Imtiaz Rafi Butt

سعودیہ ایران تعلقات کی بحالی

خلیجی ممالک کے باہمی تنازعات میں علاقائی رابطے کاتصورہی ناممکن تھا، جسے چین نے ممکن بنایاہے۔ ایرانی اور سعودی سفارت کاروں کے درمیان سفارتی تعلقات اور تعاون کے معاہدوںکی بحالی ایک ایسی کامیابی ہے جس نے پورے خطے کو متحرک کر دیا ہے۔ جنگ پر آمادہ دو ملکوں کومذاکرات کی میز پر لایا گیا ہے اور ایسا چین ہی کر سکتا تھا۔ اقوام متحدہ سمیت پوری دنیاچین کو شکر گزاری کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ چین کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی سیاست راتوں رات بدل گئی ہے۔ اس نے ترقی اور تعاون کی نئی راہیں کھولی ہیں۔ تجارت، تجارتی سرگرمیوں اور روابط کے بہت سے مقفل در وا ہو گئے ہیں۔ یہ اس سال کا سب سے بڑا اقدام ہے۔
چھ سال سے سعودی عرب اور ایرانی حکومت کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع تھے۔ دو طاقتور ممالک کے درمیان کشیدگی خلیجی ممالک کو شدید متاثر کر رہی تھی،مسلم دنیا اور O.I.C پربھی انتہائی برا اثر پڑ رہا تھا۔ یمن، لبنان اور دیگر کئی ممالک میں پراکسی جنگیں جا ری ہیں جن کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ مغرب نے ان شعلوں کوہوا دی، ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘ ‘کی حکمت عملی سے مغرب خاص طور پر امریکہ نے تیل کی سپلائی پر مضبوطی سے گرفت برقرار رکھی ۔ سعودی عرب ،مغربی ہتھیاروں اور گولہ بارود کا سب سے بڑا خریدار ہے اور انہیں سستے نرخوں پر تیل فروخت کرتا ہے۔ یہ سب کچھ ایران کے ساتھ تنازع کی آڑ میں کیا جا رہا تھا۔ آخر کار چین کی قیادت نے پیش رفت دکھائی۔ بیجنگ کے سپر پاور ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں رہا۔ مشرق وسطیٰ اور بڑے ایشیائی ممالک میں امن اور ہم آہنگی کا شدید فقدان ہے۔ جو کام متعدد مسلم ممالک کی کوششوں سے نہیں کیا جا سکا وہ چین نے کر دکھایا ہے۔ اب سعودی عرب اور ایران پاکستان کی طرح چینی منصوبوں اور قیادت میں کام کریں گے۔آپس کی دشمنی کی بجائے مشرق وسطیٰ ترقی کی منازل طے کرے گا اور پاکستان اس سے بہت فائدہ اٹھائے گا۔ سعودی عرب اور ایران پہلے ہی CPEC اور OBOR منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کر چکے ہیں ، اب باضابطہ طور پر CPEC اور OBOR میں سرمایہ کاری کریں گے۔ اقوام متحدہ نے ایک بیان جاری کر کے اس شاندار کامیابی کے حصول پر چین کی قیادت کا شکریہ ادا کیاہے جب کہ اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا گیا،جو ایسی پیش رفت سے دنگ ہیںجس کی وہ توقع نہیں کر رہے تھے۔
چین کی تاریخ میں یہ ایک بے مثال واقعہ ہے۔ چین اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان اس کی ایک عظیم مثال ہے۔ چین نے ہر مشکل مرحلے پر پاکستان کی مدد کی ہے۔ حال ہی میں پاکستان کو لیکویڈیٹی بحران سے نکلنے کے لئے لاکھوں ڈالر بھیجے گئے ہیں ،یہ دنیا کیلئے ایک اشارہ ہے کہ چین اپنے اتحادیوں کومشکل میں اکیلا نہیں چھوڑتا، چین اپنے عزم پر قائم ہے ، وہ اپنے مستقبل کے وژن، علاقائی روابط اور تجارتی تعلقات کے فروغ کو عملی طور پر نافذ کرنا چاہتا ہے۔ یہ پیشرفت پاکستان کو ایک بار پھر روشن امکانات سے روشناس کراتی ہے جن امکانات کو حقیقت میں بدلنے کیلئےپاکستان اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر نے پچھلے دنوں گوادر کا دورہ کیا ، گوادر اور مجموعی طور پر بلوچستان کے ترقیاتی امکانات کی یقین دہانی اور امید دلائی۔ یہ دورہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک اسٹرٹیجک دورہ تھا جو دنیا اور چین کے لئے اشارہ ہے کہ پاکستان CPEC کے وژن اور چین کے ساتھ ایشیا کے علاقائی روابط کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پرعزم ہے۔ یہ سب اس لئے بھی اہم ہے کہ گوادر ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کی تکمیل میں ایک اہم ترین مرکزہے۔ یہ مشرق وسطیٰ میں چین کی توانائی کی درآمدات اور برآمدات کا مرکزی نقطہ ہے۔ پاکستان میں ناقابل تصور صلاحیتیں موجود ہیں۔ اب چونکہ ایران اور چین ایک صفحےپرہیں،پاکستان کیلئے اتحادیوں سے معاہدے کرنے میںبہت آسانیاں ہوں گی ۔ گزشتہ ہفتے ایران کے ساتھ 100 میگاواٹ توانائی کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ اس سے پاکستان کیلئےدرآمد کنندگان کے ایندھن پر انحصار کا بوجھ کم ہو جائے گا۔
دوسری جانب روسی آئل ٹینکرز گوادر آنے کیلئےراستے میں ہیں۔ اس سے امریکی ڈالر میں ایندھن کی درآمد پر پاکستان کا انحصار کم ہو جائے گا، جو موجودہ حکومت کیلئے سب سے بڑا بحران ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جو تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ جغرافیائی سیاست مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے ۔جغرافیائی سیاست علاقائی روابط کے ذریعے مضبوط معاشی آزادی اور غلبہ کی بنیاد ہے۔ امریکہ خود کو عالمی لیڈر ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے اس کے اتحادیوں میں اس کا اثر و رسوخ تیزی سے کم ہو رہا ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی کو جنگوں، تشدد اور تباہی سے تعبیر کیا جاتا ہے، ایسے میں چین ترقی اور تسلط کا متبادل ورژن پیش کر رہا ہے، یعنی باہمی فائدے، ترقی اور امن کے ذریعے غلبہ اور اثر و رسوخ۔ کوئی بھی اس بات کی نشاندہی نہیں کر سکتا کہ مستقبل کیا ہوگا، جب مشرق ِوسطیٰ کی بات آتی ہے تو ایران اور سعودی عرب اہم ترین اورسب سے زیادہ نازک ممالک ہیں، ان کے درمیان قیام امن یہ امید ضرور دیتا ہےکہ مستقبل آسانیاں لائے گا ۔
(مضمون نگار جناح رفیع فاؤنڈیشن کے چیئرمین ہیں)

اپنا تبصرہ بھیجیں