❣مَنْ کُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ❣

غدیری دُھن !ترے مِضراب کا جواب نہیں
کہ حاجیوں بھرے سیلاب کاجواب نہیں

بنا ھمارا بھی مولاؑ خدا خدا کر کے
رحیمِ عرش کے میزاب کا جواب نہیں

گلے ملا ھے مجھے رات کو غدیر کا دن
اگر ھے خواب تو اس خواب کا جواب نہیں

فضامیں قوس دو ہاتھوں کی رنگ بھرنے لگی
ولایتوں بھری محراب کا جواب نہیں

ھے پاک وارثِؑ دستار و تخت و تاج و نگیں
رسولؐ کے درِ نایاب کا جواب نہیں

جھکے ہیں اعلم و لاعلم ‘دیدہ ‘نادیدہ
اے شہرِ علمؐ ترے باب کا جواب نہیں

خدا کا چہرہ ہے نفسِ نبیؐ ہے بسم اللہ
ابو ترابؑ کے القاب کا جواب نہیں

غدیر ظاہری منظر ہے نورِ واحد کا
عروسِ عرش کے مہتاب کا جواب نہیں

قِران دیکھئے توحید کے ستاروں کا
تجلیوں بھرے انساب کا جواب نہیں

کمال دین علیؑ ھے جمال دین علیؑ
ادب کے باب میں آداب کا جواب نہیں

بلالؑ و قنبرؑ و مقدادؑ بوذرؑو سلماںؑ
مرے امامؑ کے اصحاب کا جواب نہیں

خجل خجل سے ھیں چہرے بَخٍ بَخٍ کہتے
منافقوں کے بھی اعصاب کاجواب نہیں

بلند ھاتھ ہوئے ہیں کھڑی زبر کی طرح
اے لا الٰہ! ترے اعراب کا جواب نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں