ارشد اسدی الحسینی

اعتکاف

البقرۃ ۔ آیت 187ََََِِِِ
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ  الصِّيَامِ  الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ عَلِمَ اللہُ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَخْتَانُونَ أَنفُسَكُمْ
فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنكُمْ فَالْآنَ بَاشِرُوهُنَّ وَابْتَغُوا مَا كَتَبَ اللہُ لَكُمْ وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ
مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَلَا تُبَا شِرُ وهُنَّ  وَأَنتُمْ  عَاكِفُونَ فِي
الْمَسَاجِدِ تِلْكَ حُدُودُ اللہِ فَلَا تَقْرَبُوهَا  كَذَلِكَ  يُبَيِّنُ اللہُ آيَاتِهِ  لِلنَّاسِ  لَعَلَّهُمْ  يَتَّقُونَ ۞
(اے مسلمانو) روزوں کی رات تمہارے لئے اپنی عورتوں سے مباشرت کرنا حلال کر دیا گیا ہے۔
وہ (عورتیں) تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو خدا جانتا ہے
کہ تم اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرتے رہے ہو تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف کر دیا۔
پس اب تم ان سے (روزوں کی راتوں میں) مباشرت کرو۔
اور جو کچھ (اولاد) خدا نے تمہارے مقدر میں لکھ دی ہے اسے طلب کرو۔
اور (رات کو) کھاؤ پیؤ۔ یہاں تک کہ صبح کا سفید ڈورا (رات کی) سیاہ ڈوری سے الگ
ہو کر ظاہر ہو جائے پھر رات تک روزہ کو پورا کرو۔ اور جب تم مسجدوں میں
اعتکاف (قیام) کئے ہوئے ہو تو (رات کو بھی) بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔
یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ان کے قریب نہ جاؤ
اس طرح خدا اپنی آیتوں (احکام) کو لوگوں کے لئے بیان کرتا ہے تاکہ وہ پرہیز گار بن جائیں۔ ۔

مختصر تفسیر

اعتکاف کا اصل معنی ہے محبوس ہو نا اور کسی چیز کے پاس لمبی مدت تک رہنا
شریعت کی اصطلاح میں مساجد میں عبادت کے لئے ٹھہرنے کو اعتکاف کہتے میں
جس کی کم از کم مدت تین دن ہے اور اس کی شرط روزہ دار ہونا اور بعض لذائذ کو ترک کرنا ہے ۔
یہ عبادت روح کی پاکیزگی اور پرورد

گار کی طرف خصوصی توجہ کے لئے گہرا اثر رکھتی ہے۔
اس کے آداب و شرائط فقہی کتب میں مذکور ہیں ۔ یہ عبادت ذاتی طور پر تو مستحب ہے
لیکن چند ایک استثنا ئی مواقع پر و جوب کی شرط اختیار کر لیتی ہے
بہر حال زیر بحث آیت میں اس کی صرف ایک شرط کی طرف اشارہ ہوا ہے
یعنی عورتوں سے مجامعت نہ کر نا۔ (دن اور رات دونوں میں منع)
اور وہ بھی اس لئے کہ اعتکاف کا تعلق بھی روزے کے مسائل سے ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں