Tuaseef Qasim Iqbal

تفریحی قید خانے

انسان جب سے وجود میں آئے ہیں تب سے لیکر آج تک آہستہ آہستہ ترقی کرتے آرہے ہیں، انسانوں نے اپنی آسانی کے لیئے، تفریح کے لیئے، اپنے روزمرہ کاموں کو انجام دینے کے لیئے بہت سی اشیاء ایجاد کیں۔
یہاں میں صرف تفریح کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا کیونکہ میری تحریر کا دارومدار اس لفظ تفریح پر ہے۔
تقریباً تمام انسان بچپن سے لیکر بڑھاپے تک تفریح کا شوق رکھتے ہیں اور تفریح حاصل کرنے کے لیئے مختلف علاقوں کی سیر کرتے ہیں اس وجہ سے قدرتی سیاحی مقامات کے ساتھ ساتھ لطف اٹھانے اور سیر و تفریح کی خاطر کچھ مصنوعی مقامات بھی بنائے ہیں۔
جیسے کہ پارک، چڑیا گھر، گارڈنز وغیرہ وغیرہ ، پارک اور دیگر چیزوں کے قیام تک تو بات ٹھیک ہے مگر انسان نے چڑیا گھر بنا کر اپنی خوشی، اپنی دلی تسکین و تفریح کی خاطر جنگلی حیات کو پنجروں میں قید کر دیا اور سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ان بے بس مجبور قید جانوروں کی بے بسی کا تماشہ دیکھنے جاتے ہیں اور لطف اندوز ہوتے ہیں، ان کے پنجروں کے ساتھ تصویریں بناتے ہیں اس چڑیا گھر نامی جیل میں ایسے معصوم اور بے گناہ قیدی قید ہیں جن کا جرم صرف یہ ہے کہ یہ خوبصورت نایاب جنگلی حیات ہیں، ان قیدیوں میں آبی حیات، رینگنے والے جانور، گوشت خور جانور، گھاس پھوس کھانے والے جانور سرفہرست ہیں اور ان جیلوں ( چڑیا گھر ) میں نہ انہیں مکمل طور پر غذا دی جاتی ہے نہ انکی حفاظت کی جاتی ہے اور نہ ہی بہتر طریقے سے انکی افزائش نسل ہوسکتی ہے کیوں کہ چڑیا گھر انکا قدرتی مسکن نہیں ہوسکتے ۔
ایک مثال دیتا ہوں کہ اگر آپ کو کوئی ایک کمرے میں یا پنجرے میں قید کردے اور روزانہ آپکو اچھا کھانا بھی دے آپکی حفاظت بھی کرے آپکو بنیادی سہولیات بھی دے لیکن آپ اس کمرے یا پنجرے میں ساری عمر کے لیئے قید ہوں آپکو باہر جانے کی اجازت نہ دی جائے تو میرے خیال کے مطابق آپ ان تمام سہولیات کو ٹھکرا کر آزادی کو ترجیح دیں گے۔
تو جیسا آپ قید خانے میں تکلیف محسوس کریں گے جانور بھی قید ( چڑیا گھر) میں ایسے ہی دکھی ہوتے ہیں اور تکلیف محسوس کرتے ہیں اور اپنے قدرتی ماحول میں جانے کے لیئے اپنے ساتھیوں سے ملنے کے لیئے بے چین و بے قرار رہتے ہیں بس وہ بے زبان اپنا دکھ بیان نہیں کر سکتے اور ساری عمر آزادی کی حسرت دل میں لیئے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں لیکن آزادی تو انہیں پھر بھی نہیں ملتی کیوں کہ مرنے کے بعد جانوروں کے جسموں کو کیمیکل لگا کر میوزیم میں سجا دیا جاتا ہے اور یوں موت کے بعد بھی وہ قید ہی رہتے ہیں۔
خدارا ان خوبصورت قیمتی اور نایاب جانوروں کو محض اپنی تفریح کے لیئے قید مت کریں، ماریں مت، شکار مت کریں انہیں آزاد پھرنے دیں انہیں بھی جینے کا حق دیں خدا نے انہیں آزاد بنایا ہے انہیں ان کے قدرتی مسکن میں رہنے دیں وہاں یہ خوش رہیں گے اپنے قدرتی ماحول میں رہیں گے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رہیں گے اور انکی افزائش نسل بھی ہوگی۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں