شیریں فرہاد

اے حمید کی کتاب ” لاہور کی یادیں ” سے اقتباس

" لاہور کی یادیں "
‏بھاٹی دروازے کے باہر ہی ایک آنہ تھیڑیکل کمپنی میں ایک بار شیریں فرہاد کا کھیل لگا میں بھی یہ کھیل دیکھنے گیا اس ڈرامے کا آخری منظر مجھے ہمیشہ یاد رہے گا، آخری سین میں ایسا ہوتا ہے کہ فرہاد پہاڑ کاٹ کر اس میں سے نہر نکالنے کی کوشش کر رہا ہے فرہاد نے برجس پہن رکھی تھی اور پرانے بینڈ بجانے والوں کی وردی میں ملبوس تھا وہ یونہی مٹی کی ایک ڈھیری پر کدال چلا رہا تھا اور ساتھ میں گانا بھی گا رہا تھا
اچانک شیریں کی نوکرانی آ کر کہتی ہے
نوکرانی: فرہاد! شیریں شیریں مر گئ
فرہاد: مگر تو تو زندہ ہے
نوکرانی: لخ لانت ہے تیرے فرہاد تے، وے تمہاری معشوقہ شیریں مر گئ ہے
فرہاد: (چیخ مار کر) ہائیں- میری شیریں مر گئ ؟ آہ! اب فرہاد زندہ رہ کر کیا کرے گا ؟ سلام! اے فلک کج رفتار میرا آخری سلام!
اتنا کہہ کر فرہاد کدال اپنے سر پر مارتا ہے اور سٹیج پر گر کر مر جاتا ہے نوکرانی فرہاد کی لاش کو ہاتھ لگا کر کہتی ہے
نوکرانی: بے چارہ مر گیا یہ میں نے کیا کر دیا مگر مجھے تو بادشاہ سلامت نے کہا تھا
نوکرانی گانا گانے لگتی ہے جس کا مفہوم یہ تھا کہ ان دونوں محبت کرنے والوں کی سچی داستان ہمیشہ زندہ رہے گی اس دوران فرہاد سٹیج پر اس جگہ مردہ پڑا رہتا ہے جہاں وہ گرا تھا نوکرانی گانا ختم کر کے تماشائیوں کو سلام کرتی ہے اور آؤٹ ہو جاتی ہے

اتفاق ایسا ہوا کہ جس جگہ فرہاد مر کر گرا تھا اور سٹیج پر جہاں اس کی لاش پڑی تھی وہاں اس کے عین اوپر لکڑی کی وہ گیلی (شہتیر) تھی جس کے ساتھ پردہ لٹکا ہوا تھا اور جسے پردہ گرنے کے ساتھ ہی کھل کر نیچے دھڑام سے گرنا تھا فرہاد کی لاش نے کانی آنکھ سے جب دیکھا کہ مر کر گرنے میں تھوڑا حساب کتاب غلط ہو گیا ہے اس کی لاش لکڑی کی گیلی (شہتیر) کے عین نیچے آ گئ ہے اگر اس حالت میں پردہ گرا تو گیلی (شہتیر) اس کے اوپر آ کر گرے گی اور وہ سچ مچ مر جاۓ گا تو لوگوں نے ایک بڑا دلچسپ منظر دیکھا پردہ گرنے سے چند سیکنڈ پہلے لوگوں نے محسوس کیا کہ فرہاد کی لاش میں جان پڑ گئ ہے اور اس نے آہستہ کھسکنا شروع کیا ہے فرہاد کی لاش کھسک کر جلدی سے پرے ہٹ گئ اور پردے کی گیلی یا شہتیر سٹیج پر دھڑام سے آن گرا

لوگوں نے زور زور سے تالیاں بجاتے ہوۓ مطالبہ کیا کہ انہیں فرہاد کی لاش کے زندہ ہو کر کھسکنے کا سین دوبارہ دکھایا جاۓ کمپنی والے مجبور ہو گۓ چنانچہ پردہ ایک بار پھر اٹھا دیا گیا اور فرہاد کدال سر پر مار کر دوبارہ گرا وہ لاش کی طرح بے حس و حرکت ہو گیا اور پھر پردہ گرنے سے دو سیکنڈ پہلے فرہاد کی لاش سٹیج پر کھسکتی ہوئی پردے کے شہتیر سے دور چلی گئ لوگ دیر تک تالیاں بجاتے رہے یہ سین تو اس کھیل کی جان بن گیا لوگ صرف یہی منظر دیکھنے کے لیے دھڑا دھڑ آنے لگے یہاں تک کہ تھیٹر والوں نے باہر لکھ کر لگا دیا “حضرات! آئیے آئیے اپنے دوستوں کو بھی لائیے اور فرہاد کی لاش کو قدرت خداوندی سے دوبارہ زندہ ہوتے دیکھیں”

(اے حمید کی کتاب ” لاہور کی یادیں ” سے اقتباس)

اپنا تبصرہ بھیجیں