ناز اٹھاؤں کس کے

‏ناصر کاظمی کے جواب میں لکھی گئی صابر ظفر کی غزل

ناصر کاظمی کی مشہور غزل ”نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لئے”

کے جواب میں لکھی گئی صابر ظفر کی غزل

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے
وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے

جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی
ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے

وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا
اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے

اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں
ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے

مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا

ان خالی کمروں میں ناصرؔ اب شمع جلاؤں کس کے لیے

ناصر کاظمی

…………………………..

نئے کپڑے بدل اور بال بنا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں
کوئی چھوڑ گیا یہ شہر تو کیا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

کئی پلکیں ہیں اور پیڑ کئی محفوظ ہے ٹھنڈک جن کی ابھی
کہیں دور نہ جا مت خاک اڑا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

کہتی ہے یہ شام کی نرم ہوا پھر مہکے گی اس گھر کی فضا
نیا کمرہ سجا نئی شمع جلا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

کئی پھولوں جیسے لوگ بھی ہیں انہی ایسے ویسے لوگوں میں
تو غیروں کے مت ناز اٹھا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

بے چین ہے کیوں اے ناصرؔ تو بے حال ہے کس کی خاطر تو
پلکیں تو اٹھا چہرہ تو دکھا ترے چاہنے والے اور بھی ہیں

صابر ظفر

اپنا تبصرہ بھیجیں