ارشد اسدی الحسینی

دین کس روز اپنے کمال کو پہنچا

سورۃ المائدہ – 3
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللہِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أَكَلَ السَّبُعُ إِلَّا مَا ذَكَّيْتُمْ وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ وَأَن تَسْتَقْسِمُوا بِالْأَزْلَامِ ذَلِكُمْ فِسْقٌ الْيَوْمَ يَئِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِن دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِّإِثْمٍ فَإِنَّ اللہَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ۞
▫️ترجمہ ▫️
تم پر حرام کیا گیا ہے۔ مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور وہ جانور جس پر ذبح کے وقت غیر خدا کا نام لیا جائے۔ اور گلا گھوٹا ہوا، یا جو چوٹ لگنے سے یا بلندی سے گر کر، یا سینگ لگنے سے مر جائے یا جسے کسی درندہ نے کھایا ہو۔ سوائے اس کے جسے تم نے ذبح کر لیا ہو۔ اور وہ (بھی حرام ہے) جو قربان کیا جائے بتوں پر (یا کسی آستانے پر) نیز (وہ بھی حرام ہے) جو قرعہ کے تیروں سے تقسیم کیا جائے۔ یہ سب کام فسق (گناہ) ہیں۔ آج میں نے تمہارے لئے دین کو مکمل کر دیا ہے۔ اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی ہے اور تمہارے لئے دین کی حیثیت سے اسلام کو پسند کر لیا ہے ہاں جو بھوک کی شدت سے مجبور ہو جائے (اور حرام چیزوں سے کوئی کھا لے) جبکہ گناہ کی طرف راغب نہ ہو تو اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔ ۔
🍁تفسیر 🍁

یہاں ایک اہم بحث سامنے آتی ہے۔ وہ یہ کہ ”الیوم“ (یعنی آج کا دن) ،جس کا مندرجہ بالا آیت کے دو جملوں میں ذکر ہے، کونسا دن ہے؟ یعنی وہ کون سا دن ہے جس میں یہ چار پہلو جمع ہو گئے۔
۱۔ کفار اس روز مایوس ہوگئے
۲۔ دین اس دن مکمل ہوگیا ۔
۳۔ نعمت الٰہی تمام ہوگئی اور
۴۔ خداوند عالم نے دین اسلام کو پورے عالم کے لوگوں کے لیے آخری دین کے طور پر قبول کرلیا ۔
مفسرین میں اس سلسلے میں بہت اختلاف ہے لیکن جس بات میں کوئی اختلاف نہیں وہ یہ ہے کہ ایسا دن پیغمبر اسلام- کی زندگی میں بہت اہم ہونا چاہیے اور یہ کہ یہ کوئی عام سا اور معمولی دن نہیں ہو سکتا کیونکہ اتنی اہمیت کسی عام دن کو حاصل نہیں ہو سکتی ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی ایک روایات میں آیا ہے کہ بعض یہودیوں اور عیسائیوں نے یہ آیت سن کر کہا کہ ایسی آیت اگر ہماری آسمانی کتب میں ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔1
ہمیں چاہیے کہ ہم قرائن، نشانیوں، آیت اور سورة کے نزول کی تاریخ ، پیغمبر اسلام کی زندگی کی تاریخ اور مخالف اسلامی منابع کی روایات سے اس اہم دن کو تلاش کریں۔ کیا اس سے مراد وہ دن کو تلاش کریں۔ کیا اس سے مراد وہ دن ہے جس دن حلال و حرام گوشت کے بارے میں مندرجہ بالا احکام نازل ہوئے تھے۔ قطعاً ایسا نہیں ہے۔ ان احکام کا نزول اتنی اہمیت کا حامل نہیں ہے اور نہ ہی یہ تکمیل دین کا باعث ہے۔ یہ پیغمبر اسلام پر نازل ہونے والے آخری احکام بھی نہ تھے کیونکہ اس صورت کے آخر میں کچھ اور احکام بھی دکھائی دیتے ہیں اور پھر ان احکام کا نزول کفار کی نا امیدی کا سبب بھی نہیں ہو سکتا ۔ وہ بات جو کفّار کی مایوسی کا سبب بن سکتی ہے، وہ اسلام کے مستقبل کے لیے کوئی محکم بنیاد اور سہارا ہونا چاہیے۔ دوسرے لفظوں میں ایسے احکام کا نزول کفّار کے جذبات پر اثر انداز نہیں ہو سکتا کہ ایک طرح کا گوشت حرام ہو اور دوسری طرح کا حلال۔اس سے ان میں کوئی خاص حسّاسیّت پیدا نہیں ہو سکتی ۔ کیا اس سے مراد پیغمبر اکرم کے حجة الوداع کے عرفہ کا دن ہے(جیسا کہ مفسّرین کے ایک گروہ نے احتمال بھی ظاہر کیا ہے)؟
اس سؤال کا جواب بھے نفی میں ہے کیونکہ مذکورہ بالا نشانیاں اس دن پر بھی منطبق نہیں ہو سکتیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس دن کوئی واقعہ نمودار نہیں ہوا کہ جو کفار کی مایوسی کا باعث ہو سکے۔ اگر اس سے مراد مسلمانوں کا عظیم اجتماع ہے تو وہ روز عرفہ سے پہلے بھی مکّہ میں خدمت پیغمبر میں تھا اور اگر اس دن مذکورہ بالا احکام کا نزول مراد ہے تو بھی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، کفّار کے لیے کوئی گھبرانے والی بات نہ تھی ۔ تو کیا اس سے فتح مکہ کا دن مراد ہے ( جیسا کہ بعض کا خیال ہے)، جب کہ اس سورہ کے نزول کا زمانہ فتح مکّہ سے بہت ہی بعد کا ہے۔ یا کیا سورة بر اٴت کی آیات کے نزول کا دن ہے؟ تو وہ بھی اس سُورہ کے نزول سے کافی مُدّت پہلے تھا ۔
سب سے زیادہ عجیب احتمال یہ ہے جو بعض نے ظاہر کیا ہے کہ اس دن سے مراد ظہور اسلام یا بعثتِ پیغمبر کا دن ہے ، جبکہ ان دونوں کا اس آیہ کے نزول کے دن سے کوئی ربط نہیں ہے اور ان کے درمیان ایک طویل مُدّت حائل ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا چھ احتمالات میں کوئی بھی ایسا نہیں ہے جو آیت سے آہنگ اور مفہوم سے مناسبت رکھتا ہو۔
(اس آیت کے سلسلے میں ایک اور احتمال بھی ہے جو تمام شیعہ مفسرّین نے اپنی کتب میں پیش کیا ہے ، متعدد روایات بھی اس کی تاٴئید کرتی ہیں۔ نیز آیت کے مضامین اور آہنگ بھی اس سے مناسبت رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اس سے مراد غدیر خم کا دن ہے، جس روز پیغمبر اسلام نے امیر المؤمنین حضرت علی کو با قاعدہ اپنی جانشینی کے لیے مقرر کیاتھا ۔ یہی وہ روز تھا جب کفار مایوسیوں کے سمندر میں ڈوب گئے۔ کیونکہ انھیں توقع تھی کہ دین اسلام کا قیام بس ایک شخص سے مربوط ہے اور پیغمبر اسلام کے بعد صورتِ حال پھر پُرانی ڈگر پر لوٹ آئے گی لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ایک ایسا شخص، پیغمبر کی جانشینی کے لیے منتخب ہوا ہے جو علم تقویٰ اور قدرت و عدالت کے لحاظ سے پیغمبر اسلام کے بعد بے نظیر ہے اور آنحضرت نے لوگوں سے اس کی بیعت لے لی ہے تو وہ اسلام کے بارے میں یاس و نا امیدی کا شکار ہو گئے وہ سمجھ گئے کہ اس دین کی جڑیں مضبوط اور پائیدار ہیں۔ یہ وہ دن تھا جب دین اپنی تکمیل کو پہنچ گیا ۔ کیونکہ جانشینِ پیغمبر کے تعیّن اور مسلمانوں کا مستقبل واضح ہوئے بغیر یہ آخری تکمیل کو نہیں پہنچ سکتاتھا ۔ یہ وہ دن تھا جب نعمتِ الٰہی علی (علیه السلام) جیسے لائق رہبر کے تعیّن کے ذریعے لوگوں کے مستقبل کے لیے تمام ہو گئی ۔ اسی دن اسلام اپنے پروگرام کی تکمیل کے ذریعے آخری دین کے طور پر خدا کی طرف سے پسندیدہ قرار پایا ۔
لہٰذا اس میں چاروں مذکورہ پہلو موجود تھے۔ علاوہ ازیں ذیل کے قرائن بھی اس تفسیر کی تائید کرتے ہیں۔
۱۔ تفسیر فخر الدین رازی، تفسیر روح المعانی اور تفسیر المنار میں اس آیت کے ذیل میں منقول ہے، کہ اس آیت کے نزول کے بعد پیغمبر اکرم اکیاسی دن سے زیادہ زندہ نہیں رہے۔ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روایات اہلسنّت کے مطابق اور حتی کہ بعض شیعہ روایات کی بناء پر جیسا کہ کلینی نے اپنی مشہور کتاب کافی میں نقل کیاہے) رسول اکرم کی وفات بارہ ربیع الاوّل کو ہوئی تھی ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ زیر نظر آیت کے نزول کا دن ٹھیک اٹھارہ ذی الحجہ ہے۔2
ب۔ بہت سی روایات جو مشہور شیعہ سنی طرق سے منقول ہیں صریحاً یہ مطلب بر آمد ہوتا ہے کہ زیر بحث آیہ شریفہ غدیر خم کے روز اور ولایت علی (علیه السلام) کے اعلان کے بعد نازل ہوئی ان میں سے چند ایک یہ ہیں ۔
۱۔ مشہور سنی عالم ابن جریر طبری کتاب ولایت میں معروف صحابی زید بن ارقم کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت غدیر خم کے دن حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ۔
۲۔ حافظ ابو نعیم اصفہانی اپنی کتاب ” مانزل من القرآن فی علی (علیه السلام) “ میں مشہور صحابی ابو سعید خدری سے نقل کرتے ہیں :۔ پیغمبر خدا نے غدیر خم کے دن لوگوں سے حضرت علی (علیه السلام) کا تعارف ان کی ولایت کے حوالے سے کروایا اور لوگ ابھی منتشر نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی : الیوم اکملت لکم دینکم ۔اس موقع پر رسول اللہ فرمایا:
اللہ اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة و رضی الرب برسالتی وبالولایة لعلی ( ع ) من بعدی، ثم قال من کنت مولاہ فعلی مولاہ، اللھم وال من والاہ و عاد من عاداہ و انصر من نصرہ و اخذل من خذلہ۔ یعنی اللہ اکبر دین کی تکمیل اور نعمت تمام ہونے پر اور پروردگار کے میری رسالت کے بعد آپ نے فرمایا: جس شخص کا میں مولا ہوں ، اس کا علی(علیه السلام) مولا ہے ، خدا یا : اسے دوست رکھ ، جو علی کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی (علیه السلام) سے دشمنی کرے۔ جو اس کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ دے تو بھی اسے چھوڑ دے ۔
۳۔ خطیب بغدادی اپنی تاریخ میں ابو ہریرہ ۻ سے نقل کرتے ہیں وہ پیغمبر اکرم سے نقل کرتے ہیں : واقعہ غدیر خم ، ولایت ِ علی (علیه السلام) کے عہد و پیمان اور عمر( رض) کے ” بخٍ بخٍ یا بن ابی طالب اصبحت مولای و مولا کل مسلم “ 3
کہنے کے بعد آیة اکملت لکم دینکم نازل ہوئی 4
کتاب نفیس الغدیر میں مذکورہ تین روایات کے علاوہ اس سلسلے میں مزید تیرہ روایات نقل کی گئی ہیں۔ کتاب احقاق الحق میں تفسیر ابن کثیر جلد ۲ صفحہ ۱۴ اور مقتل خوارزمی صفحہ ۴۷ کے حوالے سے پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ یہ آیت واقعہ غدیر کے بارے میں نازل ہوئی ۔
تفسیر بُرہان اور تفسیر نور الثقلین میں بھی مختلف طرق سے اس سلسلے میں دس روایات نقل ہوئی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں یا غدیر خم کے دن کے بارے میں نازل ہوئی ۔
ان سب روایات کو نقل کرنے کے لیے ایک علیحدہ کتاب کی ضرورت ہے۔5
علامہ سیّد شرف الدین مرحوم کتاب المراجعات میں لکھتے ہیں:امام صادق(علیه السلام) اور امام باقر سے منقول صحیح روایات میں مذکور ہے کہ یہ آیت غدیر کے دن نازل ہوئی اہل سنت نے بھی رسول اللہ سے اس سلسلے میں مختلف اسناد سے چھ روایات نقل کی ہیں جو اس بات کی صراحت کرتی ہیں کہ یہ آیت اس واقعہ کے ضمن میں نازل ہوئی ۔ 6
جو کچھ ہم نے مندرجہ بالاسطور میں کہا ہے اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ زیر منظر آیت کے واقعہ غدیر کے سلسلے میں نازل ہونے کے بارے میں موجود روایات ایسی نہیں ہیں کہ انھیں خبر واحد کہا جا سکے اور ان کی بعض اسناد کو ضعیف قرار دے کر ان سے آنکھیں بند کر لی جائیں۔ اگر یہ روایات متواتر نہ ہوں تو کم از کم مستفیض ہیں اور مشہور اسلامی منابع اور کتب میں منقول ہیں۔ اگرچہ بعض متعصب سنی حضرات چونکہ ان روایات کو اپنے ذوق کے خلاف پاتے ہیں لہٰذا انھیں مجہول اور غلط قرار دیتے ہیں۔ مثلاً آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں صرف ایک سند کو ضعیف قرار دے کر کوشش کی ہے کہ باقی روایات کو بھی نظر انداز کر دے یا مثلاً تفسیر المنار کے مؤلف آیت کی ایک عام تفسیر کر کے آگے بڑھ گئے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے ان روایات کی طرف ذرا سا اشارہ بھی نہیں کیا شاید وہ اس مخمصے میں تھے کہ اگر روایات کا ذکر کر کے انھیں ضعیف قرار دیں تو خلاف انصاف ہو گا اور اگر قبول کر لیں تو خلافِ ذوق ہو گا ۔
ایک جالبِ نظر نکتہ جس کی طرف یہاں توجہ کرنا چاہیے یہ ہے کہ قرآن حکیم سُورةِ نور آیہ ۵۵ میں کہتا ہے۔
وَعَدَ اللہ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاٴَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دینَہُمُ الَّذِی ارْتَضی لَہُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اٴَمْناً ۔ تم میں سے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں اور انھوں نے اعمال صالح انجام دیئے ہیں خدا نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ انھیں روئے زمین پر خلیفہ بنا دے گا ۔جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو اس نے خلیفہ بنایا ہے (نیز یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ) جس دین کو ان کے لیے پسند کیا ہے اسے محکم و مستقر کرے گا اور خوف کے بعد انھیں امن دے گا ۔اس آیت میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو دین ان کے لیے ”پسندّ کیا ہے اسے روئے زمین پر مستقر اور محکم کرے گا ۔ یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے کہ سُورہ نور، سورہ ٴ مائدہ سے پہلے نازل ہوئی ہے اور ”رضیت“ ”لکم الاسلام دیناً“ کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ جو زیر بحث آیت میں ولایتِ علی کے بارے میں نازل ہوا ہے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اسلام اس صُورت میں روئے زمین پر مستحکم ہو سکتا ہے جب ”ولایت“ کے ساتھ منسلک اور توام ہو۔ کیونکہ یہ وہی اسلام ہے جسے خدا نے ”پسند “ کیا ہے اور اس کے استقرار و استحکام کا وعدہ کیا ہے۔ واضح تر الفاظ میں اسلام اسی صورت میں عالمگیر ہو سکتا ہے جب وہ ولایت اہل بیت(علیه السلام) کے مسئلے سے جدا نہ ہو۔ سورہٴ نور کی مذکورہ آیت اور زیر بحث آیت کو منضم کرنے سے جو دوسرا مطلب سامنے آتا ہے یہ ہے کہ سُورہٴِ نور کی آیت میں با ایمان افراد سے تین وعدے کیے گئے ہیں۔
پہلا ۔ روئے زمین پر خلافت
دوسرا ۔ عبادت پروردگار کے لیے امن و امان اور
تیسرا ۔ اس دین کا استحکام کہ جو خدا کا پسندیدہ ہے۔ یہ تین وعدے غدیر خم کے روز آیہ… الیوم اکملت لکم دینکم…کے نزول کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچے، کیونکہ ایمان و عمل صالح کا کامل نمونہ یعنی… علی(علیه السلام)، رسول اللہ کی جانشینی کے لیے منصوب اور مقرّر ہوئے اور ” الیوم بئس الذین کفروا من دینکم“ کے ذریعہ مسلمانوں کو نسبتاً امن نصیب ہوا نیز ”و رضیت لکم الاسلام دیناً“ کے ذریعے پروردگار کا پسندیدہ دین مسلمانوں میں مستحکم ہوا ۔ البتہ یہ تفسیر ان روایات کے منافی نہیں جن میں کہا گیا ہے کہ سُورہٴ نور کی یہ آیت حضرت مہدی کی شان میں نازل ہوئی ہے کیونکہ”امنوا منکم“ کا ایک وسیع مفہوم ہے جس کا ایک نمونہ غدیر خم کے دن انجام پایا اور پھر ایک وسیع تر سطح پر حضرت مہدی (علیه السلام) کے قیام کے وقت انجام پائے گا ۔ اس بنا پر ”الارض“ آیت میں تمام کرّہٴِ زمین کے لیے نہیں ہے بلکہ اس کا بھی ایک عمومی مفہوم ہے۔ یعنی تمام زمین کے لیے بھے ہو سکتا ہے اور اس کے ایک حصِّے کے لیے بھی ، جیسا کہ قرآن میں مختلف مواقع پر اس لفظ کے استعمال سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات یہ زمین کے ایک حصِّے کے لیے ہے اور بعض اوقات پورے کرّہٴِ ارض کے لیے (غور کیجیئے گا )
📚تفسیر نمونہ
📚1- تفسیر المنار ج۶ ص۱۵۵
2- البتہ یہ اس صُورت میں ہے جب خود روز وفات پیغمبر اور روز غدیر کو شمار نہ کیا جائے۔ نیز تین مہینوں میں یکے بعد دیگری ہر مہینہ ۲۹ دن کا ہو اور ایسا ہونا بالکل ممکن ہے نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ روز غدیر سے پہلے اور بعد تاریخ اسلام میں کوئی ایسا اہم واقعہ رونما نہیں ہوا جس پر مندرجہ بالا تاریخ منطبق ہو سکے۔ اس لیے حتماً غدیر کے علاوہ اس سے کوئی اور دن مراد نہیں۔
3- حضرت عمر کی اس بات کا مطلب ہے : کیا کہنے اے فرزند ابو طالب ! آپ میرے اور ہر مسلمان کے مولا ہو گئے۔
📚4-ان تین روایات کو علامہ امینی مرحوم نے تمام خصوصیات کے ساتھ”الغدیر“کی جلد اول میں ص۲۴۰تا ۲۳۲ میں نقل کیا ہے اور کتاب الحق ج۶ص۳۵۳ میں اس آیت کا واقعہ غدیر میں نازل ہونا ابوھریرہ سے دو طرق کے ساتھ اور ابو سعید خدری سے کٹی طرق سے نقل کیا گیا ہے۔
📚 5- تفسیر بُرہان جلد اوّل اور 📚تفسیر نور الثقلین جلد اوّل میں زیر بحث آیت کے ذیل میں رجوع کریں۔
📚 6- المراجعات جلد چہارم صفحہ ۳۰
———————-
التماس دعا
ارشد اسدی الحسین

اپنا تبصرہ بھیجیں