محمد فراز امجد خان

اُمید کی کرن

چند روز سے سن رہی تھے کے بجٹ آرہا ہے۔۔ بجٹ سے پہلے ہر کوئی عام اپنے اند ر ہی اندر بہت سی خوشحالی کی خوش فہمیاں پیدا کرلیتا ہے۔لیکن پھر ایسا کچھ بھی ہوتا نظر نہیں آتا۔جیسا ہر سال ہو رہا ہے اس سال بھی ویسا ہی ہوا ہے۔عام آدمی کی تمام خوش فہمیاں بس اندر ہی اندر ملیا میٹ ہوجاتی ہیں۔۔۔جیسے سادات حسن منٹو نےاپنی ایک کہانی ’نیا قانون‘ میں برٹش گورنمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایاتھا۔۔ جس میں ایک کردار اُستاد منگو کا ہے جو ایک کوچ وان ہے۔ جو ایکٹ1935آنے سے پہلے کسی سے سن لیتا ہے کہ نیا قانون یکم اپریل 1935 کو آنے والا ہے جس سے وہ اپنے اند ر ایک خوش فہمی کو جنم دے دیتا ہے کہ سب کچھ بدل جائے گا۔۔ وہ اس دن کا اتنظار بڑے بیتابی سے کرتا ہے۔یکم اپریل 1935کو وہ اپنے گھر سے بھر پور تیار ہوکر نکلتا ہے اور آوازیں لگاتا ہے کہ سب کچھ بد ل گیا ہے۔۔اب ہم انگریزوں سے آزاد ہیں ۔۔اب ہمیں کوئی انگریز تنگ نہیں کرے گا لیکن اس کی یہ خوش فہمی کچھ زیادہ دیر نہیں رہتی جیسے اب ایک عام پاکستانی کی بجٹ سے لگائی گئی خوش فہمی زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔۔استاد منگو کو اسی دن کسی گورے سے بدتمیزی کرنے پر جیل بھجوادیا جاتا ہے۔۔ اسی طرح ہر عا م پاکستانی حکومت سے مثبت تبدیلی کی اُمید لگائے بجٹ والے دن بہت پُر اُمید ہوتا ہے لیکن جلد ہی تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا جاتا ہے جب اگلے ہی روز تمام ضروریات زندگی کی تمام تر اشیا پر جنرل سیلز ٹیکس کو بڑھا دیا جاتاہے۔۔تو پھر وہ خواب غفلت سے جاگتا ہے اور اسے سمجھ آتی ہے یہ سب تو صرف اشرافیہ کیلیے تھا۔۔ہماری زندگی جیسے پہلے تھی اس سے بھی بد تر ہونے والی ہے۔۔اور یقینا ہر دفعہ پاکستان میں کچھ ایسا ہی ہوتا ہے کہ عام آدمی کو بجٹ کا سامنا شدید قسم کی مہنگائی سے کرنا پڑتا ہے۔۔۔ ہر بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس کے بڑھنے سے عام آدمی بلاواسطہ یا بلواسطہ متاثر ہوتا ہے۔۔ تو اس طرح تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا جاتا ہے۔۔۔اقتصادی سروے کے مطابق حکومت اہداف پورے کرنے میں مکمل ناکام رہی۔۔اب اس ناکامی کا ملبہ بھی عام آدمی کو بھگتنا پڑے گا۔۔جابز والے حضرات کے ساتھ مزدور طبقہ بہت متاثر ہوگا۔۔۔ عوام جو پہلے ہی حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہےہر حال میں زندہ رہنے کیلیے وقت کے حکمرانوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔۔ویسے بھی اب جو حالات ہیں کوئی احتجاج بھی نہیں کرسکتا۔۔
1998 سے آج تک مختلف ادوار میں وزیر خزانہ رہنے والے اسحاق ڈار صاحب آج بھی وہی چورن بیچ رہےہیں جو 26سال پہلے بیچ رہے تھے کہ پاکستان کو صرف ہم ترقی کی راہ پر ڈالیں گے۔۔۔ پاکستان کو تو ترقی کی راہ پر نہ ڈال سکے یہ لوگ لیکن اپنی اور اپنی آنے والی نسلوں کی ترقی کی راہیں بہت خوبصورت انداز میں ہموار کرچکے ہیں۔۔۔پھر انکی ترقی کی راہ میں جو کوئی بھی آیا اسے انھوں نے کچل کر رکھ دیا ۔۔لیکن اپنی ترقی کو اولین فریضہ سمجھا۔۔کاش کے کھبی یہ پاکستان کی ترقی کو بھی اپنی ترقی سمجھ سکتے تو شاید ہم آج ایسے حالات نہ دیکھ رہے ہوتے۔۔خیر یہ سب ایسا ہی چلتا رہے گا۔۔ جیسا 75 سالوں سے چل رہاہے ۔۔ہر ہونے والے جنرل الیکشنز میں پرانے چہروں کے ساتھ ایک نئی پارٹی کا قیام پاکستان کی روایت بن چکی ہے ۔۔ پاکستان کے مستحکم نہ ہونے کی وجہ مستحکم پاکستان اور ان کے مددگار ہیں ۔۔ بس دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو غداروں ،لوٹنے والوں سے محفوظ فرمائے۔۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو

اپنا تبصرہ بھیجیں