Akmal Soomro

ڈومینین ریاست کا آمریت سے رشتہ

ڈومینین ریاست نے پاکستان میں آمریت کو کیسے مضبوط کیا؟

حالیہ آئینی بحران دراصل ریاستی بحران ہے جس کی جڑیں 1947ء کے عہد سے ملتی ہیں

ہر چند سال بعد ، پاکستان آئینی عدم استحکام سے دوچار ہوتا ہے، اس عدم استحکام پر جز وقتی تبصرے و مباحثے ہوتے ہیں، لیکن دوبارہ وہی سنگین نوعیت کا مسئلہ درپیش ہوتا ہے جیسا اب پی ڈی ایم حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشمکش کے باعث آئینی عدم استحکام کا سوال زیر بحث ہے۔ ہمیں یہ باور رہنا چاہیے کہ پاکستان میں میں آئینی عدم استحکام، درحقیقت پریٹورین طرز حکمرانی کی طویل تاریخ پر مشتمل ہے جس کی جڑیں نوآبادیاتی عہد میں پیوست ہیں اور پاکستان کے آئینی بحران کو نوآبادیاتی وراثت، قومی سیاسی عمل اور رد نوآبادیات کے عالمی تناظر میں سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ، آل انڈیا مسلم لیگ کی سیاسی جدوجہد کے گرد گھومتی ہے جس میں مسلم لیگ نے مملکت اسلامیہ کا مطالبہ پیش کیا اور برصغیر کے پسماندہ مسلمانوں کے لیے اسلامی دستور، قوانین، اقتصادیات پر مبنی نظم مملکت تشکیل دینے کا عوامی وعدہ کیا۔ کیا اس وعدے پر نئی مملکت کا قانونی، سیاسی، اقتصادی ڈھانچہ تیار کرنے کے لیے مسلم لیگ کی مرکزی قیادت نے ہوم ورک کیا تھا؟ کیا نظم مملکت استوار کرنے کے لیے ضابطے متعین کرنے کا ورکنگ پیپر تیار کیا گیا تھا؟ یہ وہ بنیادی سوال ہے جس پر ہم آج کے اس مضمون میں مکالمہ کریں گے۔

یہ واضح رہنا چاہیے کہ برٹش پارلیمنٹ نے تقسیم ہند کا بل منظور کیا تھا جس کے نتیجہ میں پاکستان بطور ڈومینین ریاست وجود میں آئی اور امور مملکت چلانے کے لیے قانون ہند 1935ء ریاست پاکستان کا عبوری دستور قرار پایا۔ آزاد مملکت میں برطانوی راج کے تمام قوانین و ضابطے نافذ کر کے گورننس سسٹم کا ابتدائی ڈھانچہ مرتب ہوا۔ اٹلانٹک چارٹر سمیت امریکا و برطانیہ کے باہمی معاہدات یہ واضح کرتے ہیں کہ تقسیم ہند کا پراجیکٹ تزویراتی و استعماری منصوبہ تھا جس کا مقصد اس خطے میں مستقبل کے استعماری عزائم کو تحفظ فراہم کرنا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو ڈومینین ریاست کی حیثیت دی گئی تاکہ نوخیز مملکت کا دستوری ڈھانچہ تشکیل دینے کے لیے سٹرٹیجک طاقتوں کی مداخلت برقرار رہے۔ انڈیا نے تو ابتدا میں ہی ریاستی خد و خال کو جمہوری اقدار کے تابع کر لیا تاہم پاکستان غفلت کا شکار رہا جس کا خمیازہ آج ریاست و جمہور بھگت رہے ہیں۔

ریاست پاکستان قائم ہونے کے بعد، یہ معلوم ہوا کہ مسلم لیگ نئی قومی جمہوری ریاست کے ویژن سے ہی نابلد ہے اور جمہوریت کے پاسداری کو تقویت دینے کے برعکس، سیاستدانوں پر پابندیوں کی تلواریں چلا دی گئیں۔ پاکستان ڈومینین ریاست ہونے کے باعث برٹش انڈین قوانین کے تابع تھا۔ یہ برطانیہ کی استعماری حکمت عملی تھی کہ اپنی نوآبادیات کو جزوی آزادی دینے کے لیے ڈومینین کا فارمولہ لاگو کیا اور پاکستان 9 برس تک یعنی 1956ء تک پہلے آئین کی تشکیل تک، ڈومینین ریاست کی حیثیت سے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا تھا۔

ڈومینین کی حیثیت نے پاکستان کو نوآبادیاتی انحصار اور قومی آزادی کے درمیان ایک عبوری آئینی ضابطہ کے تناظر میں کنٹرول کیا جو درحقیقت برطانوی اثر و رسوخ کے دائرے میں تھا۔ ڈومینین آئینی فریم ورک نے پاکستان میں برٹش کراؤن کی مرکزیت اور سیاسی حاکمیت کو قائم کیا۔ نو سالہ ڈومینین عہد نئے دستور کی تشکیل اور پارلیمانی جمہوریت پر پوسٹ کالونیل اثرات پیدا کرنے کا موجب بنا۔ ڈومینین آئینی فریم ورک کے نتیجے میں، پاکستان میں غیر جمہوری و غیرسیاسی گروہ آئینی دائرہ کار میں شامل ہوئے، یوں یہ گروہ نوخیز مملکت میں اپنی جڑیں مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ڈومینین حیثیت نے پاکستان میں آمریت کو دوام بخشا۔

مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کی نا اہلیت کی بنا پر سیاسی طاقت کا ارتکاز ایگزیکٹو کے گرد مرتکز ہوا، قانون سازی کے عمل میں کابینہ کے عہدوں میں غیر آئینی اراکین کی شمولیت میں اضافہ ہوا اور گورنر جنرل کے دفتر کی سیاست نے آئین ساز اسمبلی اور جمہوری نمائندگی کے عنصر کو کمزور کیا جو بالآخر پارلیمانی خود مختاری کے برعکس ایگزیکٹو کی آمریت میں تبدیل ہوئی۔ ڈومینین حیثیت نے پارلیمانی جمہوریت کو کمزور کیا، گورنر جنرل کو برٹش کراؤن کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے آمرانہ اختیارات حاصل ہوئے، آزاد مملکت میں نوآبادیاتی ریاستی گورننس ماڈل نے آمریت کو تقویت بخشی، یوں ڈومینین آئین غیر منتخب ایگزیکٹو اور مقننہ کے درمیان سیاسی تصادم کی فالٹ لائن بن گیا۔

اگرچہ ڈومینین حیثیت نے گورنر جنرل کو پابند بنایا تھا کہ وہ سیاسی فیصلوں میں برٹش کراؤن اور دستور ساز اسمبلی کی کابینہ کے مشورے پر عمل پیرا رہے گا تاہم گورنر جنرل نے ڈومینین دستوری کنونشنز کو مسترد کر کے، آمرانہ راستہ اختیار کیا۔ یہاں میں یہ بھی واضح کر دوں کہ گورنر جنرل کے عہدے کے لیے سیاسی شخصیت کا تقرر خلاف قانون تھا اس کے باوجود محمد علی جناح نے خود کے لئے گورنر جنرل کا عہدہ مختص کیا، دستور ساز اسمبلی اور کابینہ کے صدر کا عہدہ بھی جناح صاحب نے اپنے لیے مختص کر دیا یوں ریاست کی بنیادی اینٹ ہی آئینی خلاف ورزی پر رکھی گئی۔

تقسیم ہند قانون 1947ء اور قانون ہند 1935ء، پاکستان میں لاگو کیا گیا تھا اور اس کی منظوری برٹش پارلیمنٹ نے دی تھی جس پر مسلم لیگ کی مرکزی قیادت بشمول جناح صاحب رضا مند تھے۔ تقسیم ہند کا مسودہ منظوری سے قبل جناح صاحب کو نہ صرف دکھایا گیا تھا بلکہ انھوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سرکاری رہائش گاہ میں بیٹھ کر اس کا مطالعہ بھی کیا تھا، جس قانون کے تحت ریاست پاکستان وجود پذیر ہوئی، خود جناح صاحب اس قانون کو توڑنے کا باعث بنے۔

جناح صاحب کی وفات کے بعد ، مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ خواجہ ناظم الدین پاکستان کے دوسرے گورنر جنرل اور تمیز الدین خان دستور ساز اسمبلی کے صدر بنے۔ ناظم الدین کی گورنر جنرل کے عہدے پر تقرری بھی خلاف قانون تھی کیوں کہ ایک فعال سیاست دان کو اس عہدے پر تعینات نہیں کیا جا سکتا تھا۔ 1951ء میں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد طاقت کے حصول کے لئے میوزیکل چیئر کھیل مزید تیز ہو گیا۔

غلام محمد نے تیسرے گورنر جنرل کی حیثیت سے عہدہ حلف لیا، اور یہ حلف بھی خلاف قانون تھا کیونکہ سول سرونٹ کو گورنر جنرل کے عہدے پر تعینات کرنے کی قانونی ممانعت تھی۔ چوں کہ گورنر جنرل کا عہدہ آمریت کا شاخسانہ تھا، چنانچہ بیوروکریسی اور فوج جمہوری عناصر کے خلاف متحد ہو گئی اور گورنر جنرل کے دفتر کو غیر منتخب گروہ کی طاقت بڑھانے کے لیے یرغمال بنا لیا گیا۔ غلام محمد نے گورنر جنرل کی حیثیت سے، غیر جمہوری عناصر کی پرورش کی۔

پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی کو کمزور کیا گیا اور سیاسی فیصلوں میں ایگزیکٹو کی مداخلتوں کو قانونی جواز اور سہارا مہیا کیا گیا۔ ڈومینین دستور میں اسمبلی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی، کابینہ کے پاس گورنر جنرل کے اختیارات محدود کرنے کا قانونی مینڈیٹ بھی تھا لیکن عملی طور پر گورنر جنرل ہی طاقت کا مرکزہ بن گیا، دستور ساز اسمبلی اور کابینہ کو ثانوی حیثیت دی گئی۔ گورنر جنرل اور دستور ساز اسمبلی کے درمیان اختیارات کی جنگ کے باعث، 24 اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی تحلیل کر دی، یوں جمہوری بحران پیدا کر کے ریاست پاکستان پر بیوروکریسی اور فوج کا شکنجہ مضبوط کیا گیا۔

دستور ساز اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد ، پاکستان میں برطانوی مداخلت میں اضافہ ہوا، اسمبلی ٹوٹنے کے بعد ، برطانوی ماہر قانون آئیور جیننگ کو دستور پاکستان مرتب کرنے کے لیے چیف ڈرافٹس مین کے عہدے پر تعینات کر دیا گیا اور وہ پاکستان کے چیف قانونی مشیر بھی بن گئے، اس سے پہلے برطانوی ماہر قانون سر رابرٹ ڈریٹن اس عہدے پر تعینات تھے اور ڈریٹن اپریل 1954ء تک پاکستان میں اس عہدے پر فائز رہے۔ دستور ساز اسمبلی توڑنے کے آئینی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تین رکنی ٹیم تشکیل دی گئی اور اس ٹیم میں برطانوی ماہرین قانون شامل کیے گئے تھے جس میں Ivor Jenning، Kenneth Diplock اور D۔ N۔ Pritt شامل تھے، اس ٹیم نے ڈومینین آئین کی تشریح کرنا تھی۔

کتنے پاکستانی جانتے ہیں کہ قانونی مشیروں کی اس ٹیم میں شامل کینتھ ڈپلوک برطانوی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کے ساتھ منسلک رہے، ونسٹن چرچل نے جب برطانوی وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تو ڈی جی ایم آئی فائیو کو برطرف کر دیا اور ایم آئی فائیو کو سیکیورٹی ایگزیکٹو کی نگرانی میں سپرد کیا گیا، ایم آئی فائیو کو جس کمیٹی کے ماتحت کیا گیا اس کمیٹی کے ایگزیکٹو سیکرٹری کا عہدہ کینتھ ڈپلوک کے پاس تھا۔ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی سے وابستہ کینتھ ڈپلوک، اب حکومت پاکستان کے لئے خدمات سر انجام دے رہا تھا۔

یہاں اس امر کی نشاندہی بھی ضروری ہے کہ وزارت قانون و پارلیمانی امور میں سیکرٹری کے عہدے پر بھی برطانوی ماہر قانون اور انڈین سول سرونٹ سر ایڈورڈ سنیلسن تعینات تھے، 1951ء سے 1961ء تک وہ پاکستان کے دستور سازی کے عمل میں شریک تھے۔

ماہرین سیاسیات کا ماننا ہے کہ پاکستان میں چیف ڈرافٹس مین سمیت تینوں برطانوی ماہرین قانون کی تقرری سرد جنگ کے پیچیدہ تناظر میں سیاسی نوعیت کی تھی۔ جب آئین ساز اسمبلی کے صدر تمیز الدین نے گورنر جنرل کے غیر قانونی اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا تو سیاستدانوں اور برطانوی ماہرین قانون کے باہمی تعامل پر دو سوالات نے جنم لیا۔

اول: سیاستدانوں کے مفادات، غیر ملکی افراد کے ساتھ کس حد تک جڑے ہوئے تھے؟ دوسرا؛ کیا قانونی چارہ جوئی کے لیے مقرر کردہ برطانوی وکلاء آزادی سے کام کر رہے تھے یا پھر پاکستان کے علاوہ کسی شیڈو کلائنٹ سے رابطے میں تھے؟ دستور ساز اسمبلی تحلیل کرنے کے بعد ، پاکستان پر کنٹرول حاصل کرنے کی داخلی و خارجی عناصر نے جمہوریت کا راستہ تنگ کر دیا۔

یہاں ایک امر قابل غور ہے، پاکستان ستمبر 1954ء میں سرد جنگ میں روس کے خلاف بذریعہ سیٹو، یورپی و امریکی اتحادی بنا جو کہ جنوبی ایشیاء کا واحد رکن ملک تھا، وزیر اعظم محمد علی بوگرہ امریکی دورے سے کراچی واپس پہنچے تو اگلے ہی روز گورنر جنرل غلام محمد نے ایمرجنسی نافذ کر کے دستور ساز اسمبلی تحلیل کی تھی اور گورنر جنرل نے محمد علی بوگرہ کو نئی حکومت بنانے کے احکامات جاری کیے۔

پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سیٹو کا ممبر بننے کے محض ایک مہینے بعد ہی توڑ دی گئی، یوں لگتا ہے کہ محمد علی بوگرہ اور گورنر جنرل اس فیصلے میں ایک ہی پیج پر تھے اور انھیں بیوروکریسی و فوج کنٹرول کر رہی تھی۔ آئیور جیننگ نے اپنے پرائیویٹ پیپرز میں 29 اکتوبر 1954ء میں لکھا کہ قانون ہند 1935ء کے تحت دستور ساز اسمبلی کی تحلیل غیر قانونی و غیر آئینی اقدام تھا تاہم اس غیر آئینی اقدام میں گورنر جنرل کو فوج کی حمایت حاصل تھی اور یہی وجہ تھی کہ دو فوجی افسران ایوب خان اور اسکندر مرزا کو نئی کابینہ میں شامل کیا گیا۔

اسمبلی تحلیل ہونے پر پاکستان کے سیاسی بحران سے متعلق، برطانوی ہائی کمیشن کراچی نے، کامن ویلتھ ریلیشنز آفس لندن کو 17 نومبر 1954ء میں مراسلہ ارسال کیا جو دراصل فوج اور بیوروکریسی کے گٹھ جوڑ کو عیاں کرتا ہے۔ مراسلہ میں لکھا گیا ”گورنر جنرل غلام محمد جمہوریہ پاکستان کے قائل نہیں ہیں، اس کے باوجود اگر پاکستان جمہوریہ بن جاتا ہے تو وہ پہلے صدر بننا چاہتے ہیں اور وہ پاکستان کو طویل مدت کے لئے ڈومینین ریاست رکھنے پر قائل ہیں جبکہ فوج اس خوف میں مبتلا ہے کہ کہیں پاکستان پر ان کی گرفت کم زور نہ ہو جائے“ ۔

برطانوی ماہرین قانون کی ٹیم کو ریاست پاکستان میں قانونی چارہ جوئی کے لئے مقرر کرنے کی اصل وجہ اس وقت سامنے آ گئی جب چیف ڈرافٹس مین آئیور جیننگ نے دستور ساز اسمبلی توڑنے کو گورنر جنرل کا آئینی اقدام قرار دے دیا، آئیور جیننگ کے مطابق قانون ہند 1935ء میں ترامیم کرنا، اسمبلی کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا کیونکہ ترامیم کی منظوری گورنر جنرل سے حاصل کرنا لازم ہے، لہذا اسمبلی تحلیل کرنا گورنر جنرل کا آئینی اقدام ہے۔

آئیور جیننگ نے مزید کہا کہ دستور ساز اسمبلی، آئینی قانون سازی کے لئے انگریزی قانون کی پاسداری کرنے کی پابند ہے کیونکہ گورنر جنرل برٹش کراؤن کا نمائندہ ہے اس لیے قوانین کی منظوری دینے کا حتمی اختیار گورنر جنرل کے پاس ہے۔ عدالت نے بھی آئیور جیننگ کے دلائل کو تسلیم کیا ڈومینین آئین اسمبلی کو مکمل خود مختاری نہیں دیتا اور ڈومینین کی حیثیت سے پاکستان برٹش کراؤن کی وفاداری کا پابند رہے گا۔

پاکستان کو وجود بخشنے کے لئے جدوجہد کرنے والی آل انڈیا مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے سیاسی ویژن کے بانجھ پن کا نتیجہ تھا کہ ریاست میں پریٹورین طرز حکمرانی کو تقویت ملی، دستور سازی کا عمل تعطل کا شکار رہا جس کے باعث غیر جمہوری طاقتوں کو ریاست پر کنٹرول حاصل کرنے کا موقع میسر آیا۔ آزاد مملکت کے دستور کی تشکیل کے لئے سابق نوآبادیاتی حکمرانوں کے وطن سے ماہرین قانون درآمد کرنا، بہت سے سوالات جنم دیتا ہے۔ صرف یہی نہیں، پاکستان کی اقتصادی منصوبہ بندی کے لئے جناح صاحب نے وائسرائے کونسل کے مشیر اقتصادی امور آرچی بالڈ رولینڈ کی تقرری کی، جناح صاحب نے برطانوی برطانوی ماہر وکٹر الفریڈ چارلس ٹرنر کو پاکستان کا فنانس سیکرٹری و بورڈ آف ریونیو کا چیئرمین تعینات کیا، پاکستان سول سروس کا سٹرکچر الفریڈ چارلس نے تشکیل دیا جس پر حکومت پاکستان نے انھیں ستارہ امتیاز سے نوازا۔

مملکت پاکستان میں غیر ملکی مداخلت کا اندازہ لگائیے کہ جناح صاحب نے حکومت برطانیہ کے ٹریژری سے وابستہ کے ایس جیفریز کو پاکستان میں ڈویلپمنٹ آف آرگنائزیشن اور میتھڈ آف ورکس کے لئے ورکنگ پیپر تیا ر کرنے کا ٹاسک سونپ دیا۔ ماؤنٹ بیٹن کی ہدایت پر پاکستان کے صوبوں میں گورنرز کے عہدوں پر انگریز تعینات کیے گئے، پاکستان فوج کی کمانڈ انگریز افسر کو سونپی گئی، گویا ریاست مکمل طور پر انگریزوں کے تسلط میں تھی اور یہی انگریز پاکستان میں پوسٹ کالونیل ڈھانچہ کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہوئے اور پاکستان میں بیرونی مداخلتوں کی جڑوں کو سیراب کیا گیا۔ ڈومینین حیثیت نے پاکستان کی آئینی آزادیوں پر قدغن لگانے، جمہوری تصورات کو ایگزیکٹو کا محتاج بنانے میں کلیدی کردار نبھایا۔

مابعد نوآبادیاتی ریاستی ساخت کا المیہ تھا کہ 26 سال تک مملکت خداداد اسلامیہ دستور کے بغیر چلائی گئی، جنرل ایوب خان کی آمریت، یحییٰ خان کی آمریت اور پھر پاکستان ٹوٹنے کا سانحہ غیر جمہوری طاقتوں کا شاخسانہ بنا۔ 1973ء میں دستور پاکستان نافذ تو ہو گیا لیکن دستور کی تشکیل کرنے والے مرکزی کردار ذوالفقار علی بھٹو کو تختے پر لٹکا دیا گیا، چار سال بعد دستور پھاڑ دیا گیا، مارشل لاء نافذ ہوا، پھر دستور کے تحت مختصر ادوار کی تین جمہوری حکومتیں قائم ہوئیں پھر مارشل لاء نافذ ہوا۔ 2023ء میں یہی دستور پھر سے غیر جمہوری طاقتوں کے درمیان شٹل کاک بنا ہوا ہے اور جمہوری سیاسی جماعتیں سر بازار تماشا دیکھ بھی رہی ہیں، تماشا لگانے والوں کی معاون بھی بنی ہوئی ہیں اور جمہور آٹے کے حصول کے لئے قطاروں میں لگ کر اپنی جانیں گنوا رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں