Saghar_Siddiqui_Urdu_Poet

مرے چمن میں بہاروں کے پھول مہکیں گے

مرے چمن میں بہاروں کے پھول مہکیں گے
مجھے یقیں ہے شراروں کے پھول مہکیں گے

کبھی تو دیدہ نرگس میں روشنی ہو گی
کبھی تو اجڑے دیاروں کے پھول مہکیں گے

تمھاری زلف پریشاں کی آبرو کے لئے
کئی ادا سے چناروں کے پھول مہکیں گے

چمک ہی جائے گی شبنم لہو کی بوندوں سے
روش روش پہ ستاروں کے پھول مہکیں گے

ہزاروں موجِ تمنّا صدف اُچھالے گی
تلاطموں سے کناروں کے پھول مہکیں گے

یہ کہہ رہی ہیں فضائیں بہار کی ساغر
جگر فروز اشاروں کے پھول مہکیں گے

ساغر صدیقی

از:-کلیاتِ ساغر ص ۱۳۷

اپنا تبصرہ بھیجیں