ارشد اسدی الحسینی

معاشرتی آداب

سورۂ لقمان 16- 19

يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللہُ إِنَّ اللہَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ ۞ يَا بُنَيَّ أَقِمِ الصَّلَاةَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ وَانْهَ عَنِ الْمُنكَرِ وَاصْبِرْ عَلَى مَا أَصَابَكَ إِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ ۞ وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللہَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ ۞ وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ إِنَّ أَنكَرَ الْأَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِيرِ ۞
▫️ترجمہ▫️
اے بیٹا! اگر کوئی (نیک یا بد) عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو اور کسی پتھر کے نیچے ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں تو اللہ اسے لے ہی آئے گا بے شک اللہ بڑا باریک بین اور بڑا باخبر ہے۔ ۔ اے بیٹا! نماز قائم کر اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کر اور جو مصیبت پیش آئے اس پر صبر کر۔ بے شک یہ (صبر) عزم و ہمت کے کاموں میں سے ہے۔ ۔ اور (تکبر سے) اپنا رخسار لوگوں سے نہ پھیر اور زمین پر ناز و انداز سے نہ چل۔ بے شک خدا تکبر کرنے والے (اور) بہت فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔ ۔ اور اپنی رفتار (چال) میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز دھیمی رکھ۔ بے شک سب آوازوں میں سے زیادہ ناگوار آواز گدھوں کی ہوتی ہے۔ ۔

▫️تفسیر آیات▫️

پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم اور آئمہ اہلبیت علیہم السلام کے ذریعہ اسلامی روایات میں جس قدر تواضع، حسن خلق اور بوقت ملاقات نرمی کا مظاہرہ اور رہن سہن میں سختی نہ برتنے کے مسئلے کو اہمیّت دی گئی ہے، اتنی بہت کم چیزوں کو اہمیّت دی گئی ہے۔ بہترین اور ناطق دلیل اس سلسلے میں خود اسلامی روایات ہیں جن کا ایک نمونہ ہم یہاں پر پیش کرتے ہیں:
ایک شخص پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا : ”یا رسول اللہ اٴوصنی فکان فیما اٴوصاہ ان قال الق اخاک بوجہ منبسط“ ”مجھے نصیحت کیجئے ! تو آپ نے فرمایا : اپنے مسلمان بھائی سے کشادہ روئی کے ساتھ ملاقات کرو۔“ (۱)۔ ایک دوسری حدیث میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے مروی ہے:
”ما یوضع فی میزان امرء یوم القیا مة اٴفضل من حسن الخلق“
”قیامت کے دن کوئی چیز کسی کے ترازوئے عمل میں حسن خلق سے برتر و بالاتر نہیں رکھی جائے گی۔ (۲) ۔
ایک اور حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے مذکور ہے:
”البروحسن الخلق یعمران الدیار ویزیدان فی الا عمار“ ”نیکو کاری اور حسن خلق گھروں کو آباد اور عمروں کو زیادہ کرتے ہیں۔ (۳)۔ نیز رسول خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلّم سے منقول ہے:
”اکثرما تلج بہ امتی الجنة تقوی اللہ وحسن الخلق“ ”جو چیز میری امت کے زیادہ سے زیادہ بہشت میں داخل ہو نے کا سبب بنے گی وہ خدا کا تقویٰ اور حسن خلق ہے“۔ (۴) ۔ تواضع اور فردتنی کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں: ”زینة الشریف التواضع “ ” شرافت مآب انسانوں کی زینت فروتنی اور تواضع ہے“۔(۵) ۔ آخر میں ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام بیان فرماتے ہیں: ”التواضع اصل کل خیر نفیس، ومرتبة رفیعة، ولوکان للتواضع لغة یفھمھا الخطق عن حقائق مافی مخفیات العواقب…. ومن تواضع للہ شرفہ اللہ علی کثیر من عبادہ ….. ولیس لِلّٰہ عزّ وجل عبادة یقبلھا ویرضا ھا الا وبا بھا التواضع. ”فردتنی اور تو اضع ہر خیر و سعادت کی جڑ ہے، تواضع ایک بلند مقام و مرتبہ ہے اور اگر تواضع کی کوئی زبان ہوتی کہ جسے لوگ سمجھتے تو بہت سے اسرار نہانی اور کاموں کی عاقبت کو بیان کرتی ….. جو شخص خدا کے لیے فروتنی کرے خدا اس کو اپنے بہت سے بندوں پر برتری بخشے گا….کوئی ایسی عبادت نہیں جو مقبول بار گاہ خدا اور اس کی رضا کا موجب ہو مگر یہ کہ وہ فروتنی کی راہ ہی سے داخل ہوتی ہے“۔ (۶)
📚۱۔ بحارالانوار، ج۷۴، ص۱۷۱.
📚۲، ۳، ۴۔ اصول کافی، ج۲، باب حُسن الخلق ۸۱ و۸۲.
📚۵۔ بحارالانوار، ۷۵، ص۱۲۰.
📚۶۔ بحارالانوار، ۷۵، ص۱۲۰.
:::::::::::::::::::::::::::
التماس دعا
ارشد اسدی الحسینی

اپنا تبصرہ بھیجیں