Safi Sarhadi

خاموشی کا فاصلہ

کیا یہ محض اتفاق ہے کہ واپسی کے سفر میں
بائیں مقابل سیٹ پر وہی عورت بیٹھی ہے
جو مجھے خشک سڑک پر چھوڑ کر گیلی سڑک پر چل پڑی تھی
حد نگاہ تک خالی سڑک بھلا کتنی دیر لُبھا سکتی ہے
اور میں جس موڑ پر اترا تھا اس موڑ کا سایہ نہیں تھا
لیکن اب تو سیدھی سڑک ہے اس پر کوئی موڑ بھی نہیں ہے
بس آگے ایک پُل ہے جو کہ نئی اور پُرانی سڑک کو ملاتی ہے
مجھے اسکے بدن کی خوشبو پھر کیوں محسوس ہورہی ہے
ہم دونوں نے ابتک کوئی بات کیوں نہیں کی ہے
جتنے مسافر تھے وہ ٹوٹی سڑک سے جڑے قدیم مزار پر اُتر چکے
ڈرائیور خدا کی طرح ہم سے مکمل انجان بیٹھا ہے
ہمیں اب بات کرنی چاہیے ورنہ خاموشی کے فاصلے کو
لائٹ ایئر میں تبدیل ہونے میں دیر نہیں لگے گی
اسے شرمندگی سے بچانے کے لئے مجھے کیا بات کرنی چاہیے
اسکے لہراتے بال مجھے چُھو کیوں نہیں رہے
کیا مجھے ابھی اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا چاہیے
یا پھر آخری اسٹاپ پر اتر کر اسکا ہاتھ تھامنا چاہیے
کیا یہ عورت ہر غلطی سے بالاتر نہیں ہوسکتی؟
سورج بادلوں کے گھیرے سے نکلنے والا ہے
کچھ دیر میں ہر شے کا سایہ واضح ہوجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں