گزشتہ سات دہائیوں سے کررہے ہیں ۔
حکومت نے گزشتہ سال اپنی26 تا2022 کی اعلان کردہ قومی سلامتی پالیسی میں بھی مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے عزم کا اظہارتھا اورکہاتھا کہ ”پاکستان کشمیر سے متعلق اپنی پوزیشن پر قائم ہے اور وہ کشمیر کے تنازع کے منصفانہ حل کا مطالبہ کرتا رہے گا۔ ایک ایسا حل جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہو۔“اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اپنے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیاتھا کہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کیا جائے گا مگر آج تک ان بیانات پر عمل نہیں ہوسکاجو گزشتہ 75سالوں سے دیئے جارہے ہیںس ۔ مسئلہ کشمیر گزشتہ 75سال سے جنوبی ایشیا ءکے امن کیلئے خطرہ بنا ہوا ہے ۔پورا خطہ بارود کے ایک ڈھیر پر ہے ،ذراسی چنگاری اس کو ایک لمحہ میں جلا کرراکھ کرسکتی ہے لیکن آگ کو دیوتا سمجھ کر اس کی پوجا کرنے والا مودی خطے کو جنگ کی آگ کے شعلوں کے حوالے کرنے پر تلا ہوا ہے۔ اہل کشمیر75 سال سے پاکستان کی تکمیل، سا لمیت اور بقا کی جنگ لڑ رہے ہیںمگرہمارے حکمران ہر دوچار سال بعد ایک پالیسی بیان دے کر اسے بھلا بیٹھتے ہیں ۔ موجودہ حکومت میں بھی خطاب اورٹویٹ کیے اور خط لکھے جارہے ہیں مگر عملاً کچھ نہیں کیا جارہا ۔
بانی پاکستان قائد اعظم ؒ نے کشمیرکو پاکستان کی شہہ رگ قراردیاتھا مگر 75سال سے ملک پر مسلط حکمرانوں نے کشمیر کی آزادی کے بلند و بانگ دعوﺅں اور وعدوں کے باوجود ہمیشہ قوم کو مایوس کیا۔ مودی حکومت نے 41ماہ قبل کشمیر کی آئینی حیثیت کو ختم کردیاتھا اور اسی دن سے کشمیر میں مکمل لاک ڈاﺅن ہے ۔ہر گھر پر ایک فوجی بندوق تانے کھڑا ہے ،بازارویران اور مارکیٹیں بندہیں۔ہر طرف خوف کے سائے ہیں اور سراسیمگی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں ،تعلیمی اداروں اور ہسپتالوںپر فوج کا قبضہ ہے ۔ ساری کشمیری قیادت جیلوں میں قید ہے یا گھروں پر نظر بند ہے ۔قائد حریت سید علی گیلانی علیہ الرحمہ کا جنازہ فوج کی نگرانی اور رات کے اندھیر ے میں پڑھا کر انہیں زبردستی حیدر پورہ کے قبرستان میں دفن کردیا گیا۔ معیشت تباہ ہوگئی ہے ۔کھیتوں اور کھلیانوں میں فصلیں اور باغات اجاڑ دیئے گئے ہیں۔ ہر روز لوگوں کو گھروں سے اٹھالیا جاتا ہے اور زمین دوزفوجی ٹارچرسیلوں اور عقوبت خانوں میں انہیں بدترین تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا جارہا ہے ،اب تک لاکھوں کشمیریوں کو آزادی کے مطالبے کی پاداش میں شہید کردیا گیا ہے ۔ماﺅں بہنوں بیٹیوں کی عزت پامال اور تارتار ہیں ۔ان 41ماہ میں 20ہزارسے زائد کشمیری نوجوانوں کو کشمیر میں قائم فوجی ٹارچر سیلوں سے بھارت کی جیلوں میں منتقل کیا جاچکا ہے اور کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کیلئے لاکھوں ہندوﺅں کو جن میں اکثریت شیوسینا،آرایس ایس اوربی جے پی کے مسلم دشمنی میں اندھے بدمعاشوں اور غنڈوں کی ہے آباد کیا جارہا ہے۔کشمیری زبان کی بجائے ہندی کو دفتروں میں رائج کردیا گیاہے ۔بھارت کشمیر سے آنے والے دریاﺅں پر بندباندھ کر ان کا رخ موڑ رہا ہے جس سے پاکستان کے دریاخشک اورزمینیں بنجر ہوجائیں گی اور ملک ایک صحرا کا منظر پیش کرے گا لیکن اس سب کے باوجود پاکستان خاموش ہے ، حکمرانوں کی غفلت اورلاپرواہی کی وجہ سے کشمیر میں جاری مظالم پر اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں نے مجرمانہ خاموشی ا ختیار کررکھی ہے ۔ 5اگست 2019کو کشمیر کو بھارت کا حصہ قراردینے کے بعد سے مودی نے نہ صرف کشمیر میں بلکہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھا ہے ۔ جماعت اسلامی مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ہم تحریک آزادی ¿ کشمیر کی پشتیبانی جاری رکھیں گے ۔!
کشمیر کی آزادی کے لیے آخری گولی اور آخری سانس تک لڑنے کا ا علان کرنے والوں نے اپنے دور اقتدار میں ایک قدم بھی نہیں اٹھایا ۔حکومت کی ہر حرکت مشکو ک ہو گئی ۔ حکومت کا فرض تھاکہ پانچ اگست کے بھارتی اقدام کے بعد قومی قیادت کے ساتھ بیٹھ کر مسئلہ کشمیر پر مشترکہ لائحہ عمل بناتی اور اس پر عملدرآمد کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتی ۔ کشمیری اور پاکستانی عوام حکومت کی طرف سے جہاد کے اعلان کا انتظار کر رہے ہیں،چاہئے تو یہ تھا کہ اقوام متحدہ سے واپسی پرسابق وزیر اعظم عمران خان آزادی کشمیر کا واضح روڈ میپ دیتے ، مگر ٹیپو سلطان کے راستہ پر چلنے کا نعرہ لگانے والے وزیراعظم 27 ستمبر کی تقریر کے بعدسے چپ سادھے بیٹھے رہے اور اقوام متحدہ کی تقریر کے الفاظ انہیں ڈھونڈتے رہے ۔پی ڈی ایم کی حکومت بھی اسی ڈگر پر چل رہی ہے۔ حکومت قومی قیادت کے ساتھ مل بیٹھ کر فیصلہ کرے کہ مودی کے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈے کو ناکام بنانے اور کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانے کے لیے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔
کشمیر اس وقت چاروں طرف سے محاصرے اور دنیا کی بڑی جیل کا منظر پیش کر رہاہے ۔ کشمیر کو جیل خانہ بنانے میں پاکستان کے حکمرانوں کا بھی ہاتھ ہے ۔ بھارت کو ایل او سی پر باڑ لگانے کی اجازت پرویز مشرف نے دی ۔ امریکہ میں ایک سیاہ فام پولیس کے ہاتھوں قتل ہوتاہے تو پورا امریکہ اٹھ کھڑا ہوتاہے مگر کشمیر میں ہرروز قتل عام کے باوجود کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اسلام آباد سنگ مرمر کا قبرستان بن چکاہے یہاں بڑے بڑے لوگ رہتے ہیں مگر ان کی سوچ محدود اور غیر سنجیدہ ہے ۔ پی ٹی آئی کے دور حکومت میںآٹھ ماہ تک کشمیر کمیٹی کا کوئی چیئرمین نہیں تھا ۔ پہلے فخر امام کو کمیٹی کا چیئرمین بنایا اور جب انہوںنے کام شروع کیا تو ان کو بدل دیاگیا ۔ آج تک پاکستانی حکمرانوں کی ایک ہی پالیسی رہی ہے ،یہ بڑے بڑے نعرے لگاتے ہیں اور پھر ہر بات اور وعدے کو بھول جاتے ہیں ۔ عمران خان نے اقوام متحدہ میں تقریر کرنے کے بعد واپس آ کر جنرل گریسی کی پالیسی پر چلتے ہوئے اعلان کیا کہ جو کشمیر کی طرف جائے گا وہ پاکستان کا غدار ہوگا ۔ حکومت جو اچھل کود کر رہی ہے یہ کشمیر کی آزادی کے لیے نہیں بلکہ قوم کو دھوکہ دینے کے لیے ہے ۔ اس حکومت کے آنے کے بعد معیشت تباہ اور معاشی نظام درہم برہم ہوگیاہے جس سے آزادی ¿ کشمیر کی تحریک کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے ۔ افغان قوم نے جرا ¿ت کا مظاہرہ کیا چالیس ممالک کی افواج نیٹو اور امریکی فوج کو شکست دی اور بلآخر امریکہ کوگھٹنے ٹیکنے اور شکست تسلیم کرنا پڑی جبکہ ہماری حکومتیں مصلحتوں اور بزدلی کے اندھیروں میں گم ہیں ۔ حکومت کی خارجہ پالیسی کی مسلسل ناکامی کی وجہ سے بھارت سلامتی کونسل کا رکن بنا۔
کشمیر کی آزادی کے لیے مودی سے مذاکرات کی بھیک مانگنے کی بجائے غیرت اور جرا ¿ت مند قیادت کی ضرورت ہے مگر ان حکمرانوں کی صفوں میں کوئی محمود غزنوی ، سلطان ٹیپو اور محمد بن قاسم نظر نہیں آتا۔سابق وزیراعظم آزاد کشمیر روتے ہوئے پاکستانی حکمرانوں سے پوچھا تھا کہ ہم کب تک اپنے معصوم بچوںاور جوانوں کے لاشے اٹھاتے رہیں گے ۔ صدر آزاد کشمیر حکمرانوں کے رویے سے مایوس ہیں ۔ اسلام آباد کے بنگلوں میں بیٹھ کر حکمرانی کرنے والوں کے دل میں کشمیریوں کا درد ہوتا تو چار سالہ معصوم بچے اور اس کے نانا کی تصویر ان کی غیرت اور ایمان کو جگانے کیلئے کافی تھی ۔کشمیری پاکستان کی محبت اور آزادی کے لیے اپنی جانیں اور عصمتیں قربان کر رہے ہیں ۔ ماﺅں کے سامنے ان کے معصوم جگر گوشوں اور نوجوان بیٹوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا ہے اور بھائیوں کے سامنے ان کی ماﺅں اور بہنوں کی عصمت دری کی جاتی ہے ۔ معصوم بچے دودھ نہ ملنے کی وجہ سے روتے اور بلکتے ہیں ۔ مودی نے بابری مسجد کو رام مندر اور کشمیر کو بھارت کاحصہ بنانے کے دو وعدے پورے کردیے اور اب وہ آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کی باتیں کر رہاہے جبکہ ہمارے حکمرانوں نے قوم سے کیا گیا کوئی ایک وعدہ پورا نہیں کیا۔
چار نسلوں سے کشمیریوں کا استحصال ہورہاہے ۔ ہمارے حکمران قدم بقدم پیچھے ہٹ رہے ہیں اور کوئی اقدام کرنے کے بجائے تقریریں کر رہے اور محض دکھلاوے کیلئے پالیسیاں بنا رہے ہیں ۔ ہم جنگ نہیں چاہتے مگر کشمیر میں اور ایل او سی پر بھارت نے جنگ برپا کررکھی ہے اور یہ جنگ مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے ۔ حکمران دنیا کو بتانے کی بجائے بزدلوں کی طرح مودی کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں ۔ جس قوم نے جہاد سے پہلو تہی کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کو ذلیل و خوار کردیا ۔ حکومت جہادکا اعلان کرے پوری قوم اس کی آواز پر لبیک کہے گی ۔ حکمرانوں کوتو سچ بولنے کی توفیق نہیں ۔ سچ یہ ہے کہ بائیس کروڑ پاکستانی عوام اور ڈیڑھ کروڑ کشمیری اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور اب وقت آگیاہے کہ یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہو گی ۔
قوم نے فیصلہ کیا ہے کہ حکمرانوں کی بے حسی اور کشمیر سے لاتعلقی کے باوجود کشمیر کی آزادی کی تحریک جاری رہے گی ۔ ہمارا اب بھی مطالبہ ہے کہ کشمیر کے یک نکاتی ایجنڈے پر اوآئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں بلایا جائے ۔ خاموشی کو توڑا اور دنیا کو کشمیریوں پر ہونے والے مظالم سے آگاہ کیا جائے ۔ جب تک آپ دشمن کو دوست سمجھتے رہیں گے ، نقصان اٹھائیں گے ۔ قرار دادیں کوئی راستہ نہیں ۔ اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل سینکڑوں قرار دادیں پاس کر چکی ہے جس پر بھارت ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اب قراردادوں سے بات بہت آگے بڑھ چکی ہے ،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرار دادیں فرار کی راہیں ثابت ہوئی ہیں ۔ حکومت نے بہت وقت ضائع کردیا اب اسے مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے کیونکہ ان کے پاس اب زیادہ وقت نہیں رہا ۔
….٭….
جدوجہدِ آزادی کشمیر اور پاکستانی حکمران
تحریر: لیاقت بلوچ
نائب امیر جماعتِ اسلامی پاکستان
سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل پاکستان
مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کا ایک نامکمل ایجنڈہ ہے۔ اس وقت عالمی سطح پر قیامِ امن کو جن مسائل سے شدید خطرات لاحق ہیں ان میں سے بلاشبہ مسئلہ کشمیر سرفہرست ہے۔ تین ایٹمی قوتوں (پاکستان، بھارت اور چین) کے بیچ واقع خطہ جنت نظیر– وادی کشمیر – پر ا ±س وقت تک جنگ کے بادل منڈلاتے رہیں گے جب تک اس دیرینہ مسئلہ کو وہاں کی عوام کے خواہشات کے مطابق حل نہ کیا جائے۔ پاکستان و بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ ہی کشمیر ہے۔ خدانخواستہ یہ دونوں ایٹمی قوتیں کسی وقت جنگ میں ا ±لجھ کر ایک دوسرے کے خلاف ایٹمی اسلحہ استعمال کربیٹھے تو اس جنت نظیر وادی سمیت پورا خطہ ایک ایسی ہولناک تباہی و بربادی کی لپیٹ میں آجائے گا جس کی نظیر نہ تو ہیروشیما و ناگاساکی پر امریکی ایٹمی حملے کی صورت میں ملے گی اور نہ ہی کسی اور سانحے کی شکل میں۔
بدقسمتی سے تقسیمِ ہند کے وقت ریڈکلف ایوارڈ کے دوران ہندو اور انگریز سامراج کی باہمی ساز باز کے نتیجے میں خطہ کشمیر کے پاکستان سے طے شدہ معاہدے کے تحت الحاق کی بجائے وادی میں ہندو فوج کی کثیر تعداد بھیج دی گئی تاکہ وہاں پر موجود آزادی کی روح کو پروان چڑھنے سے روکا جائے۔ اس غیر متوقع اور غیر انسانی فوج کشی کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 22 اکتوبر 1947ءکو پہلی جنگ چھڑگئی جوکہ 05 جنوری 1949 تک جاری رہی۔ ایک سال 2 ماہ اور 2 ہفتہ تک جاری رہنے والی اس جنگ میں دونوں اطراف سے بھاری جانی و مالی نقصان اور بھارتی فوج کے سر پر شکست کے منڈلاتے بادل کو دیکھتے ہوئے بھارتی قیادت نے ایک سازش کے تحت اقوامِ متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹائے اور بالآخر اقوامِ متحدہ کے زیر نگرانی جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے لائن آف کنٹرول کی خونی لکیر کھینچ دی گئی۔ پاکستان کے حصے میں موجودہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان جبکہ بھارت کے پاس وادی کشمیر، جموں اور لداخ کے علاقے چلے گئے۔اقوامِ متحدہ نے بھارتی واویلا پر 1948 میں عارضی جنگ بندی اس وعدے پر کرائی کہ کشمیری عوام کو استصوابِ رائے کا حق دیا جائے گا اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کرائی جائے گی، تاکہ کشمیری عوام خود یہ فیصلہ کرلیں کہ وہ پاکستان کیساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کیساتھ۔ مگر افسوس کہ اقوامِ متحدہ سات دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی اپنے اس وعدے پر عملدرآمد نہ کراسکا۔
بظاہر دنیا بھر میں قیامِ امن کا ضامن اقوامِ متحدہ تاریخی طور پر چند بڑی طاقتوں کی جاگیر اور آماجگاہ کے سوا کچھ بھی ثابت نہیں ہوسکا۔ سابق سوویت یونین کے ٹکڑے ہونے کے بعد عملاً یہ ادارہ امریکہ کی لونڈی کا کردار ادا کرتا چلاآرہا ہے۔ روس نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کو ویٹو کیا، امریکہ نے بھی اسلام دشمنی کی وجہ سے اس مسئلے پر ہمیشہ دھوکہ دیا۔ پاکستان کی کمزور اور ناقص خارجہ پالیسی نے اس مسئلہ کو اور زیادہ گھمبیر اور حل سے کوسوں دور کردیا۔ پاکستانی حکمرانوں کی سردمہری اور ناقص خارجہ پالیسی کے نتیجے میں چین، ایران اور سعودی عرب جیسے دیرینہ دوست اور حمایتی بھی مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی حمایت سے دست کش ہوکر غیرجانبداری کی روش اختیار کرچکے ہیں۔
مسئلہ کشمیر کو ثالثی کے ذریعے حل کرنے کی تجویز بھی کئی دفعہ زیر غورآئی۔ برطانیہ ، امریکہ نے ثالثی کے لیے کردار ادا کرنے کی متعدد پیش کشیں کیں۔ چین نے بھی اس پر آمادگی کا اظہار کیا، ایران نے خدمات پیش کیں، مگر بھارت کی ہٹ دھرمی او ر’میں نہ مانوں’ اور ‘اٹوٹ انگ’ کی رِٹ نے ان تمام ممالک کی کوششوں پربھی پانی پھیرا۔
پاکستانی قوم 1990ءسے ہر سال متواتر یومِ یکجہتی کشمیر پاکستان سمیت دنیا بھر میں مناتی چلی آرہی ہے، تاہم 05 اگست 2019 کو نریندر مودی کی فاشسٹ حکومت نے بھارتی آئین سے کشمیریوں کو جداگانہ حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کو نکال کر ریاستِ جموں و کشمیر کو 3 حصوں میں تقسیم کرکے انہیں بھارتی یونین کے زیرِ انتظام ایک علاقہ قرار دے دیا۔ اس طرح مودی سرکار نے تنازعہ کشمیر کے اصل فریق پاکستان اور بین الاقوامی ثالث اقوام متحدہ کی رضامندی کے بغیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ (جموں و کشمیر اور لداخ) کی قانونی حیثیت کو تبدیل کرکے اپنے “اٹوٹ انگ” کی تکرار کو عملی شکل دینے کی کوشش کی۔
بھارتی آئین سے آرٹیکل 370 کے اخراج پر دنیا بھر میں موجود کشمیری و پاکستانی عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ نہ صرف کنٹرول لائن کے آر پار شدید احتجاج ہوا، بلکہ دنیا بھر میں مودی سرکار کے اس آمرانہ اور غیرانسانی، غیرقانونی اقدام کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر میں احتجاج روکنے اور دبانے کے لیے اہم سیاسی رہنما،کارکن اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے نمائندے جیلوں میں ڈال دیے گئے، کشمیریوں کا باہر کی دنیا سے رابطہ منقطع، انٹرنیٹ اور دیگر مواصلاتی رابطے بند کیے گئے، کشمیریوں کی سیب اور دیگر فصلیں کھیتوں اور باغات میں ہی گَل سڑ گئیں، صحافیوں کی کوریج پر مکمل پابندی عائد کردی گئی، پوری وادی میں کرفیو نافذ کرکے کشمیریوں کو گھروں میں محصور رہنے پر مجبور کیا گیا، کھانے پینے اور دیگر ضروریاتِ زندگی تک عوام کی رسائی ناممکن بنادی گئی، تعلیمی ادارے، پبلک ٹرانسپورٹ، ہسپتال وغیرہ بند اور کاروبار تباہ کردیے گئے، مودی سرکار مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی پالیسی پر گامزن ہوگئی، آرٹیکل 370 کے خاتمے کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بھارتی فورسز نے کشمیری عوام پر سیدھی فائرنگ کی، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دفتر سے آنے والی رپورٹس اور بیانات میں ساری صورت حال واضح تھیں۔ یوں مقبوضہ جموں و کشمیر کی پوری وادی عملاً دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل میں تبدیل کردی گئی۔ بھارت نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیری عوام کے ساتھ براہِ راست جنگ کا ماحول بنا دیا۔
مودی کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے اقدام پر پاکستانی حکومت اور حکمرانوں کا طرزِ عمل بچگانہ اور کشمیری عوام اور پاکستانی قوم کی ا ±منگوں کے بالکل برعکس تھا۔سابق وزیر اعظم نے اس اہم موقع پر بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے اور مسئلہ کشمیر کو سیاسی، سفارتی ذرائع سے مو ¿ثر بین الاقوامی فورمز پر بھرپور انداز میں اٹھانے کی بجائے ایسے بیانات دیے جو کشمیریوں کے زخم پر نمک پاشی کے مترادف تھے۔ انہوں نے پ ±رعزم اور پ ±رجوش کشمیری نوجوانوں کی طرف سے غاصب بھارتی سرکار کے خلاف بطور احتجاج کنٹرول لائن تک جانے کی خواہش کو غداری قرار دیا اور ایسا کرنے والوں کو گرفتار کرنے کی دھمکیاں دیں۔ نیز حسبِ دستور کشمیری عوام سے جھوٹے وعدے کیے کہ وہ اس دفعہ اقوامِ متحدہ میں جاکر مسئلہ کشمیر کو حل کرالیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔اس کے برعکس کشمیریوں اور بھارتی مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی کے سامنے مقبول پاکستانی مو ¿قف رکھنے کی بجائے موجودہ وزیر اعظم نے بھی مودی سے ہی امن کی توقعات وابستہ کرلیں، جس پر کشمیری اور پاکستانی عوام نے انہیں خوب آڑے ہاتھوں لیا اور اس غیرذمہ دارانہ، ریاست مخالف بیانیہ پر انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔مودی سے امن کی توقعات رکھنے والی حکومت اس قدر رجائیت پسندی کا شکار ہوئی کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ مسئلہ کشمیر اور وہاں ہونے والے بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے پیش ہی نہ کرسکی،
مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی سفارتی تیاری اس قدر کمزور ہے کہ اِسے ثالثی کے لیے بار بار امریکا کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے بھی ثالثی کی بات کی۔ کسی بھی طرح کی ثالثی کے لیے ضروری ہے کہ تنازع کے تمام فریق ثالثی کو قبول کریں۔ لہٰذا مودی سرکار کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر کسی بھی ثالثی کو ماننے سے صاف انکار کردیاگیا۔
مسئلہ کشمیر کے حل سے متعلق پاکستانی عوام کا ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ کشمیریوں کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خود ارادیت دیا جائے، اور اس کے لیے کشمیر میں ریفرنڈم کرایا جائے تاکہ کشمیری عوام یہ فیصلہ خود کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو یہ بہت ہی مثالی صورت حال ہوگی۔ لیکن بھارت کی طرف سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت سے مسلسل انکار اور پاکستانی حکومت کی عدم توجہی سے آج حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں کہ کشمیر کی خودمختاری بھی چھین لی گئی ہے جس کے بعد ریفرنڈم کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں۔
حکومت کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر جیسے دیرینہ علاقائی اور پاکستان و بھارت کے مابین بنیادی مسئلے کو کشمیری عوام اور پاکستانی قوم کے دیرینہ موقف کے مطابق حل کرکے تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف سے لکھوائے ورنہ یہ سعادت تو آئندہ آنے والے کسی نہ کسی حکمران کے حصے میں آہی جائے گی، ان شاءاللہ، لیکن موجودہ حکمران بہرحال اس بہت بڑی اور تاریخی کامیابی سے محروم رہیں گے۔
کشمیر کی موجودہ صورتِ حال پر پاکستان کو عالمی اور علاقائی سطح پرمندرجہ ذیل سفارتی، سیاسی کوششیں فوری طور پر کرنے کی ضرورت ہے:
l وادی میں پچھلی سات دہائیوں سے جاری کشیدگی کو کم کرنے اور کشمیری عوام پر جاری بھارتی ظلم و بربریت کو روکنے کے لیے دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارت خانوں کے ذریعے مو ¿ثر سفارت کاری کی جائے۔
l مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ نے کم و بیش 30 قراردادیں پاس کیں جن میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کشمیری عوام کے استصوابِ رائے کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ اب اقوامِ متحدہ اپنے وعدوں پر عمل کرے اور کشمیری عوام کو رائے شماری کا حق دیا جائے۔
l کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دے کر وہاں پر اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے لیے اقدامات۔
l عالمی برادری کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ وہ کشمیری عوام پر عرصہ دراز سے جاری بھارتی فورسز کے مظالم روکنے کے لیے مو ¿ثر اور نتیجہ خیز دباو ¿ ڈالے۔
l دونوں ممالک (پاکستان و بھارت) دوطرفہ مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کا ایسا حل تلاش کریں جو کشمیری عوام کو قابل قبول ہو۔
l دونوں فریق (پاکستان و بھارت) کسی متفقہ ثالث کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرائیں۔
l عالمی عدالتِ انصاف مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سو موٹو ایکشن لے۔
l کشمیری اور بھارتی جیلوں میں قید ہزاروں بے گناہ کشمیریوں اور سیاسی قیادت کی بلاتاخیر اور غیرمشروط رہائی۔
l بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کی سابقہ حالت میں فی الفور بحالی۔
l کشمیری عوام کو کنٹرول لائن کے آر پار نقل و حرکت کا حق دلانے کے لیے سیاسی اور سفارتی کوششیں۔ نیز کشمیر میں انسانی حقوق کے حوالے سے بین الاقوامی مندوب کا تقرر۔
l امریکہ یا عالمی برادری کی طرف سے ثالثی کی کسی بھی کوشش میں اس بات کو یقینی بنانا کہ کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کے فیصلے میں خود کشمیری عوام کی رائے کو بنیادی اہمیت حاصل ہوگی، اور کشمیر کے مستقبل سے متعلق کیا گیا کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ کشمیری عوام اور پاکستانی قوم کے لیے قابل قبول نہیں ہوگا۔
l مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھنے سے پہلے دونوں ممالک (پاکستان و بھارت) عسکری کشیدگی کا خاتمہ اور جنگ سے گریز کا کوئی تحریری فارمولہ بھی سامنے لائے۔ بھارت آمادہ ہو تو دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے سے ہی یہ مسئلہ حل کرسکتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ دونوں ممالک کے قیادت کی طرف سے مسئلے کے پائیدار حل کی طرف بامقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات سے گریز اور باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔
l اگرچہ جنرل پرویز مشرف اور بھارتی قیادت کے درمیان مذاکرات کشمیری عوام اور پاکستانی قوم کے دیرینہ مو ¿قف کی سراسر خلاف ورزی پر مبنی ایک فارمولہ کی بنیاد پر کیے گئے تھے، تاہم ان مذاکرات میں بعض ا ±مور اور اقدامات، جن پر اتفاق ہوگیا تھا، حوصلہ افزا تھے۔ ان میں کنٹرول لائن کے دونوں طرف موجود افواج کی تعداد میں کمی، کشمیریوں کی کنٹرول لائن کے آر پار آزادانہ نقل وحرکت اور کشمیریوں کا اپنے خطے پر حق حکمرانی شامل تھا۔
l پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی بھی سطح کے مذاکرات کے آغاز سے قبل کشمیری اور پاکستانی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جانا ازحد ضروری ہے۔ کشمیری اور پاکستانی سیاسی قیادت اور عوام کی مرضی کے بغیر مسلط کردہ کوئی بھی فیصلہ خطے کو ایک نئی جنگ اورتنازعہ کی طرف دھکیلنے کا باعث ہوگا۔
l تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اب تک کی گئی کوششوں میںجس بنیادی حقیقت کو ہمیشہ نظر انداز کیا گیا، وہ یہی ہے کہ تنازعہ کے بنیادی فریق یعنی کشمیری عوام اور پاکستانی سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیے بغیر اور انہیں مذاکرات کا حصہ بنائے بغیر مذاکرات کیے گئے جوکہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکے۔
مسئلہ کشمیر کا واحد حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے میں مضمر ہے۔ جتنی جلد ہمارے حکمران اس حقیقت کو سمجھ پائیں اتنی ہی جلد یہ مسئلہ حل ہوکر تاریخ کا حصہ بن پائے گا۔ کشمیری شہدائ، خواہ وہ سید علی گیلانیؒ ہوں یا محمد اشرف صحرائی، یا میدانِ جہاد میں غاصب بھارتی سورماو ¿ں کو تگنی کا ناچ نچانے والے جرا ¿ت مند کشمیری مجاہدین برہان مظفر وانی شہید اور جہادِ کشمیر کے دیگر کمانڈر یا پھر جامِ شہادت نوش کرنے والے کشمیری نوجوان، عورتیں، بزرگ، بچے ہوں، ان سب کی قربانیوں کا تقاضا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے دیرینہ اور پائیدار حل کے لیے تینوں بنیادی فریق (کشمیری عوام، پاکستان اور بھارت) کی باہمی رضامندی سے ایک ایسا حل نکالا جائے جو کشمیری عوام کے لیے قابل قبول ہو۔اگر یہ ساری کوششیں بھی خدانخواستہ بارآور ثابت نہ ہوں تو پھرتنازعہ کشمیر کے حل کی ایک ہی قابل عمل صورت باقی رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ جہادِ کشمیر کامیابی سے ہمکنار ہو، اور افغان عوام کی طرح کشمیری عوام کو بھی آزادی کا سورج طلوع ہوتے دیکھنا نصیب ہو۔ ان شا ءاللہ!
….٭….

اپنا تبصرہ بھیجیں