Muhammad Khan Abro

سیاست نہیں ملکی زراعت بچاؤ

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ مگر ٹماٹر ایران سے آتا ہے، دیگر سبزیاں بھی کبھی کبھی بھارت سے آتی ہیں تو کبھی افغانستان جیسا ملک ہمیں فروٹ بیچ رہا ہوتا ہے۔ یہ کیسا زرعی ملک ہے جس میں ہر سال ہمیں گندم بیرون ملک سے مہنگے داموں خریدنی پڑتی ہے ، یہ کیسا زرعی ملک ہے جس کی ایک بڑی آبادی کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے ؟ اس وطن میں اللہ نے ہمیں ہر موسم دیا اور ریگستان سے سرسبز کھیت اور اونچی اونچی پہاڑی چوٹیاں دیں مگر کیا وجہ ہے کہ ہم اپنی عوام کی خوراک کا مسئلہ نہیں حل کر پارہے، بس ایک بار آصف علی زرداری کے دور میں ملک گندم میں خود کفیل ہوا اور گندم ایکسپورٹ کرتے نظر آیا اور پھر آصف علی ذرداری کے خلاف ساذشوں کا دور شروع ہوگیا۔ خیر آج کچھ سیاسی نہیں لکھوں گا پہلے سے ملک میں سیاسی افراتفری عروج پر ہے۔ آج صرف خوراک اور زراعت کی بات کروں گا کیوں کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ 22.67 فیصد ہے اور مجموعی روزگار میں اس کا حصہ 38 فیصد ہے۔ حالانکہ یہ بہت کم ہے جتنے وسائل اس دھرتی کے پاس ہیں یہ بہت کم ہے۔ بدقسمتی سے زرعی زمین ہونے کے باوجود ہمارے ملک میں فصلوں کی فی اکڑ پیداوار بہت کم ہے اور اس کی کئی وجوہات ہیں، جس میں سب سے ہم تو حکومتی دلچسپی کا کا فقدان ہے، جبکی جدید تکنیکی ترقی سے دوری، تحقیق اور ٹیکنالوجی کا کی عدم موجودگی، کم سرمایہ کاری، شرح سود میں اضافہ اور کسانوں اور زمینداروں کے لیے حکومتی سطح پر ٹریننگ کے پروگرام نہ ہونا ہے۔کم پیداوار پاکستان کی زراعت کے ساتھ ساتھ معیشت کو بھی نقصان پہنچا رہی ہے ، لیکن یہ منظر نامے کا صرف ایک پہلو ہے۔ کم پیداوار خوراک کی قلت میں بدل جاتی ہے، جس کا مطلب ہے کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ، اور برآمدی مارکیٹ میں مسابقتی برتری کا فقدان۔ ہم پہلے ہی دیکھ چکے ہیں کہ روزمرہ کی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں زیادہ تر صارفین کی خریداری کی صلاحیت سے تجاوز کر گئی ہیں اور ہماری برآمدات میں بھی کمی آئی ہے۔ زرعی زمینوں کے ساتھ پی پی پی کے بعد بننے والی ہر حکومت نے کھلواڑ کیا ہے۔ زرعی زمینوں پر بڑی بڑی ہاؤسنگ سوسائیٹیز بنا دیں ہیں جہاں لاکھوں لوگوں کے لیے خوراک پیداوار ہوتی تھی وہاں آج انسانوں کو سایہ دینے کے لیے درخت بھی نہیں ہے۔ یہ ظلم بہت پلاننگ کے ساتھ کیا، عمران خان بہت چالاک اور مکار آدمی ہے پہلے آتی ہی اس کی حکومت نے زرعی زمینوں پر نئی سوسائیٹیز پر پابندی لگا دی، اچانک بڑی بڑی صنعتکاروں نے اپنا پیسہ ریئل اسٹیٹ میں لگانا شروع کردیا اور یہ سرمایہ دار عمران خان کے اے ٹی ایمز تھے پھر اچانک پابندی اٹھا دی گئی اور عمران خان بے ٹیکس ایمنسٹی کا اعلان کردیا جس میں کہا گیا کہ آپ سے نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے زمین کہاں سے کس ذرائع سے لی، بڑی تعداد میں عمران خان کے اے ٹی ایمز بے ایمنسٹی سے فائدہ اٹھایا اور کوڑیوں کا بھاو میں خریدی گئی زمینیں ہر لحاظ سے قانونی ہوگئیں جن پر پھر عمران خان کے دور میں ہاوزنگ سوسائیٹیز بننا شروع ہوگئیں۔ خیر یہ تو ایک طریقہ ہے زرعی زمین ہڑپ کرنے کا، عمران خان دور میں زرعی زمینوں کا تباہ کرنے کا ایک سے ایک منصوبہ سامنے آیا۔ لیکن زراعت تباہ کرنے میں صرف عمران خان کا ہاتھ نہیں زراعت، لائیو سٹاک، ماہی گیری اور جنگلات کے قومی پیداواری اہداف مقرر کرکے زراعت اور اس سے منسلک دیگر شعبوں میں جان ڈالنے کے لیے کوئی بڑی پالیسی ہمارے فیصلہ سازوں نے آج تک بنائی ہی نہیں ہے۔ میری حکومت اور خصوصی طور پر صدر آصف علی ذرداری سے التجا ہے کہ موجودہ حکومت سے کہا جائے کہ زراعت کے شعبے کے لیے کم از کم 10 سالہ پالیسی کا اعلان کیا جائے جس میں بیرون ملک سے ماہرین کو بھی شامل کیا جائے اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر پر بات جیت کی جائے۔ اس مقصد کے لئے ٹیکنوکریٹس کی ایک کمیٹی تشکیل دی جانی چاہئے۔ اس میں تکنیکی ماہرین کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم بھی شامل ہونے چاہئیں جو زراعت کے شعبے میں بیرون ملک سے پڑھ کر آئے ہیں،پہلے مرحلے میں دو اہم زرعی فصلیں، گندم اور کپاس، دو مویشیوں کی مصنوعات، دودھ اور گائے کا گوشت، اور ماہی گیری پر توجہ مرکوز کی جانی چاہیے۔ جنگلات میں لکڑی کاٹنے اور جنگلات کو ختم کرنے والوں کو پاکستان کا مجرم سمجھا جائے، جنگلات کا رقبہ مزید بڑھایا جائے اور نہ جنگلات کا کنٹرول فوج کے حوالے کردیا جائے اور جنگلات ختم کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت سزائیں پاکستان پینل کوڈ میں شامل کی جائیں۔ پاکستان کی مٹی زرخیز ہے مگر اس مٹی کو تباہ کیا جارہا ہے، کھیتوں میں جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے مٹی کی زرخیزی میں اضافہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اعلیٰ معیار کے بیجوں کی بروقت فراہمی کے ساتھ ساتھ رعایتی نرخوں پر زمین کی ترقی کے لئے زرعی مشینری کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔ آبپاشی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور ڈرپنگ کے زریعے کھیتوں تک پانی پہنچانے کے لیے کسانوں کی مدد کی جائے کیوں کہ جتنا پانی بچے گا اتنا ہی ہمارا مستقبل تباہ ہونے سے بچے گا، پانی کے علاوہ کھاد، حشرہ کش دواؤں، جڑی بوٹیوں اور حشرہ کش دواؤں کے معیار کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ ملاوٹ پر قابو پانے کے لئے ایک فنکشنل ٹیسٹنگ لیبارٹری کی بھی ضرورت ہے، جہاں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایسی دوائیں جن سے زمین تباہ ہورہی ہے اور فضل بھی ایسی زرعی دوا ساز کمپنیوں پر پابندی لگائی جائے۔ پاکستان کو بچانا ہے تو زراعت کو بچانا ہوگا، اگر زراعت مزید تباہی کی طرف گئ تو بحیثیت قوم ہمیں تباہی سے بچانا مشکل ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں