ارشد اسدی الحسینی

روزے کے معاشرتی اثرات

👈 سورہ بقرہ آیات 183 تا 185 کی روشنی میں

👈 روزہ جہاں انسان کے لیئے انفرادی طور تزکیہ نفس، روحانی و جسمانی پاکیزگی و بلندی، کردار سازی و سوچ پر مثبت اثرات رکھتا ہے وہیں اجتماعی و معاشرتی اثرات کا بھی حامل ہے ۔
روزے کا اجتماعی اور معاشرتی اثر کسی سے پوشیدہ نہیں۔ روزہ انسانی معاشرے کے لئے ایک درس مساوات ہے۔ کیونکہ اس مذہبی فریضے کی انجام دہی سے صاحب ثروت لوگ بھوکوں اور معاشرے کی محروم افراد کی کیفیت کا احساس کر سکیں گے
اور دوسری طرف شب و روز کی غذا میں بحث کر کے ان کی مدد کے لئے جلدی کریں گے ۔ البتہ ممکن ہے بھوکے اور محروم لوگوں کی توصیف کرکے خداوند عالم صاحبِ قدرت لوگوں کو ان کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہو اور اگر یہ معاملہ حسی اور عینی پہلو اختیار کر لے تو اس کا دوسرا اثر ہو۔
روزہ اس اہم اجتماعی موضوع کو حسی رنگ دیتا ہے۔ ایک مشہور حدیث میں امام صادقؑ سے منقول ہے کہ ہشام بن حکم نے روزے کی علت اور سبب کے بارے میں پوچھا تو آپؑ نے فرمایا:
انما فرض اللہ الصیام یستوی بہ الغنی و الفقیر ذلک ان الغنی لم یکن لیجد مس الجوع فریحم الفقیر و ان الغنی کلما اراد شیئا قدر علیہ فاراد اللہ تعالی ان یسوی بین خلقہ و ان یذیق الغنی مس الجوع و الالم لیرق علی الضعیف و یرحم الجائع۔
روزہ اس لئے واجب ہواہے کہ فقیر اور غنی کے در میان مساوات قائم ہو جائے اور یہ اس وجہ سے ہے کہ غنی بھی بھوک کا مزہ چکھ لے اور فقیر کا حق ادا کرے کیونکہ مالدار عموماً جو کچھ چاہتے ہیں ان کے لئے فراہم ہوتا ہے۔
خدا چاہتا ہے کہ اس کے بندوں کے درمیان مساوات ہو اور مالداروں کو بھی بھوک اور درد و رنج کا ذائقہ چکھائے تاکہ وہ کمزور اور بھوکے افراد پر رحم کریں ۔(۱)
۱۔وسائل الشیعہ، ج۷، باب اول، کتاب سوم، ص۳
( 📚 تفسیر نمونہ)

اپنا تبصرہ بھیجیں