علی جاوید نقوی

سیلف پروموشن ۔۔ زندگی میں کامیابی کانیا فارمولا

دنیا مسلسل بدل رہی ہے،جو باتیں کل تک اچھی سمجھی جاتی تھیں آج کے دورمیں معیوب ہوچکی ہیں۔جو کل تک بُری تھیں آج کامیابی کی کنجی ہیں۔ یہ سیلف پروموشن کادور ہے،ایک افطارپارٹی میں نوجوان دوستوں نے پوچھا کامیابی کافارمولاکیاہے؟ میں نے کہاآج کل سیدھا سا فارمولا ہے،آپ کوکام آتاہویا نہ آتا ہو آپ نےلوگوں کویہ یقین دلاناہے کہ آپ اس کام کے ماہرہیں۔خود کوپروموٹ کریں ،ایک پراڈکٹ کی طرح اپنی ذات یاصلاحیتوں کی مارکیٹنگ بہت ضروری ہے۔خود کوبڑاانسان ثابت کریں۔ دوسروں کوچاہے وہ آپ سے بہترہوں،خود کواُن سے کم ترنہ سمجھیں۔پیراشوٹر بنیں ،دوسروں کوچاہے دھکا دیناپڑے،اُن سے آگے نکلنے کی کوشش کریں ۔ شرافت ایک گالی بن چکی ہے۔اپناایساامیج نہ بنائیں کہ ہرچیز برداشت کرلیں گے۔ہمارا معاشرہ ایک زوال پذیر معاشرہ ہے،ہم ہرشعبے میں انحطاط کاشکار ہیں ۔کامیابی کامعیار بدل گیا ہے۔ہم ایک مہذب معاشرے کی بجائے قبائلی معاشرے کی طرف بڑھ رہے ہیں،دنیاآگےجارہی ہے اورہماراسفر پیچھے کی جانب ہے۔
سوشل میڈیا کوہی دیکھ لیں،معاشرے کا آئینہ ہے۔ وہ لوگ زیادہ معروف ہیں جواپنے شعبے میں دونمبر ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ انھیں مارکیٹنگ کافن آتاہے۔انہوں نے خود کربہت بڑا بناکرپیش کیاہے۔جس طرح غبارے میں ہوا بھردی جاتی ہے۔ان کامیاب لوگوں نے اس فارمولے پرعمل کیاہے کہ اتناجھوٹ بولو کہ لوگ سچ سمجھنے لگیں۔نوجوان دوست میری باتیں حیرت سے سنے جارہے تھے۔انھیں مجھ سے ایسی باتوں کی توقع نہ تھی ۔ ایک نوجوان بولا اس کے علاوہ بھی کوئی فارمولاہے؟ میں نے کہاہاں ہے، بہت مختصرفارمولا آپ جس شعبے میں بھی ہیں کچھ نیاکریں، زندگی میں کامیاب ہوجائیں گے۔اُس نوجوان نےمجھ سے سوال کیاسرآپ کامیاب انسان ہیں یاناکام ؟ میں نے برامنائے بغیراس حقیقت کااعتراف کیاکہ میں زندگی میں جوکچھ حاصل کرناچاہتاتھا وہ حاصل نہیں کرسکا اس لیےآپ مجھے ایک ناکام انسان کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ابھی میں نےشکست نہیں مانی اورجو شکست نہ مانے وہ ناکام نہیں ہوسکتا۔آج آپ سب کے لیے یہ ہی سب سے اہم بات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں